?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی پر مبارکباد پیش کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جارہ کردہ بیان کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ٹیلیفونک گفتگو کی اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے متعلق حالیہ ’سہ فریقی مشترکہ بیان‘ کے ذریعے اعلان پر سعودی وزیر خارجہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس مثبت پیش رفت پر سعودی عرب کی قیادت کو سراہا۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹوز زرداری نے کہا کہ یہ معاہدہ پورے خطے میں امن، سلامتی، تجارت اور ترقی کے لیے بامعنی مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار کرے گا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے اور متنوع بنانے کے لیے اپنے باہمی عزم کو دہراہا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے تبادلوں کے اہم کردار پر بھی زور دیا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کے تبادلوں کے اہم کردار پر بھی زور دیا۔
بعدزاں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
دفتر خارجہ کی ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے 10 مارچ کو بیجنگ میں ایران، سعودی عرب اور چین کی طرف سے مشترکہ سہ فریقی بیان پر دستخط پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کو دونوں ممالک کی قیادت کی دانشمندی اور دور اندیشی کا ثبوت قرار دیا۔
وزیر خارجہ نے اس عمل کو آسان بنانے میں چین کے اہم کردار کو بھی سراہا۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ پاکستان کے قریبی برادرانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی تجدید پورے خطے کے لیے امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو بڑھانے کی رفتار کا ذکر کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 7 برس قبل سفارتی تعلقات میں تناؤ آیا تھا، سعودی عرب کا کہنا ہے کہ تعلقات کی بحالی سے سیکیورٹی کو مزید بہتر کیا جاسکتا ہے، تاہم اس سے قبل سعودی عرب نے ایران پر آئل تنصیبات پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا جس کی وجہ سے سپلائی میں خلل پیدا ہوا تھا۔
بعد ازاں ایران نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی جبکہ یمن کے حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
خیال رہے کہ 2016 میں تعلقات کشیدہ ہونے کے بعد مشرقی وسطیٰ کا استحکام شدید متاثر ہوگیا تھا جس کی وجہ سے یمن، شام اور لبنان میں علاقائی تنازعات میں اضافہ ہوا تھا کیونکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف مختلف حربوں کا استعمال شروع کردیا تھا۔


مشہور خبریں۔
امریکہ اور مغربی ایشیا؛ ٹرمپ مشکل کا حصہ ہیں، حل نہیں
?️ 4 دسمبر 2024سچ خبریں: امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل ٹروتھ سوشل
دسمبر
افغان طالبان کی غیر ملکی افواج کو دھمکی
?️ 13 جون 2021سچ خبریں:افغان طالبان نے اس ملک میں غیر ملکی افواج کو دھمکی
جون
نیتن یاہو اسرائیل کی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ بن چکے ہیں: صیہونی میڈیا
?️ 30 مارچ 2023سچ خبریں:اس کارروائی سے نیتن یاہو نے ظاہر کیا کہ وہ ہمارے
مارچ
امریکیوں میں زندگی کی امید میں حیرت انگیز کمی
?️ 25 دسمبر 2022سچ خبریں:امریکی حکومت کی طرف سے شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ
دسمبر
ریاض ٹرمپ اور پیوٹن کے قاتلوں کا محفوظ دارالحکومت
?️ 18 فروری 2025سچ خبریں: العربیہ نے خبر دی ہے کہ روس اور یوکرین کے
فروری
اسرائیلی جنگی طیازوں کے شمال غزہ پر حملے
?️ 21 اگست 2025سچ خبریں: غزہ کے شمال میں واقع جبالیا کے مشرقی علاقے پر
اگست
وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر کے درمیان ملاقات طے
?️ 27 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادی میر
اگست
مشرق وسطی میں اپنی موجودگی کم کرنے کے لئے نئی امریکی پالیسی
?️ 20 جولائی 2021سچ خبریں:حالیہ ہفتوں میں افغانستان سمیت خطے کے ممالک میں پیش آنے
جولائی