انسانی حقوق کمیشن کو سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد میں سست روی پر تشویش

?️

کراچی: (سچ خبریں) انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان (ایچ آر سی پی) نے شمالی سندھ میں امن و امان کی صورتحال، صنفی بنیاد پر تشدد کے زیادہ واقعات، صحافیوں کی حفاظت اور سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کی سست بحالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق ایچ آر سی پی نے یہ بات شمالی سندھ کے لیے ایک ہائی پروفائل فیکٹ فائنڈنگ مشن کے اختتام پر کہی۔

مشن کو ریاستی اداروں اور ایجنسیوں پر سیاسی اور جاگیردارانہ اثر و رسوخ کی سطح پر بھی تشویش تھی جو لوگوں کی انصاف تک رسائی کو غیر مؤثر بناتا ہے اور ان کے حقوق کا ادراک کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔

اس مشن میں ایچ آر سی پی کی چیئرپرسن حنا جیلانی، وائس چیئرمین سندھ قاضی خضر حبیب، کونسل ممبر سعدیہ بخاری اور سینئر کارکن امداد چانڈیو شامل تھے۔

ایچ آر سی پی کے شریک چیئرمین اسد اقبال بٹ کے ہمراہ ٹیم نے گھوٹکی، کندھ کھوٹ، جیکب آباد اور لاڑکانہ کا دورہ کیا تھا۔

مشن کے لیے خاص طور پر تشویش کی بات یہ تھی کہ گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو ابھی تک اپنے گھروں کی تعمیر نو کے لیے معاوضہ یا امداد نہیں ملی ہے۔

مشن کو ضلعی کمشنر قمبر شہدادکوٹ نے بتایا کہ صرف اسی علاقے میں ایک لاکھ 42 ہزار سے زیادہ مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔

مزید برآں تباہ شدہ اسکولوں کی تعداد نے بچوں کی تعلیم میں شدید خلل ڈالا ہے اور حالات میں بہتری کے بہت کم آثار ہیں۔

مشن کو یہ جان کر تشویش ہوئی کہ گھوٹکی میں اغوا برائے تاوان کے کم از کم 300 واقعات رپورٹ ہوئے جن کا بنیادی ہدف خواتین اور بچے تھے۔

پولیس رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ ایسے واقعات میں فوجی درجے کے ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں جو مبینہ طور پر بلوچستان سے حاصل کیے گئے ہیں اور اس طرح صوبائی سرحدی سلامتی پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔

سرحد کے ساتھ لگنے والی سیکڑوں چیک پوسٹوں کے پیش نظر رہائشیوں نے سیکیورٹی فورسز کی ملی بھگت کا بھی الزام لگایا ہے۔

کندھ کوٹ اور جیکب آباد کے دورے کے دوران، جو صوبے میں غیرت کے نام پر قتل کی سب سے زیادہ شرح کا سبب بنتا ہے، مشن یہ جان کر حیران رہ گیا کہ متاثرین میں کم عمر لڑکیاں، شادی شدہ خواتین اور یہاں تک کہ بوڑھی خواتین بھی شامل ہیں۔

متاثرین کے اہل خانہ نے تحقیقات کے ساتھ ساتھ عدالتی کارروائیوں میں بے وجہ طویل تاخیر کی بھی شکایت کی۔

مشن کو یہ جان کر تشویش ہوئی کہ گھوٹکی، کندھ کوٹ اور لاڑکانہ میں مقیم صحافیوں کو جان سے مارنے کی دھمکیوں، اغوا، حملہ اور من گھڑت ایف آئی آر کی صورت میں انتقامی کارروائی کے خوف سے بااثر افراد کے خلاف رپورٹنگ کرنا مشکل ہوگیا۔

مشہور خبریں۔

یوٹیوب پر اشتہارات کو بلاک کرکے ویڈیوز دیکھنا ناممکن

?️ 3 نومبر 2023سچ خبریں: مفت میں ویڈیوز تک رسائی دینے والی دنیا کی سب

ایران امریکہ مذاکرات کے بارے میں امریکی حکام کے بیان کی حیثیت؛نامور امریکی صحافی کی زبانی

?️ 16 اپریل 2025 سچ خبریں:ممتاز امریکی صحافی اور خارجہ پالیسی کی ماہر نے ایران

شمالی وزیر ستان میں فوج نے دو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا

?️ 20 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی

ایران فردو میں 60 فیصد تک یورینیم اضافہ کر رہا ہے: رائٹرز

?️ 3 فروری 2023سچ خبریں:خبر رساں ادارے روئٹرز نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی

حکومت کی طرف سے ایل این جی پالیسی میں تبدیلیوں کی منظوری

?️ 20 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف کے آئندہ ہفتے دوحہ کے

ووٹ کی عزت کے نمائندے پاکستان مہنگائی لیگ بن چکے ہیں، بلاول

?️ 18 نومبر 2023پشاور: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے

امریکی صدر ٹرمپ کی شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات کی خواہش اور چین سے مدد کی اپیل

?️ 25 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملائشیا کے لیے روانگی سے

مفت آٹے کی تقسیم میں ہونے والی بھگدڑ پر شوبز شخصیات کا ردعمل

?️ 2 اپریل 2023کراچی: (سچ خبریں) ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دوران عوام شدید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے