?️
لاہور(سچ خبریں)لاہور کی خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت کی توثیق کر دی ہے۔
عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی۔
اسپیشل کورٹ سینٹرل نے منی لانڈرنگ مقدمے میں وزیر اعظم اور وزیر اعلی کی ضمانت پر فیصلہ سناتے ہوئے دیگر ملزمان کی عبوری ضمانتوں کی بھی توثیق کر دی۔
عدالت کی جانب سے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 10، 10 لاکھ روپے جبکہ دیگر ملزمان کو 2، 2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔
قبل ازیں لاہور کی خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
عدالت نے مقدمے کے دیگر ملزمان کی جانب سے دائر ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر بھی فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ ہم نے یا سابق تفتیشی افسر نے کوئی تازہ رپورٹ نہیں لکھی کہ ملزمان کی گرفتاری مطلوب ہے۔
یہ ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ کے بیان سے متصادم ہے جنہوں نے گزشتہ سماعت کے دوران عدالت میں تصدیق کی تھی کہ ایف آئی اے ان رہنماؤں کو گرفتار کرنا چاہتی ہے۔
خصوصی عدالت (سنٹرل ون) کے پریزائیڈنگ جج اعجاز حسن اعوان نے گزشتہ سماعت کے دوران کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں (آج) 11 جون تک توسیع کی تھی، دونوں رہنما آج بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز پر ایف آئی اے نے شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز، ملک مقصود اور طاہر نقوی سمیت 3 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری سے متعلق رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ وارنٹ پر عملدرآمد نہیں ہوسکا کیونکہ سلیمان شہباز اپنے پتے پر موجود نہیں تھے اور بیرون ملک چلے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ ایف آئی اے نے ملک مقصود کی موت کی تصدیق کے لیے متعلقہ ادارے کو خط بھی لکھے۔
سماعت کے دوران یہ بات ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے بھی کہی جنہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایف آئی اے نے ملک مقصود کی موت کے حوالے سے انٹرپول کو خط لکھا ہے۔
بعد ازاں فاضل جج نے ایف آئی اے کو تصدیق شدہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی، جج نے اپنے اسٹاف سے اخبار بھی منگوایا اور ملک مقصود کی وفات سے متعلق اخبار کٹنگ کو فائل کا حصہ بنایا گیا۔
وزیر اعظم شہباز نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میرا حق میں اپنی ضمانت بارے عدالت کو حقائق بتاوں، ایف آئی اے کا کیس بھی وہی کیس ہے جو نیب نے میرے خلاف بنا رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے خلاف آشیانہ ہاؤسنگ سکیم اور رمضان شوگر مل سے متعلق کیسز ہیں، جج نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ کیا ان کاروباروں میں ان کے کوئی شیئرز ہیں؟ وزیر اعظم نے جواب دیا ’میرا کوئی شئیر نہیں ہے‘۔
شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ ’آشیانہ کیس میں میرے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا گیا، میرے کیسز میں لاہور ہائیکورٹ مفصل فیصلہ دے چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب میرے خلاف سپریم کورٹ گیا، اس وقت کے چیف جسٹس نے نیب کی میری ضمانت منسوخی کی درخواست میں کہا کہ کرپشن کے ثبوت کدھر ہیں؟ نیب وہاں سے بھی دم دبا کے بھاگ گیا ۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب کے عقوبت خانے میں تھا، وہاں سے جیل گیا تو ایف آئی اے والے 2 بار میرے پاس آئے، ایف آئی اے سے کہا کہ میں اپنے وکیل سے مشورہ کیے بغیر جواب نہیں دے سکتا، میں نے زبانی ایف آئی اے کو تمام حقائق بتا دیے تھے، میرے کیسز کا میرٹ پر فیصلہ ہوا اور میں باہر آیا۔
انہوں نے کہا کہ عزت ہی انسان کا اثاثہ ہوتا ہے، میرے خلاف انتہائی سنگین الزام لگائے گئے، میں نے درجنوں پیشیاں بھگتیں، ایف آئی اے کی سرزنش ہوئی کہ چالان کیوں پیش نہیں کیا جا رہا، مجھے لگتا ہے کہ ایف آئی اے والے کوئی گرفتاری کا راستہ نکال رہے تھے اس لیے چالان میں تاخیر کی گئی۔
شہباز شریف نے لکہا کہ میں شوگر ملز کا ڈائریکٹر ہوں، نہ مالک ہوں اور نہ ہی شئیر ہولڈر ہوں، میں نے منی لانڈرنگ کرنی ہوتی یا کرپشن کرنی ہوتی تو میں جو فائدہ جائز طریقے سے لے سکتا تھا وہ لے لیتا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے منی لانڈرنگ کر کے منہ کالا کرانا ہوتا تو خاندان کی شوگر ملوں کو نقصان کیوں پہنچاتا، میں نے شوگر ملز کو سبسڈی نہیں دی تاکہ قومی خزانے پر بوجھ نہ پڑے، میں نے یتیموں اور بیواؤں کے خزانے کو انہی پر استعمال کیا، میں نے پنجاب کے خزانے کی حفاظت کی اسے ضائع نہیں کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ میرے بچوں نے ایتھنول کی مل لگائی میں نے اس پر ٹیکس لگا دیا، مل والوں نے بڑا شور مچایا کہ یہ ٹیکس لگا دیا گیا یہ نہیں ہونا چاہیے، پی ٹی آئی کی حکومت نے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔
شہباز شریف نے کہا شوگر کاروبار سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے، خدا کو حاظر ناظر جان کر کہتا ہوں ایف آئی اے نے جتنے بھی فیکٹس بتائے ہیں جھوٹے ہیں، میں نے 12-2011 میں بے روزگار غریب بچے بچیوں کو بولان گاڑیاں دیں، 2015 میں ہم نے 50 ہزار گاڑیوں کا منصوبہ شروع کیا، ہم نے گاڑی کی کمپنی سے ڈھائی ارب روپے رعایت کرائی اور قومی خزانے کو فائدہ دیا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ قیامت آ جائے گی لیکن ایف آئی اے ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکتا۔


مشہور خبریں۔
صہیونی آباد کاروں کے وحشیانہ اغوا کا عینی شاہد بیان
?️ 17 دسمبر 2025سچ خبریں: صیہونی آباد کار برسوں سے فلسطینیوں پر ممکنہ شدید ترین
دسمبر
برطانوی افسرون نے افغانستان میں قتل کے شواہد چھپائے
?️ 12 نومبر 2021سچ خبریں: سبرطانوی وزارت دفاع کی جانب سے سپریم کورٹ کو فراہم
نومبر
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے حق میں ووٹ
?️ 4 جون 2026سچ خبریں: خبر رساں ادارے رویٹرز کے مطابق، امریکی ایوان نمائندگان نے اکثریت
جون
پی ٹی آئی کا عدالتی آزادی کیلئے عوامی تحریک چلانے پر زور
?️ 6 نومبر 2024لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف نے قوم سے مطالبہ کیا ہے
نومبر
چیٹ جی پی ٹی کا مفت استعمال کیسے کریں؟
?️ 26 جون 2023سچ خبریں:اوپن اے آئی کمپنی نے ابتدائی طور پر لانچ کیا جانے
جون
جولان کی بلندیوں کی مکمل آزادی تک صیہونیوں کے خلاف لڑتے رہیں گے:جولان کے باشندے
?️ 14 فروری 2021سچ خبریں:شام میں مقبوضہ جولان کی بلندیوں کے رہائشیوں نے ان علاقوں
فروری
صیہونی ماہر کا حزب اللہ کی طاقت کا اعتراف
?️ 9 اکتوبر 2022سچ خبریں:صیہونی ماہر نے حزب اللہ کی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے
اکتوبر
ہم تباہ ہو رہے ہیں؛صیہونی وزیر اعظم کا اعتراف
?️ 8 جون 2022سچ خبریں:جوبائیڈن کے مقبوضہ علاقوں کے دورے کی منسوخی ان سیاسی مسائل
جون