لاہور: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے توشہ خانہ کے تحائف کی خریداری کے حوالے سے تازہ انکشافات کے جواب میں قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
عمران خان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ’کل جیو اور اینکرپرسن شاہزیب خانزادہ نے ہینڈلرز کے تعاون سے ایک مشہور دھوکے باز اور عالمی سطح پر مطلوب مجرم کی جانب سے تیار کی گئی بے بنیاد کہانی کے ذریعے مجھ پر بہتان لگایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بس اب بہت ہوچکا، میں نے اپنے وکلا سے بات کی ہے اور جیو، شاہزیب خانزادہ اور جعلساز (عمر ظہور) کے خلاف نہ صرف پاکستان بلکہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں بھی مقدمے کا فیصلہ کیا ہے۔
قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کےرہنما فواد چوہدری نے بھی اعلان کیا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم عمر ظہور کے خلاف دبئی میں قانونی کارروائی کا آغاز کر رہے ہیں اور لندن میں جنگ گروپ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر رہے ہیں۔
فواد چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جب سعودی عرب کے بادشاہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے عمران خان کو گھڑی تحفے میں دی تھی، جس کے بعد دفتر خارجہ کے چیف آف پروٹوکول افسر نے تحفے کو قانون کے مطابق توشہ خانہ کے حوالے کردیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت سے قبل تحفے کی قیمت 20 فیصد ادا کی جاتی تھی لیکن ہم نے قانون تبدیل کرکے 50 فیصد مقرر کی، کابینہ نے گھڑی کی قیمت 10 کروڑ روپے مقرر کی تھی جس کے بعد عمران خان نے گھڑی کی قیمت 50 فیصد ادا کرکے فروخت کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے پاکستانی مارکیٹ میں 5 کروڑ 70 لاکھ روپے میں گھڑی فروخت کی تھی اور ساتھ میں ٹیکس بھی ادا کیا جبکہ انہوں نے اپنے گوشواروں میں بھی یہ قیمت ظاہر کی تھی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ نجی ٹی وی چینل میں عمر ظہور نامی آدمی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے انہیں گھڑی فروخت کی ہے لیکن عمر ظہور نام کے کسی شخص کو گھڑی فروخت نہیں کی اور نہ ہی گھڑی کو فروخت کرنے کے لیے فرح گجر کے حوالے کیا گیا اور نہ ہی ان کا عمر ظہور سے کوئی تعلق ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ گھڑی کی قیمت کا تعین گلی کے ایک دکان سے کرایا گیا، عمر ظہورکی فیملی ناروے میں رہتی تھی، ان کے چار میں سے تین بھائی جرائم کی کیسز میں ناروے کی جیل میں قید ہیں، عمر ظہور پر منی لانڈرنگ کا کیس ہوا جس کے بعد وہ ناروے سے فرار ہو کر دبئی میں رہنے لگے، دبئی میں بھی ان کی سرگرمیاں مشکوک ہیں، بعد میں وہ پاکستان آئے اور ماڈل صوفیہ مرزا سے شادی کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمر ظہور نے پاکستان میں اپنی بیگم اور بیٹی کو 10 لاکھ روپے مہینہ دینے سے انکار کردیا تھا، عمر ظہور اپنی فیملی کے ساتھ جعلی کاغذات کے ذریعے پاکستان سے دبئی گئے، شہزاد اکبر کی عمر ظہور سے طویل مخاصمت رہی ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں پاکستانی کے وزیر داخلہ انہیں پاکستان میں بلانا چاہتے تھے، لیکن وہ نہیں آئے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ رواں سال جب (ن) لیگ کی حکومت آئی تو اس کے فوری بعد شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کے خلاف تھانے کوہسار میں مقدمہ درج ہوا، اور عمر ظہور کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا جس کے بعد انہوں نے نجی ٹی وی میں آکر انٹرویو دیا۔
انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم عمر ظہور کے خلاف دبئی میں قانونی کارروائی کا آغاز کر رہے ہیں اور لندن میں جنگ گروپ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر رہے ہیں، کیونکہ پاکستان میں ارشد شریف اور سینیٹر اعظم سواتی کے ساتھ حالیہ واقعات کے بعد پاکستان کے عدالتی نظام میں اعتماد نہیں رہا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے کہا کہ جس ڈیلر کو ہم نے 5 کروڑ 70 لاکھ میں گھڑی فروخت کی، ہماری اطلاعات کے مطابق اس ڈیلر نے عمر ظہور کو 6 کروڑ 10 لاکھ میں فروخت کی ہے، ہم ڈیلر کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ حراست کے خوف سے ملک سے فرار ہو کر دبئی میں مقیم ہیں، ہم ان سے اس حوالے سے جلد رابطہ کریں گے، جس کے بعد حقائق سامنے لائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمر ظہور کے پاس گھڑی خریدنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے، عمر ظہور کا نام 15 اکتوبر کو ای سی ایل سے نکالا گیا جس کے بعد انہوں نے ایک مہینے کے اندر اندر میڈیا کے سامنے انٹرویو دیا۔
اس کے علاوہ پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بھی پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ عمر ظہور کا اچانک میڈیا کے سامنے گھڑی فروخت کرنے کا بیانیہ ارشد شریف کیس سے منسلک ہے، ارشد شریف نے عمر ظہور کے خلاف بھی ٹوئٹس کی تھیں، کئی ممالک میں عمر ظہور کے خلاف کیسز درج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ارشد شریف کے خلاف تحقیقات میں عمر ظہور سے بھی تحقیقات کرنی چاہیے، اس سازش کے پیچھے کونسی طاقتور قوتیں ہیں ہمیں سب معلوم ہے، شہباز شریف کو عمران خان کے خلاف کچھ نہ ملا تو ایک مجرم کو عمران خان کے خلاف الزمات لگانے کا کہہ دیا، ہمیں افسوس ہے کہ ریاست اس سطح پر آجائے گی، پاکستان کا مذاق بنایا جارہا ہے، ریاست اپنی خود تباہی کر رہی ہے۔