بھارت نے بغیر اطلاع دریائے چناب میں پانی چھوڑ دیا، ہیڈ مرالہ کے مقام پر بڑے سیلاب کا خدشہ

?️

پنجاب: (سچ خبریں) بھارت نےایک بار پھر دریائے چناب میں چھوڑ دیا، جس سے ہیڈ مرالہ کے مقام پر بڑے سیلاب کا خدشہ ہے، پنجاب کے تینوں دریاؤں میں بدترین سیلابی صورتحال برقرار ہے جس کے باعث اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جب کہ صوبے میں سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 33 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، آج رات ملتان سے بڑا ریلا گزرے گا۔

بھارت نے ایک مرتبہ پھر دریائے چناب میں پانی چھوڑ دیا، بھارت نے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے جس سے دریائے چناب میں ایک مرتبہ پھر ہیڈ مرالہ کے مقام پر بڑے سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ذرائع محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے گیٹ کھولنے سے 8 لاکھ کیوسک کا ریلا پاکستان پہنچے گا۔

بھارت نے چند روز قبل بھی 9 لاکھ کیوسک کا سلابی ریلا چھوڑا تھا، تاہم اس وقت دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریا اس معمول کے مطابق بہہ رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم سے پانی چھوڑنے کی باضابطہ اطلاع نہیں دی۔

دوسری جانب ڈان نیوز کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچادی ہے، ہر طرف مکانات، راستے، سڑکیں گھر سب سیلابی پانی میں ڈوبے نظر آرہے ہیں جب کہ مختلف علاقوں سے لاکھوں لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔

دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر مسلسل دوسرے روز بھی شدید سیلابی صورتحال ہے جب کہ دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا مسلسل چوتھے روز بھی اسی صورتحال سے دوچار ہے۔

لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح مسلسل کم ہونے لگی، دریائے راوی میں 78 ہزار کیوسک ریلا گزر رہا ہے۔

دریائے چناب کا بڑا ریلا آج رات ملتان سے گزرنے کا امکان

دریائے چناب کا سیلابی ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ میں تباہی مچانےکے بعد جھنگ میں داخل ہوگیا۔

جھنگ میں بڑا آبی ریلا داخل ہونے سے 200 کے قریب دیہات زیر آب آگئے، سیکڑوں گھر پانی میں ڈوب گئے جب کہ 2 لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور فصلیں تباہ ہوگئیں۔

دریائے چناب کا بڑا ریلا آج رات ملتان سے گزرنے کا امکان ہے، شہر کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا روڈ پر ڈائنا مائٹ نصب کردیے گئے جب کہ ضرورت پڑنے پر بارودی مواد سے شگاف ڈالا جائے گا۔

منڈی بہاوالدین میں ہیڈ قادرآباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی سطح بلند ہورہی ہے جب کہ سیلاب سے پھالیہ کے 140 سے زائد دیہات اور کچی بستیاں ڈوب گئیں۔

کبیر والامیں سیلابی پانی مختلف علاقوں میں داخل ہوگیا، لوگ پریشانی کی حالت میں سیلابی ریلے کو دیکھ رہے ہیں، لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے منتقل کیا جارہا ہے۔

پنجاب میں ڈسٹرکٹ انتظامیہ سیلاب متاثرین کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل تھرمل ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے، تھرمل ڈرون کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ افراد کو ڈھونڈ کر ریسکیو کیا جا رہا ہے۔

پنجاب کے 15 اضلاع میں ہائی الرٹ جاری

سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’غیر معمولی‘ سیلابی صورتحال کے پیش نظر پنجاب کے درج ذیل 15 اضلاع کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

جھنگ، ملتان، مظفرگڑھ، اوکاڑہ، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد، تاندلیانوالہ، خانیوال، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، بہاولپور، راجن پور، رحیم یار خان۔

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ صوبے میں حالیہ سیلاب کے باعث 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے ساڑھے 7 لاکھ کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 5 لاکھ سے زائد مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جب کہ اس وقت حکومت پوری طرح الرٹ ہے اور انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

#سیالکوٹ میں تعلیمی ادارے 5 ستمبر تک بند سیالکوٹ میں تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے یکم ستمبر سے 5 ستمبر تک سیلاب کے پیش نظر بند رہیں گے.

ڈپٹی کمشنر سبا اسغر علی کے دفتر کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے ’طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے‘ بند رکھے جائیں گے۔

دوسری جانب، لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت پنجاب کے اعلان کے مطابق لاہور کے تمام اسکول کل سے کھل جائیں گے، سوائے ان اسکولوں کے جو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں واقع ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور کے تمام اسکول یکم ستمبر 2025 کو دوبارہ کھلیں گے، سوائے ان اداروں کے جو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں واقع ہیں یا اس وقت بطور فلڈ ریلیف کیمپس استعمال ہو رہے ہیں۔

سرکاری اسکول عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل

دریائے راوی کے اطراف کی بستیوں میں واقع سرکاری اسکولوں کو گزشتہ چند دنوں سے سیلاب زدہ علاقوں سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

کلاس رومز کے اندر بلیک بورڈ اور بینچوں کی جگہ گدے، کپڑوں کے بنڈل اور برتن رکھے ہیں، یہ وہ مختصر سامان ہے جو لوگ پانی کے گھروں اور کھیتوں کو نگل جانے سے پہلے بچانے میں کامیاب ہوئے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سیلاب سے متاثرہ پنجاب کے 6 اضلاع میں ریلیف راشن کی فراہمی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ’این ڈی ایم اے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے‘۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ این ڈی ایم اے نے آج اپنی وسائل سے 8 ٹرکوں پر مشتمل ایک قافلہ وزیرآباد اور حافظ آباد کے لیے ریلیف راشن کے ساتھ روانہ کیا ہے، ایک راشن بیگ کا وزن 46 کلو گرام ہے اور اس میں 22 اشیا شامل ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق ناروال اور سیالکوٹ میں ریلیف سامان پہنچا دیا گیا ہے جب کہ چنیوٹ اور جھنگ کے لیے سامان آئندہ دنوں میں روانہ کیا جائے گا۔

’پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن کیا گیا‘

اس سے قبل، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ پنجاب میں سیلاب سے اب تک 33 افراد جاں بحق جب کہ 20 لاکھ افراد اور 2200 دیہات متاثر ہوئے۔

عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ پنجاب کے تینوں دریاؤں میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے اور اب تک 7 لاکھ افراد نے متاثرہ علاقوں سے انخلا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ستلج میں قصور کے مقام پر پانی کم ہورہا ہے جب کہ ہیڈ سلیمانکی پر پانی بڑھ رہا ہے اور ایک لاکھ 54 ہزار کیوسک پانی موجود ہے اور شام تک یہاں پانی کی سطح عروج پر ہوگی، انہوں نے خبردار کیا کہ ہیڈسلیمانکی اور ہیڈ اسلام کے اطراف دیہات متاثر ہوسکتے ہیں۔

عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی میں کل تک ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک پانی پہنچےگا، ستلج اور چناب کا پانی 2 ستمبر کو ملےگا، تریموں ہیڈورکس پربہاؤ میں ایک لاکھ کیوسک کا اضافہ ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ کم ہو گیا ہے تاہم ستلج اور راوی کا پانی مزید دیہات کو متاثر کرے گا جبکہ دریائے چناب کا پانی مظفرگڑھ ملتان کو متاثر کرے گا۔

دوسری جانب، اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد ضلع قصور میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد ضلع قصور میں ہیڈ بلوکی کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے پر تھے کہ اس دوران انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد کے انتقال پر گہرے غم اور افسوس کا اظہار کیا۔

غذر کو بڑھتے ہوئے سیلابی خطرے کا سامنا

ادھر گلگت بلتستان میں صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے غذر میں برفانی گلیشیئر کے زیادہ پگھلنے کے خطرے کا الرٹ جاری کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ یٰسین ویلی کے ڈارکوت اسٹیشن پر درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت غذر کے بالائی علاقوں میں گلیشیئر کے زیادہ پگھلنے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے برفانی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف)، نالوں اور چشموں میں اچانک آنے والے سیلاب اور نشیبی بستیوں کے زیرِ آب آنے کا خطرہ ہے۔

مقامی رہائشی گل شیر نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ ان دیہات میں لوگ خیموں میں بغیر بنیادی سہولتوں کے زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں اور ہمارے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے، کیوں کہ اسکول تباہ ہو گئے ہیں اور ان اداروں تک جانے والی سڑکیں بند ہیں۔

مشہور خبریں۔

لاہور کے بعد کراچی کی فضا انتہائی مضر صحت قرار، دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پانچواں نمبر

?️ 19 نومبر 2024کراچی: (سچ خبریں) کراچی اور لاہور کی فضا انتہائی مضر صحت رپورٹ

بھارت مکار اور بزدل دشمن ہے جو مار سے ڈرتا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ

?️ 3 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے

جنرل عاصم منیر کا بیان کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی عکاسی کرتا ہے، حریت کانفرنس

?️ 2 مئی 2023سرینگر: (سچ خبریں)کل جماعتی حریت کانفرنس نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل

ملک کیسے ترقی کرے گا؟: بیرسٹر سیف

?️ 1 جولائی 2024سچ خبریں: خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کا کہنا ہے

اسرائیلی آرمی چیف کا اعتراف، غزہ کی جنگ مہنگی پڑی

?️ 22 جولائی 2025اسرائیلی آرمی چیف کا اعتراف غزہ کی جنگ مہنگی پڑی  اسرائیلی فوج

شام میں اسرائیلی حکومت کے خطرے پر ترک تجزیہ کاروں کے خیالات

?️ 20 جولائی 2025 سچ خبریں:  ترکی کے ایک تجزیہ کار کا شام کی حالیہ

جولانی شام کو دوسرا افغانستان بنا دے گا

?️ 28 جولائی 2025جولانی شام کو دوسرا افغانستان بنا دے گا شام میں جاری سیاسی

وکیل جبران ناصر کے ’اغوا‘ کے خلاف مقدمہ درج

?️ 2 جون 2023کراچی: (سچ خبریں) معروف وکیل اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے