?️
باجوڑ: (سچ خبریں) باجوڑ اور مہمند کے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے عمائدین نے پیر کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے اسے ’سب کا دشمن‘ قرار دیا، تاہم انہوں نے قبائلی علاقوں میں کسی بھی قسم کے فوجی آپریشن اور جبری بے دخلی کی سخت مخالفت کی۔
ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق یہ مشاورتی جرگہ صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر غور کے لیے بلایا گیا تھا، جس کی صدارت خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے کی، یہ جرگہ 24 جولائی کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کے تسلسل میں دوسری اہم نشست تھی۔
اس سے قبل 2 اگست کو وزیر اعلیٰ کی صدارت میں پہلا جرگہ اورکزئی، خیبر، درہ آدم خیل (کوہاٹ) اور حسن خیل (پشاور) کے عمائدین کے ساتھ منعقد کیا گیا تھا، جس میں بھی فوجی کارروائیوں اور جبری نقل مکانی کو یکسر مسترد کیا گیا تھا۔
شرکانے استفسار کیا تھا کہ کیا کوئی تحریری ضمانت دی جا سکتی ہے کہ فوجی آپریشن کے بعد دہشت گردی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی اور آئندہ اس طرح کی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
پیر کو جرگے میں وزیر اعلیٰ کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر نورالحق قادری، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، متعلقہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق شرکا نے باجوڑ اور مہمند اضلاع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی اور مختلف تجاویز پیش کیں، انہوں نے امن کے قیام سے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت سے امن چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں۔
عمائدین نے کہا کہ دہشت گردی تمام طبقات کی دشمن ہے اور اسے جڑ سے ختم کرنا ناگزیر ہے، تاہم اس کے لیے فوجی آپریشن اور جبری بے دخلی جیسے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، قبائلی عمائدین اور تمام متعلقہ فریقین پر مشتمل ایک بااختیار اور جامع جرگہ تشکیل دیا جائے، جو افغان حکومت اور عوام سے بامقصد مذاکرات کرے تاکہ دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔
شرکا نے مقامی سطح پر جرگوں کے انعقاد کو خوش آئند قدم قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ان جرگوں کو مؤثر بنایا جائے تاکہ ان کے نتائج دیگر علاقوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں۔
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے جرگے کے دوران شرکا سے دریافت کیا کہ کیا دہشت گردی کے خلاف فوجی کارروائیوں کے علاوہ بھی پائیدار امن کے لیے کوئی متبادل راستے موجود ہیں؟


مشہور خبریں۔
ایران جنگ میں ہمارے پاس گولہ بارود ختم ہو گیا ہے: سینیٹر کلی
?️ 11 مئی 2026 سچ خبریں: مارک کلی نے امریکی-صہیونی کے ایران کے خلاف غیرقانونی
مئی
وینزویلا کے صدر کا دورہ سعودی عرب
?️ 5 جون 2023سچ خبریں:وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اپنی کابینہ کے وزراء پر مشتمل
جون
فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں پر صہیونی رپورٹر کی حیرت
?️ 15 مئی 2024سچ خبریں: ایک صیہونی صحافی نے غزہ سے ہونے والے راکٹ حملوں
مئی
وزیراعظم شہباز شریف کا آزاد کشمیر میں ناخوشگوار واقعات کی تحقیقات کا حکم، عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل
?️ 2 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر کی صورتحال
اکتوبر
پی ٹی آئی کا عمران خان کو علاج کیلئے نجی ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ
?️ 13 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی کو علاج
فروری
شمالی شام میں زلزلے سے ایک جیل منہدم؛ داعشی فرار
?️ 7 فروری 2023سچ خبریں:شمال مغربی شام میں قید قیدی جن میں زیادہ تر داعش
فروری
قطر ورلڈ کپ صہیونیوں کے لیے کیسے ڈراؤنا خواب بنا؟
?️ 27 نومبر 2022سچ خبریں:قطر میں ہونے والے 2022 کے ورلڈ کپ نے فلسطین کی
نومبر
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی بھارت میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟
?️ 27 جنوری 2023سچ خبریں:مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی گزشتہ روز اپنے بھارت کے دورہ
جنوری