?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے ایران کے تعاون سے پنجگور میں پاک۔ایران سرحد پر ایک نئی سرحدی راہداری کھولنے کا اعلان کردیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان قانونی تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانے، اشیا کی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی اور دونوں ممالک کی سرحد کے ساتھ مقیم لوگوں کو روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے جاسکیں گے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کوہک چیدگی کے علاقے میں نئے تجارتی راستے سے بلوچستان کے علاقے پنجگور میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) نے پنجگور کے علاقے کوہک چیدگی میں پاکستان اور ایران کے درمیان چوتھا باضابطہ سرحدی کراسنگ پوائنٹ کھولنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔
ٹرانزٹ اور بارڈر ٹریڈ کے سیکریٹری زبیر شاہ کے دستخط شدہ ایک خط میں گوادر کے کلکٹریٹ آف کسٹمز کو پنجگور بارڈر کراسنگ پوائنٹ کے علاقے کوہک چیدگی میں ضروری اقدامات کرنے اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور محکموں کے ساتھ رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ علاقے میں مطلوبہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فوری طور پر یقینی بنایا جا سکے۔
ایف بی آر کے خط میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے پیش رفت رپورٹ بھی پیش کی جائے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے قانونی تجارتی سرگرمیوں کی سہولت کے لیے کوہک چیدگی میں پاک۔ایران سرحد پر نئی سرحدی کراسنگ کھولنے کے اقدام کا بلوچستان کی تاجر برادری نے خیر مقدم کیا ہے۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ایوب میرانی، سینئر نائب صدر حاجی اختر کاکڑ اور چیمبر کے دیگر رہنماؤں نے نئی بارڈر کراسنگ کا خیر مقدم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کراسنگ پوائنٹ کا قیام بلوچستان کے تاجروں کا دیرینہ مطالبہ تھا اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے اس بارڈر کراسنگ کو کھولنے کے لیے مختلف فورمز پر کوششیں کی گئیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اس نئے تجارتی روٹ کے افتتاح کے نوٹی فکیشن کے اجرا کے بعد اب دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ تجارت شروع ہو جائے گی جس سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
مزید برآں، نئی بارڈر کراسنگ کھولنے سے قانونی درآمد اور برآمدی کاروبار سے وابستہ تاجروں کو سہولت ملے گی اور دونوں ممالک کے درمیان سامان کی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
دسمبر میں، پاکستان اور ایران نے تجارت اور عوام سے عوام کے تبادلے کو بڑھانے کے لیے گبد۔رمدان بارڈر کراسنگ کا افتتاح کیا تھا۔
ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان میں رمدان اور پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے گبد کے درمیان سرحدی کراسنگ پوائنٹ ایرانی بندرگاہ چابہار سے تقریباً 120 کلومیٹر اور گوادر بندرگاہ سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس موقع پر دفتر خارجہ نے وضاحت کی تھی کہ اس گبد۔رمدان اور دیگر مجوزہ سرحدی کراسنگ پوائنٹس کا مقصد ’عوام سے عوام کے رابطوں‘ کو بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان سفر اور تجارت کو آسان بنانا ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’گبد۔رمدان کراسنگ پوائنٹ کو کھولنے پر پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف سطحوں پر بات چیت ہوئی ہے۔‘


مشہور خبریں۔
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے طور پر اپنے دور کی پہلی سالگرہ کے موقع پر شیخ نعیم قاسم کا المنار کے ساتھ جامع انٹرویو
?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں:شیخ نعیم قاسم آج رات حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کے
اکتوبر
غزہ انتظامی کمیٹی امریکی استعماری شکنجے میں ’’امن کونسل‘‘ اصل رکاوٹ بن گئی
?️ 8 فروری 2026غزہ انتظامی کمیٹی امریکی استعماری شکنجے میں،’’امن کونسل‘‘ اصل رکاوٹ بن گئی
فروری
کیا ڈالر کا مقدر پھوٹنے والا ہے؟
?️ 18 اگست 2023سچ خبریں: سابق امریکی صدر نے دنیا میں ڈالر کی گرتی ہوئی
اگست
ارتھ آور: پنجاب میں ایک گھنٹے کیلئے لائٹس آف مہم چلانے کا اعلان
?️ 27 مارچ 2026لاہور (سچ خبریں) ارتھ آور کے سلسلہ میں حکومت پنجاب نے صوبہ
مارچ
کسی بھی کشیدگی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں: حزب اللہ
?️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:لبنانی حزب اللہ کے ایگزیکٹو بورڈ کے سربراہ نے خبردار کیا
جنوری
نصف امریکی بائیڈن کی خارجہ پالیسی سے ناخوش
?️ 18 اگست 2022سچ خبریں: ان انتخابات کے تسلسل میں جو اس ملک کے
اگست
جولانی حکومت کا اسرائیل کے سامنے کمزور مؤقف؛ مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کا امکان
?️ 23 اگست 2026سچ خبریں:جولانی حکومت کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے صیہونی حملوں کے
اگست
پاکستان کا بھارت کو سخت انتباہ
?️ 7 اکتوبر 2025سچ خبریں:پاکستان کے فوجی ترجمان نے بھارت کے حکام کی حالیہ خطرناک
اکتوبر