?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی آج پھر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی آج پھر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں کل پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے کی، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل گوہر علی خان اور الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز سیشن عدالت میں پیش ہوئے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی آج حاضری سے استثنٰی کی درخواست دائر کر دی گئی۔
وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے چار وکلا ہیں، وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔
عمران خان کے وکیل گوہر علی نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل صرف پوائنٹ اسکورنگ کر رہے ہیں۔
وکیل گوہرعلی خان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے سینئیر وکیل خواجہ حارث ہیں، وکیل گوہر علی خان نے سماعت 10 جولائی تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی۔
وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، ان کے وکلا کی نیت ہی دلائل دینے کی نہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے مؤقف اپنایا کہ خواجہ حارث کی کوئی عدالتی مصروفیات نہیں۔
سیشن جج نے کل خواجہ حارث کو عدالت میں پیش ہونے کی دوبارہ ہدایات جاری کر دیں اور چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز عدالت نے توشہ خانہ کیس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں آج ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
خیال رہے کہ 4 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس میں اس نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی جانب سے توشہ خانہ کیس کو ناقابل سماعت قرار دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
گزشتہ برس اگست میں حکمران اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔
ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔
آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔
عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔
بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔
جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم ادا کر کے خریدا۔
اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔
بعد ازاں 21 اکتوبر 2022 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے عمران خان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 کی شق ’ایک‘ کی ذیلی شق ’پی‘ کے تحت نااہل کیا جبکہ آئین کے مذکورہ آرٹیکل کے تحت ان کی نااہلی کی مدت موجودہ اسمبلی کے اختتام تک برقرار رہے گی۔
فیصلے کے تحت عمران خان کو قومی اسمبلی سے ڈی سیٹ بھی کردیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ سنانے کے بعد کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا ریفرنس عدالت کو بھیج دیا تھا، جس میں عدم پیشی کے باعث ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ 10 مئی کو توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم پر فرد جرم بھی عائد کردی گئی تھی۔


مشہور خبریں۔
سپریم کورٹ میں قومی احتساب آرڈیننس میں ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت
?️ 19 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قومی احتساب
جولائی
اسٹاک ایکسچینج میں 6 سال بعد 51 ہزار پوائنٹس کی حد عبور
?️ 23 اکتوبر 2023کراچی: (سچ خبریں) گزشتہ ہفتے 6 سال بعد 50 ہزار کی حد
اکتوبر
ریاض و ابوظبی یمن میں اپنے کارندوں کے درمیان تناؤ کم کرنے میں ناکام
?️ 15 دسمبر 2025سچ خبریں:عرب سعودی اور اماراتی فوجی مشن یمن میں اپنے حامی افراد
دسمبر
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے عالمی دباؤ؛ اسرائیل کی تنہائی مزید گہری ہو رہی ہے
?️ 19 ستمبر 2025سچ خبریں: ستمبر 2025 کو ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی
ستمبر
انسانی حقوق کا تحفظ اور فروغ مسلم لیگ (ن) کا وژن ہے: مریم نواز
?️ 10 دسمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ
دسمبر
چین یوکرین جنگ میں کس فریق کو اسلحہ فراہم کرتا ہے؟
?️ 14 جون 2024سچ خبریں: چین یوکرین کی جنگ کے کسی بھی فریق کو ہتھیار
جون
روس کا 27 یوکرینی ڈرون اور 2 میزائل تباہ کرنے کا دعوی
?️ 24 نومبر 2024سچ خبریں:روس کے مقامی حکام نے اعلان کیا ہے کہ کورسک کے
نومبر
رات بھر کی کارروائی میں یوکرائن کے 93 اہداف کو تباہ کر دیا گیا: ماسکو
?️ 11 مئی 2022سچ خبریں: ماسکو نے یوکرین کی مسلح افواج میں ہلاکتوں کے نئے
مئی