حکومت کا قبائلی علاقوں میں ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر غور

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف بی آر  نے وزارت خزانہ کو تجویز دی ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے قبائلی علاقوں میں رہنے والے افراد پر انکم ٹیکس عائد کیا جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف سے نئے بیل آؤٹ پیکج پر معاہدے کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے پاکستان بجٹ 25-2024 میں اربوں روپے کے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے سے متعلق متعدد تجاویز پر غور کررہا ہے۔

اس حوالے سے ایف بی آر نے ٹیکس استثنیٰ کی واپسی کے لیے ایک دستاویز تیارکی ہے جس میں وفاق اور صوبوں کے زیر انتظام سابقہ قبائلی علاقوں میں شہریوں کو حاصل سیلز ٹیکس چھوٹ اور ٹیکس چھوٹ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، تاہم غیر منقولہ جائیدادوں، غیر دستاویزی نان کارپوریٹ کاروباروں، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور تعمیراتی کام پر کم توجہ دی گئی ہے۔

ایف بی آر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ٹیکس چھوٹ کی واپسی بنیادی طور پر سیلز ٹیکس پر مرکوز کی گئی ہے، سیلز ٹیکس چھوٹ کی مجموعی رقم 13 کھرب روپے بنتی ہے جب کہ زیادہ تر ٹیکس چھوٹ پیٹرولیم، خوارک، ادویات اور دودھ کی مصنوعات میں دی گئی ہیں۔

آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے تاہم وفاق یہ قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے 2022 میں پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی وصولی روکتے ہوئے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کے نفاذ کے فیصلے سے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کی روح کو داغدار کیا گیا۔

ایف بی آر کے مطابق مالی سال 2023 کے دوران مختلف ایس آر اوز کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات پر چھوٹ کی لاگت کا تخمینہ 633 ارب روپے لگایا گیا ہے جب کہ رواں مالی سال میں اس لاگت میں نمایاں اضافے دیکھنے میں آئے گا۔

مالی سال 2024 میں پی ڈی ایل کی وصول پورے سال کے 869 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں ابتدائی 9 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 729 ارب روپے رہی، صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس وصولی سے انکار کر دیا گیا کیونکہ پی ڈی ایل ناقابل منتقلی ہے۔

دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کا حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی، جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس چھوٹ جاری رکھی جائے یا وفاقی بجٹ کے لیے اضافی ریونیو حاصل کرنے کے لیے پی ڈی ایل کی حد میں مزید اضافہ کیا جائے۔

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کی چھوٹ کی مد میں دالوں کی درآمد پر 8 ارب روپے، چاول، گندم اور آٹے کی درآمد پر 20 ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ بھی لگایا ہے، یہ چھوٹ واپس لینے کا فیصلہ بھی وفاقی کابینہ کرے گی۔

اس کے علاوہ خوراک کی فراہمی پر سیلز ٹیکس چھوٹ کے اخراجات کے 60 ارب روپے بھی ہیں تاہم ایف بی آر ان میں سے بعض مصنوعات پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کے ذریعے اس استثنیٰ کی لاگت کم کرنے کی کوشش کررہا ہے، جب کہ کیڑے مار ادویات کے سیلز ٹیکس میں چھوٹ کی کل لاگت 17 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ سیکنڈ ہینڈ کپڑوں اور جوتوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کی لاگت 5 ارب روپے اور سی بی یو آٹوموبائلز پر 4 ارب روپے ہے۔

2018 سے فاٹا کو ان کے حقوق سے محروم کرکے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور فاٹا کو سالانہ 100 ارب روپے کی ترقیاتی رقم فراہم کرنے کے بجائے، ایف بی آر نے وزیر خزانہ کو تجویز دی ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے قبائلی علاقوں میں رہنے والے افراد پر انکم ٹیکس عائد کیا جائے۔

مشہور خبریں۔

غزہ پر صیہونی حملوں کے خلاف افغان عوام کا مظاہرہ

?️ 17 اکتوبر 2023سچ خبریں: افغانستان کے عوام نے فلسطین کے نہتے عوام پر غاصب

غزہ کے کھنڈرات سے مزاحمت کا معجزہ

?️ 8 اپریل 2025 سچ خبریں: ممتاز فلسطینی تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اس الیکٹرانک

آئرلینڈ اور اسپین فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار

?️ 23 مارچ 2024سچ خبریں:ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے برسلز میں یورپی یونین کے

سفری ویزا کی چھوٹ کیلئے عراق، پاکستان کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

?️ 6 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور عراق نے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم

ترکی کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر اردوگان کے داماد کا ردعمل

?️ 1 اپریل 2024سچ خبریں: اردوگان کے داماد نے ترکی کے آئندہ صدارتی انتخابات میں

طوفان الاقصیٰ کی منصوبہ بندی کرنے والے ہیرو محمد السنوار کون تھے؟

?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں:حماس کی فوجی شاخ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے

جماعت اسلامی کا آئی پی پی معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

?️ 3 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بجلی کے بلوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے