?️
کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون سے دسمبر کے عرصے کے دوران بینکنگ مارکیٹ سے 5.5 ارب ڈالر خریدے اور مارکیٹ کو توقع ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر خریدے جانے والے ڈالرز کی کُل رقم تین سالوں میں آئی ایم ایف سے لیے گئے قرض سے آسانی سے بڑھ جائے گی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈالر کی اس بڑے پیمانے پر خریداری کے باوجود، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران 50 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی واقع ہوئی، جو کہ کمزور زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح تبادلہ کی ناقص پالیسی کی عکاسی کرتی ہے جو ملک میں بھاری رقوم کو سنبھالنے سے قاصر ہے۔
رواں سال ملک کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، ورلڈ بنک اور 14 ارب ڈالر سے زیادہ کے بیرونی قرضوں کے رول اوور کے علاوہ ترسیلات زر کی مد میں 35 ارب ڈالر سے زیادہ ملنے کی توقع ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ (جولائی تا فروری) کے دوران موصول ہونے والی ترسیلات گزشتہ پورے مالی سال (جولائی 2023 سے جون 2024) کی رقم سے پہلے ہی 6 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
لیکن اقتصادی مینیجرز بھاری رقوم کے بہاؤ کا انتظام کرنے سے قاصر ہیں تاہم 8 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ اب بھی مثبت ہے۔
اسٹیٹ بینک نے جون سے دسمبر 2024 کے دوران انٹربینک کرنسی مارکیٹ سے 5.52 ارب ڈالر خریدے۔ مرکزی بینک کے لیے مارکیٹ سے ڈالر خریدنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، لیکن رقم کا حجم ہر ماہ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ صرف استثنیٰ یہ ہے کہ مرکزی بینک نے دسمبر میں 53 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خریدے جو نومبر میں خریدے گئے 115 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے نصف سے بھی کم ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے گزشتہ سال جون میں 57 کروڑ 30 لاکھ ڈالر، جولائی میں 72 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، اگست میں 56 کروڑ 90 لاکھ ڈالر، ستمبر میں 94 کروڑ 60 لاکھ ڈالر اور اکتوبر میں 102 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خریدے۔
خریداری کا حجم ظاہر کرتا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی نے شرح تبادلہ کو مستحکم کیا اور برآمد کنندگان کو اپنی آمدنی فروخت کرنے پر آمادہ کیا۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ترسیلات زر کے ذریعے موصول ہونے والی زیادہ ڈالرز کی آمد کو استعمال کرنے کے لیے حکمت عملی کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔ 35 ارب ڈالر کی آمد ان بڑی ادائیگیوں کے ذریعے ختم ہو جائے گی جن کی ملک کو اب بھی ہر سال قرض کی خدمت کے لیے ضرورت ہے جو کم از کم 25 ارب ڈالر ہے۔
بینکرز کے مطابق، آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کو شرح سود میں کمی لانے کی اجازت نہیں دی ہے کیونکہ اس اقدام سے ایک چین ردعمل شروع ہو جائے گا، جس سے پیسہ سستا ہو جائے گا، درآمدات میں اضافہ ہوگا، تجارتی فرق بڑھے گا اور بالآخر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا باعث بنے گا۔
اب تک 12 فیصد شرح سود تجارت اور صنعت کو بینکوں سے قرض لینے اور مقامی معاشی سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کرنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں کمی
دوسری جانب 21 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 54 کروڑ ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔
پریس ریلیز کے مطابق بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے ذخائر 10.60 ارب ڈالر کی چھ ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے۔ ستمبر میں ذخائر 10.7 ارب ڈالر تھے۔
ملک کے کُل ذخائر کم ہو کر 15.5 ارب ڈالر رہ گئے ہیں، جس میں کمرشل بینکوں کے 4.94 ارب ڈالر شامل ہیں۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک ذخائر 13 ارب ڈالر ہونے چاہئیں۔
تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے بعد 1.1 ارب ڈالر کی متوقع آمد کے ساتھ ذخائر میں اضافے کا امکان ہے۔ ملک آب و ہوا کے لچکدار فنڈ سے 1.3 ارب ڈالر حاصل کرسکتا ہے۔
کرنسی ماہرین کا خیال ہے کہ جہاں تک بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور مستحکم شرح تبادلہ کا تعلق ہے تو موجودہ مالی سال محفوظ ہے۔ تاہم برآمدات کو بڑھانے میں ناکامی اگلے مالی سال کے دوران ایک بڑی رکاوٹ رہے گی۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل کا دفاعی نظریہ غزہ کی سرحد پر منہدم
?️ 9 اکتوبر 2023سچ خبریں:عبرانی اخبار کے مطابق حماس کی طرف سے ہفتے کے روز
اکتوبر
جرمنی میں مسلمانوں کی مساجد اور مقدس مقامات پر 800 سے زیادہ حملوں کا ریکارڈ
?️ 13 جون 2022سچ خبریں: انسانی حقوق کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ 2014
جون
وزیرِ اعظم نے تھر کول بلاک 2 کے توسیع منصوبے کا افتتاح کر دیا
?️ 10 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تھر کول بلاک 2
اکتوبر
فلسطین پر قبضہ پچھلی صدی میں کسی قوم کے خلاف سب سے بڑی جارحیت
?️ 20 جنوری 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ میں کیوبا کے مستقل نمائندے پیڈرو لوئیس پیڈرسن کوئسٹا
جنوری
ایران کے معاملے امریکہ اور مغرب کی بہانہ تراشیاں کسی نتیجے تک نہیں پہنچے گی:سابق پاکستانی سفیر
?️ 27 ستمبر 2025 ایران کے معاملے امریکہ اور مغرب کی بہانہ تراشیاں کسی نتیجے تک
ستمبر
سلامتی کونسل میں بھارت کے بیان پر پاکستان کا رد عمل سامنے آگیا
?️ 4 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے سلامتی
اگست
اسٹار لنک اسیٹلائٹ انٹرنیٹ یوکرین کی فوج کے لیے ایک تباہی
?️ 9 اکتوبر 2022سچ خبریں: یوکرائنی حکام اور فوجیوں نے کہا ہے کہ جنگ
اکتوبر
سست انٹرنیٹ سے چھٹکارا پانے کیلئے پارلیمانی سیکریٹری نے انوکھی تجویز پیش کردی
?️ 23 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں انٹرنیٹ کے مسائل اور خاص طور
دسمبر