حکومت آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرے گی، وزیراعظم شہباز شریف

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی سربراہ سے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ادارے کی قرض سے متعلق شرائط مکمل کی جائیں گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کو گزشتہ روز فون میں آئی ایم ایف کی شرائط مکمل کرنے سے متعلق حکومت کے عزم سے آگاہ کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے پاکستان کی معاشی مشکلات سے بھی آگاہ کیا خاص کر سیلاب کے بعد درپیش مشکلات بتائیں‘۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کا وفد بہت جلد پاکستان آئے گا‘۔

آئی ایم ایف کی سربراہ سے وزیراعظم کی بات ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب ملک کی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے اور خدشات بڑھتے جارہے ہیں جہاں قومی ذخائر تین ہفتوں کی درآمدات کے لیے ہی کافی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز بھی ہزارہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر قرض توسیعی سہولت کا نواں جائزہ لینے کے لیے دو سے تین دن میں پاکستان آئے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ 2019 میں 6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا اور گزشتہ برس اس میں مزید ایک ارب کا اضافہ کردیا گیا تھا۔

آئی ایم ایف کے نویں جائزے کے بعد پاکستان کو 1.18 ارب ڈالر جاری ہوں گے جو التوا کا شکار ہیں، ابتدائی طور پر دو ماہ تک مسلم لیگ (ن) کی سربراہی میں وفاقی حکومت کی جانب سے عالمی ادارے کی مخصوص شرائط ماننے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور اختلاف تاحال ختم نہیں ہوسکا ہے۔

ملک کو اس وقت غیرملکی زرمبادلہ کی کمی کا مسئلہ درپیش جہاں اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 8 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں اور 30 دسمبر 2022 کو ختم ہونے والے ہفتے میں 5.576 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔

حکومت کے پاس بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے دوست ممالک سے مزید ادھار لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں تیزی سے کمی کے سلسلے کے باوجود وفاقی وزیرخزانہ اسحٰق ڈار پرامید ہے کہ دوست ممالک کے وعدوں کے تحت مالی مدد مل جائے گی اور صورت حال تبدیل ہوگی لیکن دوست ممالک کی جانب سے تاحال کوئی رقم نہیں دی گئی۔

دوسری جانب ہفتے کے دوران بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے باعث اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مزید 24 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔

وفاقی حکومت کے لیے سود کی ادائیگی کا مسئلہ بدترین مسائل کا باعث بن رہا ہے اور اسی لیے ڈیفالٹ کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ آئی ایم ایف سے نئی قسط کے اجرا کے لیے مذاکرات کی کوششیں تاحال سود مند ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔

قومی ذخائر میں کمی کے باعث ملک کی کرنسی کی قدر بھی ڈالر اور دیگر غیرملکی کرنسیوں کے مقابلے میں انتہائی گر چکی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے پاس جنوری 2022 میں 16.6 ارب ڈالر کے ذخائر تھے جو 11 ارب ڈالر کم ہو کر 5.6 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔

مشہور خبریں۔

اقوام متحدہ: غزہ کٹے ہوئے بچوں کا سب سے بڑا گروپ ہے

?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر

کیا اسرائیل جنگ بندی پر راضی ہو گا ؟

?️ 21 نومبر 2023سچ خبریں:Yediot Aharanot اخبار نے ایک نوٹ میں اعتراف کیا ہے کہ

انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کاعید الفطر کی نماز عیدگاہ سرینگر میں ادا کرنے کا اعلان

?️ 30 مارچ 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

80 فیصد چینیوں کی نظر میں امریکہ یوکرین کی جنگ کا اصل مجرم

?️ 28 مئی 2023سچ خبریں:سنگھوا یونیورسٹی کے سینٹر فار انٹرنیشنل سیکیورٹی اینڈ اسٹریٹجی کے سروے

بلوچستان: ژوب میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک، سپاہی شہید

?️ 25 دسمبر 2022بلوچستان:(سچ خبریں) بلوچستان میں ضلع ژوب کے علاقے سمبازا میں سیکیورٹی فورسز

حکومت مخالف جماعتوں کا اہم اجلاس، آئین بحالی کیلئے ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ

?️ 11 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت مخالف جماعتوں کے اتحاد کے اہم اجلاس

ٹرمپ کے متنازع انتخاب سے شام میں امریکی غلطیوں تک؛عربی اخباروں کی سرخیاں

?️ 24 نومبر 2024سچ خبریں:نئے امریکی صدر کے حساس عہدوں کے لیے متنازع شخصیات کی

پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے عدالتی تحفظ کی خواہاں، حکومت کا عدم اعتماد

?️ 21 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومتی اراکین اور اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے