?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے ابتدائی حلقہ بندیوں میں مختلف حلقوں کی آبادی میں وسیع فرق کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورے صوبے میں نہیں بلکہ صرف ایک ضلع کے اندر حلقوں کی آبادی کے درمیان برابری برقرار رکھی جانی چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے نام لیے بغیر فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے تجزیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی حلقہ بندیوں کے حوالے سے تجزیہ غلط فہمی پر مبنی ہے۔
ایک بیان میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 51 کے تحت صوبوں کو ان کی آبادی کی بنیاد پر قومی اسمبلی کی 266 نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ صوبوں کے لیے مختص نشستوں اور ان کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا کوٹہ طے کیا گیا جس کی بنیاد پر قاعدہ 8 (2) کے تحت ہر ضلع کی نشستیں مختص کی گئیں جس کے بعد اضلاع کی آبادی اور ان کی نشستوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے حلقہ بندی کی گئی۔
تنقیدی جائزے کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے کہا کہ ادارے (فافن) نے حلقوں کی آبادی کے سائز میں فرق کا تجزیہ کرتے ہوئے نشستوں کا تعین کرنے کے لیے ضلع کو ایک یونٹ کے طور پر نہیں لیا بلکہ صوبے کے کوٹے کو ایک یونٹ کے طور پر لیا اور بنیادی انتظامی یونٹ یعنی ضلع کو نظر انداز کیا گیا جس سے ابہام پیدا ہوا۔
تاہم انتخابی امور کے ماہرین نے الیکشن کمیشن کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ بندی کے اصولوں کو طے کرنے والا قانون بہت واضح ہے اور یہ کسی ضلع کے نہیں بلکہ اسمبلی کے حلقوں کی آبادی کے بارے میں بات کرتا ہے، کوئی قاعدہ کسی قانونی شق میں ترمیم یا اسے منسوخ نہیں کر سکتا۔
الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 20 (3) میں لکھا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، کسی اسمبلی یا بلدیاتی حکومت کے حلقوں کی آبادی میں فرق عموماً 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
ذیلی سیکشن 4 کہتا ہے کہ اگر ذیلی سیکشن (3) کے تحت 10 فیصد کی حد کسی غیر معمولی صورتحال میں تجاوز کر جاتی ہے تو الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے آرڈر میں اس کی وجوہات درج کرے گا۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیوں کے دوران آبادی کے علاوہ دیگر اصول بھی ہیں جن کا تذکرہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 20 میں کیا گیا ہے، مثلاً انتظامی اکائی اور یکسانیت جسے الیکشن کمیشن نے ابتدائی حلقہ بندیوں کے دوران مدنظر رکھا ہے۔
الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا کہ صرف 64 حلقے ایسے ہیں جن میں آبادی کا فرق 10 فیصد سے زیادہ ہے اور اس فرق کی وجوہات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ اعتراضات داخل کرانے کی سہولت قانون اور قواعد میں فراہم کی گئی ہے تاکہ ابتدائی حلقہ بندیوں میں غلطیوں کو درست کیا جا سکے، اگر ابتدائی حلقہ بندیوں میں ایسی کوئی غلطی پائی گئی جس کی قانون میں اجازت نہیں ہے تو اسے اعتراضات کی سماعت کے دوران درست کردیا جائے گا۔
دریں اثنا الیکشن کمیشن کا اجلاس آج ہوگا جس میں آئندہ عام انتخابات کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی مبصرین کو مدعو کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ الیکشنز ایکٹ، الیکشن کمیشن کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ مقامی یا غیر ملکی مبصرین کو انتخابات کی نگرانی کے لیے مدعو کرے۔
علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے انتخابات کے ضابطہ اخلاق پر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ 4 اکتوبر کو ہونے والا مشاورتی اجلاس ملتوی کر دیا ہے جو کہ اب 11 اکتوبر کو ہوگا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ آئین کے تقدس اور احترام کے تحفظ کے لیے فوری طور پر مداخلت کریں کیونکہ نگران حکومت، الیکشن کمیشن اور پی ڈی ایم حکومت کا حصہ رہنے والی کچھ سیاسی جماعتیں لوگوں کو ووٹ کے حق سے غیر معینہ مدت کے لیے محروم کر رہی ہیں۔
ایک بیان کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ وہ آئین کے تقدس کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائیں کیونکہ قومی اسمبلی کی قبل از وقت تحلیل کی صورت میں 90 روز کے اندر انتخابات کا انعقاد لازمی آئینی تقاضا ہے۔
بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کور کمیٹی کا اجلاس کہاں ہوا اور اس کی صدارت کس نے کی۔


مشہور خبریں۔
جمہوری عمل تو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ہے، عدالتوں میں قانون کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے۔ رانا ثناءاللہ
?️ 27 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر وزیراعظم رانا ثناءاللہ نے کہا کہ جمہوری
جون
ٹرمپ اور میکرون جیسے شیطان خطے میں فرقہ وارانہ جنگ بھڑکانے کے درپے ہیں:بحرینی عالم دین
?️ 2 فروری 2021سچ خبریں:بحرین کے عالم دین اور سیاسی رہنما نے اپنے ایک بیان
فروری
فلسطینی مزاحمت نے آج دشمن پر اپنی مساوات مسلط کردی ہے: حماس
?️ 24 مارچ 2022سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ
مارچ
بانی پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے تیار نہیں، مقتدرہ کو سیاسی شخصیات سے نہیں ملنا چاہئے۔ رانا ثناءاللہ
?️ 24 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے
ستمبر
شہریوں کے نام فرمائشی طور پر ’نو فلائی لسٹ‘ میں شامل نہ کیے جائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ
?️ 9 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت
مارچ
انصار اللہ: الاقصیٰ طوفان کے بعد یمن کی موجودگی صہیونیوں کے لیے بڑا دھچکا ہے
?️ 8 اکتوبر 2025سچ خبریں: انصار اللہ پولیٹیکل بیورو کے رکن علی الدیلمی نے اس
اکتوبر
اسرائیل ہماری آنکھوں کے سامنے ٹوٹ رہا ہے: ایہود باراک
?️ 10 نومبر 2025سچ خبریں: اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے خبردار کیا ہے
نومبر
ایران کے ساتھ مذاکرات پھر سے شروع کرنے کے لیے تیار ہیں: امریکہ
?️ 13 جولائی 2021سچ خبریں:امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ
جولائی