?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی کے پارلیمانی پینلز نے ایف بی آر افسران کے اختیارات بڑھانے کی متعدد تجاویز مسترد کردیں جس کا مقصد فیکٹریوں کے احاطے میں تعینات کرنے کی مخالفت کر دی، جبکہ کیش اکانومی کو باقاعدہ بنانے کے لیے آمدن کو ظاہر کرنا لازمی قرار دینے کی منظوری دے دی۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل 26-2025 کا شق وار جائزہ لینے کے لیے بیک وقت اجلاس منعقد کیے، دونوں اجلاسوں میں کچھ ترامیم کی تجویز پیش کی گئی جبکہ بعض اقدامات کو ممبران پارلیمنٹ نے مسترد کر دیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاسوں میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ایم این اے نوید قمر نے اپنی اپنی کمیٹیوں کی صدارت کی، جس میں سینیٹرز اور قومی اسمبلی کے اراکین نے شرکت کی۔
قومی اسمبلی کے پارلیمانی پینل نے صنعتی پیداوار کی نگرانی کے لیے ایف بی آر کے افسران کو فیکٹریوں کے اندر تعینات کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔
پیپلزپارٹی رہنما نوید قمر نے تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو پولیس، رینجرز یا انٹیلی جنس بیورو کے اہلکاروں کی تعیناتی کا اختیار نہیں دینا چاہیے، نوید قمر کے مطابق اس طرح کے اختیارات ایف بی آر عملے کی ’جیبیں بھرنے‘ کا ذریعہ بنیں گے۔
اجلاس میں شامل رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے تجویز پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران کو فیکٹریوں میں تعینات کرنا تاجر برادری کی توہین ہوگی، انھوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس اہلکار کل میری فیکٹری میں آئے تو میں اُس فیکٹری کو بند کر دوں گا۔
رہنما پیپلز پارٹی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ مجوزہ تجویز ایف بی آر کو دوسرے نیب میں تبدیل کر دے گی، تاہم وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جواب دیا کہ ہم ایف بی آر کا عوام کے سامنے امیج بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ممبر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان نے کہا کہ اگر آپ کاروباری مقامات پر ’ایف بی آرکا چوکیدار‘ تعینات کرتے ہیں تو لوگ اپنا کام بند کر دیں گے۔
عمر ایوب خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی ناک کے نیچے پیٹرولیم کے شعبے میں 550 ارب روپے کی اسمگلنگ ہو رہی ہے جبکہ دیگر صنعتوں میں بھی کچھ اسی طرح کے حالات ہیں۔
ایف بی آر کے چیئرمین نے جواب دیا کہ شوگر سیکٹر کی نگرانی سے 39 ارب روپے اضافی ریونیو اکٹھے کیے گئے ہیں جس کا سالانہ اثر 48 ارب روپے پڑا ہے۔
اسپیشل اکنامک زونز کے لیے ٹیکس چھوٹ
اس دوران کمیٹی نے اسپیشل اکنامک زونز کے لیے 2035 تک اسپیشل اکنامک زونز کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی جبکہ نان پرافٹ آرگنائزیشنز کے لیے ٹیکس ریلیف کی حمایت کی۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ جائزہ بھی لیا جاتا رہے گا کہ کہیں نان پرافٹ آرگنائزیشنز تجارتی سرگرمیوں میں شامل نہ ہوں۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اگر کوئی فرد ماہانہ ایک کروڑ روپے کماتا ہے اور 10 کروڑ روپے کا لین دین کرتا ہے تو اسے نوٹس جاری کیا جائے گا ساتھ ہی کمیٹی نے ایک کروڑ روپے تک کی جائیداد کی خریداری کے لیے ذرائع آمدن ظاہر کرنے کی شرط ختم کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ جائیداد خریدنے کے خواہشمند ٹیکس دہندگان کے لیے ظاہر کی گئی آمدنی پر 130 فیصد کی حد تجویز دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایک کروڑ 30 لاکھ روپے کی جائیداد خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے کم از کم ایک کروڑ روپے کی آمدن ظاہر کرنی ہوگی۔
ٹیکس دہندگان کو ان رقوم کے سلسلے میں بھی آن لائن ڈیکلریشن جمع کروانے ہوں گے جو قرضوں، عطیات یا دیگر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔
فنانس بل 26-2025 کی سیلز ٹیکس دفعات پر سینیٹ کے پارلیمانی پینل کی 16 جون کو بھی بحث جاری رہی۔
اجلاس میں موجود رہنما پیپلز پارٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے متعدد قانونی اصلاحات تجویز کیں۔
فاروق ایچ نائیک کی تجویز کردہ اصلاحات میں ٹیکس فراڈ کے جرمانے کو ایک کروڑ روپے سے کم کر کے 50 لاکھ روپے کرنا، سزا کو 10 سال سے کم کر کے 5 سال کرنا، استغاثہ سے پہلے متعلقہ فرد یا ادارے کو 3 الگ الگ نوٹس جاری کرنے اور ہائی کورٹ کو ٹیکس اپیلوں کا 60 دن میں فیصلہ کرنے کا پابند بنانے کے ساتھ ساتھ انکوائری، تفتیش اور ٹرائل کو 3 الگ، الگ مراحل میں کرنا شامل ہے۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سزائیں قانون کے مطابق ہونی چاہئیں اور ان پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔


مشہور خبریں۔
نئے آرمی چیف کے نام پر غور جاری
?️ 13 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) جنرل قمر جاوید باجوہ کے گیریژن کے الوداعی دوروں
نومبر
روسی طیاروں کی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری
?️ 25 فروری 2021سچ خبریں:روسی جنگی طیاروں نے گذشتہ رات اور شام کے جنوب مغربی
فروری
وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کا برطانوی ہم منصب سے رابطہ، بہتر اسٹریٹجک پارٹنرشپ کیلئے جلد معاہدے پر زور
?️ 26 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے اپنے برطانوی ہم
مارچ
اگلے ہفتے سے محدود پیمانے پر تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ
?️ 14 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں) تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے بین الصوبائی تعلیمی وزراء
اپریل
ٹرمپ پاگل ہو گیا ہے: امریکی سنیٹر
?️ 17 مارچ 2026سچ خبریں:امریکی سنیٹر نے ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے پالیسیوں کو
مارچ
کرانہ باختری کے الحاق کے نتائج سنگین ہوں گے:سعودی عرب کا اسرائیل کو انتباہ
?️ 22 ستمبر 2025کرانہ باختری کے الحاق کے نتائج سنگین ہوں گے:سعودی عرب کا اسرائیل
ستمبر
پی ٹی آئی فنڈ ریزنگ کیس، ایف آئی اے کو قانون پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا حکم
?️ 20 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے
اکتوبر
اسرائیل میں نیا تنازع، نیتن یاہو کے بیٹے کی اعلیٰ عہدے کے لیے نامزدگی پر ہنگامہ
?️ 1 نومبر 2025اسرائیل میں نیا تنازع، نیتن یاہو کے بیٹے کی اعلیٰ عہدے کے
نومبر