?️
کراچی: (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں کمی کی اجازت نہیں دی۔
واضح رہے کہ یہ رپورٹس زیر گردش ہیں کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، این ایف سی ایوارڈ کے دوبارہ جائزے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت عمودی تقسیم میں صوبوں کا حصہ 11-2010 کے دوران 49 فیصد سے بڑھا کر 56 فیصد اور ایوارڈ کے بقیہ سالوں میں 57.5 فیصد کردیا گیا تھا۔
صوبوں کے درمیان وسائل کی افقی تقسیم کے لیے روایتی آبادی پر مبنی معیار کو ایک سے زیادہ معیار والے فارمولے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
اس معیار کے مطابق 82 فیصد تقسیم آبادی پر، 10.3 فیصد غربت اور پسماندگی پر، 5 فیصد محصولات کی وصولی/آمدنی، اور 2.7 فیصد انورس آبادی کی کثافت پر کی گئی تھی۔
حال ہی میں، آئی ایم ایف کی جانب سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم میں جاری عدم توازن کو دور کرنے کے لیے پاکستان سے این ایف سی ایوارڈ پر بات چیت کو دوبارہ کھولنے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
آئی ایم ایف نے مبینہ طور پر وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان وسائل کی تقسیم میں تفاوت کا حوالہ دیتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
آج کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ’حکومت، آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے لیے مختص رقم کم نہیں کرسکی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’این ایف سی ایوارڈ کے بارے میں آئین میں لکھا ہے کہ صوبوں کا حصہ (وسائل میں) کم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے بڑھایا جا سکتا ہے۔‘
مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے ممکنہ طور پر آئی ایم ایف کو اس حوالے سے مطلع کیا ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات کا بھی یقین نہیں ہے کہ آیا یہ کمی آئی ایم ایف کی بات چیت میں شرط تھی یا نہیں کیونکہ وہ ان کا حصہ نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اضافی ذمہ داریاں دی گئی تھیں اور اس لیے این ایف سی ایوارڈ کو 7ویں این ایف سی ایوارڈ کو جاری رکھنے کے بجائے ان کی عکاسی کے لیے اس کے مطابق تبدیل کیا جانا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت نے وفاقی حکومت سے نیا این ایف سی ایوارڈ لانے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعد پرانے کا اطلاق نہیں ہوتا۔
آئین کا آرٹیکل 160 این ایف سی ایوارڈ سے متعلق ہے۔ آرٹیکل کے سیکشن 3 ’اے‘ میں کہا گیا ہے کہ ’قومی مالیاتی کمیشن کے ہر ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ پچھلے ایوارڈ میں صوبوں کو دیے گئے حصے سے کم نہیں ہوگا۔‘
خیال رہے کہ جولائی 2020 میں اس وقت کی اپوزیشن نے اس معاملے پر گرما گرم بحث کے بعد، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے پچھلے سال کے حصے میں کسی قسم کی کمی کو روکنے کے لیے آئینی شق میں ترمیم کے اقدام کو ناکام بنا دیا تھا۔
ایوان نے 17 کے مقابلے 25 ووٹوں کی اکثریت سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بیرسٹر محمد علی سیف کو آئین کے آرٹیکل 160 (3 اے) میں ترمیم کرنے کا بل پیش کرنے کی اجازت دینے سے روک دیا تھا۔


مشہور خبریں۔
ملک بھر میں واٹس ایپ اور انسٹاگرام بند ہونے کی شکایات
?️ 22 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک بھر میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب
ستمبر
فلسطینی حکومت کے قیام کے بغیر امن کا حصول ممکن نہیں: اردگان
?️ 24 نومبر 2025سچ خبریں: ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اتوار کو ایک
نومبر
پنجاب میں انتخابات کے معاملے پر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا
?️ 9 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس (آج) تعطیل کے روز
اپریل
جنگ بندی سے حماس مزید مضبوط ہو رہی ہے:صیہونی میڈیا
?️ 16 مارچ 2025 سچ خبریں:اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونٹ نے صہیونی سکیورٹی ذرائع کے حوالے
مارچ
عالمی کمپنیاں معاشی صورتحال نہیں بلکہ اپنی حکمت عملی کے تحت پاکستان چھوڑ رہی ہیں، وزیر خزانہ کا دعویٰ
?️ 23 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دعویٰ کیا
اکتوبر
مغربی ممالک میں بڑھتا اسلامو فوبیا
?️ 8 جون 2021سچ خبریں:انسانی حقوق کی دہائی دینے والے اور اپنے آپ کو پرامن
جون
جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ ہوگا تو آرمی ایکٹ حرکت میں آئے گا، مولانا فضل الرحمٰن
?️ 5 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی
جون
کیا دنیا کے سر پر ایٹمی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں؟
?️ 6 اگست 2023سچ خبریں: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے خبردار کرتے ہوئے کہ
اگست