دیکھنا ہوگا جنگ بندی معاہدے پر کتنا عمل ہوتا ہے، خواجہ آصف

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں گے ورنہ خطے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، خدشات کیخاتمے کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے، آنے والے مہینوں میں دیکھنا ہو گا کہ پاک افغان جنگ بندی معاہدے پر کتنا عمل ہوتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے قطری نشریاتی ادارے کودیئے گئے انٹرویو میں انہوںنے کہاکہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، ترک صدر طیب ایردوان اور ترک وفد کے سربراہ ابراہیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاہدے کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے مسئلے کو ختم کرنا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی برسوں سے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے، گزشتہ ہفتے دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جھڑپ تک پہنچ گیا تھا، دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دہشت گردی کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ممالک دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کریں گے ورنہ خطے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، یہ معاہدہ بنیادی طور پر قطر اور ترکیے کی ثالثی سے ہوا ہے، معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کیلئے ایک اور اجلاس آئندہ ہفتے استنبول میں ہو گا۔

وزیردفاع نے کہا کہ افغان وزیرِ دفاع نے تسلیم کیا کہ دہشتگردی ہی ہمارے تعلقات میں تناؤ کی اصل وجہ ہے، جسے اب قابو میں لایا جائے گا، ایک مؤثر طریقہ کار واضح کیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ مسائل کو حل کیا جا سکے، معاہدے کی تفصیلات پراستنبول میں اتفاق کیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ قطر اور ترکی کی موجودگی اس معاہدے پر بذاتِ خود ضمانت ہے، ہم نے گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے، امید ہے کہ اب امن لوٹے گا اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات معمول پر آجائیں گے، نتیجتاً پاک افغان تجارت اور ٹرانزٹ بھی دوبارہ شروع ہوگی اور افغانستان پاکستانی بندرگاہوں کو استعمال کر سکے گا۔

وزیردفاع نے کہا کہ جن افغان مہاجرین کے پاس قانونی ویزے اور کاغذات ہیں وہ پاکستان میں رہ سکیں گے، افغان مہاجرین کی بڑی تعداد ایسی ہے جس کے پاس کوئی دستاویز نہیں، اس لیے ان کی واپسی جاری رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر کا استعمال بھی باضابطہ ہونا چاہیے، جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہوتا ہے، خدشات کے خاتمے کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ ہم100فیصد مطمئن ہیں، ہمیں آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں دیکھنا ہو گا کہ معاہدے پر کتنا عمل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان صدیوں سے ہمسائے ہیں، جغرافیہ بدلا نہیں جا سکتا، امید ہے کہ اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک اچھے تعلقات کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے، برادر ممالک قطر اور ترکیے کی موجودگی نے ہمیں اعتماد دیا ہے، ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

مشہور خبریں۔

سوڈان میں خانہ جنگی کے ایک ہفتے کے دوران 83 افراد ہلاک، 1126 زخمی!

?️ 17 اپریل 2023سچ خبریں:سوڈان میں خانہ جنگی کے دوران گزشتہ ہفتے کے اندر خرطوم،

وزیراعلیٰ کے خلاف اعتماد کے ووٹ سے قبل اہم پیش رفت کا امکان

?️ 20 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) پنجاب کی سیاست میں گرما گرمی عروج پر پہنچ گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور

پیوٹن کو جرمنی میں گرفتار کیا گیا تو ہم پوری طاقت سے حملہ کریں گے:روس

?️ 23 مارچ 2023سچ خبریں:سینئر روسی اہلکار نے جرمنوں کو پیوٹن کے خلاف کسی بھی

ایران، روس اور چین کا پابندیوں کے خلاف اسٹریٹجک تعاون

?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں:ایران کے پابندیوں سے بچنے کے تجربے، روس کی فوری توانائی

صدر آصف زرداری کا سی ایم ایچ راولپنڈی کا دورہ، فوجی جوانوں، متاثرہ شہریوں کی عیادت

?️ 14 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدر پاکستان آصف علی زرداری کا سی ایم

پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل قومی اسمبلی سے منظور

?️ 7 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل قومی اسمبلی سے

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کے خواہاں ہیں، بلاول بھٹو

?️ 7 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ

لبنان میں دھماکہ ہونے والے پیجرز کس کمپنی کے تھے؟

?️ 18 ستمبر 2024سچ خبریں: تائیوان کی کمپنی گولڈ اپولو نے لبنان میں دھماکہ ہونے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے