افغانستان کیلئے آگے بڑھنے کا واحد مثبت راستہ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد میں ہے، طلال چوہدری

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا واحد تعمیری حل یہ ہے کہ کابل دوحہ معاہدے کے تحت افغان سرزمین کو دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے مکمل طور پر روکے۔

واضح رہے کہ دفترِ خارجہ کے مطابق افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران دوحہ میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی وفد کے کابل کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

جیونیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے یہ مسئلہ سفارتی ذرائع اور فوج کے افغانستان کے ساتھ روابط کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی تاہم اب تک یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ایک تیسرے ملک کو شامل کیا گیا تاکہ افغانستان کو یہ باور کرایا جا سکے کہ اسے دوحہ معاہدے پر عمل کرنا ہوگا، جس کے تحت وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی شخص یا گروہ کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک تیسرے ملک کے ذریعے بات چیت جاری ہے، دوحہ معاہدے کے مطابق آگے بڑھنے کا واحد مثبت راستہ یہی ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو ان تمام عناصر کے لیے ممنوع قرار دے جو اسے دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کا جواب وہاں موجود دہشت گردوں کو نشانہ بنا کر دے گا، تو طلال چوہدری نے جواب دیا کہ حالات بہتر کیوں نہیں ہوتے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان (افغان) میں عزم اور نیت کی کمی ہے، خوارج کو وہیں تربیت اور سرپرستی دی جاتی ہے، اس کے بعد وہ پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب افغانستان بھارت سے ہاتھ ملا رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارتی علاقہ تسلیم کر رہا ہے، ہم پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ ‘یہ بھارت کے ایجنٹ ہیں’، اور اب انہوں نے خود اسے ثابت کر دیا ہے۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ پراکسی فورسز کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان اپنے مؤقف پر قائم اور اپنی عوام اور سرحدوں کے دفاع کے لیے جو بھی ضروری ہوگا، وہ کرے گا۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے، تو پھر یہ دہشت گرد افغانستان سے کیوں آتے ہیں؟ یہ بیان انہوں نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ تبصرے کے جواب میں دیا، جنہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کسی ملک کا اندرونی معاملہ ہے۔

طلال چوہدری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان کے کیمپوں اور ٹھکانوں کی نشاندہی کر لی اور یہ بھی کہ وہ کس راستے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، ہم نے ان معلومات پر مبنی کئی ڈوزیئرز انہیں بھجوائے ہیں، مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا تھا۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ 12 اکتوبر کو افغانستان کی جانب سے حملے کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں 23 پاکستانی فوجی شہید ہوئے جبکہ 200 طالبان اور خوارج مارے گئے تھے۔

رواں ہفتے منگل کو دوبارہ جھڑپیں ہوئیں، جب افغان طالبان اور ’فتنۃ الخوارج‘ نے کرم بارڈر پر پاکستانی فورسز پر فائرنگ کی، اس کے بعد بدھ کو پاکستان نے افغانستان کے صوبہ قندھار اور کابل میں ٹارگٹڈ فضائی حملے کیے۔

دفترِ خارجہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ حالیہ سرحدی جھڑپوں کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان 48 گھنٹوں کے لیے ایک عارضی جنگ بندی طے پا گئی ہے، جو جمعہ شام 6 بجے ختم ہونا تھی، بعد ازاں جمعہ کو ایک سینئر سفارتی ذریعے کے مطابق جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی۔

اسی روز پاکستان نے دوبارہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، ان حملوں کی اطلاعات انگور اڈہ کے علاقے اور افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ارگون اور برمل اضلاع سے موصول ہوئیں، جہاں کالعدم حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں پر کارروائیاں کی گئیں۔

یہ حملے شمالی وزیرستان میں فوجی تنصیب پر ہونے والے حملے کے بعد کیے گئے۔

مشہور خبریں۔

فلسطینیوں کی صورتحال کو بہتر بنانا اشد ضروری ہے:چینی سفارت کار

?️ 3 دسمبر 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ میں چین کے نمائندے ژانگ جون نے مقبوضہ فلسطین

اشتعال انگیز دن آنے والے ہیں:حماس

?️ 6 مارچ 2023سچ خبریں:اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے بیرون ملک سیاسی دفتر کے سربراہ

اسلام آباد بلدیاتی انتخابات ای وی ایم پر کروانا چاہتے ہیں

?️ 12 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزارت سائنس نے وفاقی حکومت سے پیپرا رولز

مزاحمتی تحریک کے حامی ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی صہیونی کوششیں بیکار ہیں: انصار اللہ

?️ 1 اکتوبر 2021سچ خبریں:یمنی انصار اللہ تحریک کے ایک رکن نے کہا کہ صہیونی

سپریم کورٹ کے حکم پر نسلہ ٹاور کو توڑنے کا کام شروع

?️ 24 نومبر 2021کراچی (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کو توڑنے کا حکم

یوکرین جنگ کے نتائج سے نمٹنے کے لیے چھ عرب ممالک کا اجلاس

?️ 6 جون 2022سچ خبریں:  چھ عرب ممالک، جنہیں عرب کمیونیکیشن گروپ کے نام سے

طالبان کو تسلیم کرنا بین الاقوامی فیصلے پر منحصر ہے: کابل میں پاکستانی سفیر

?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں:کابل میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ طالبان کو تسلیم کرنے

سیاست میں پیسہ استعمال کرنے والے نشان عبرت بن چکے ہیں:عمران کان

?️ 22 فروری 2021پشاور(سچ خبریں) خیبر پختوانخواہ میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سینیٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے