?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) صنعتکاروں اور بزنس کمیونٹی کے رہنماؤں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو کم کرکے 5 سے 6 فیصد تک لائے، تاکہ اسے علاقائی معیشتوں کے برابر کیا جا سکے اور ملک میں کاروبار کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کہا کہ پاکستان میں قرض لینے کی لاگت خطے میں سب سے زیادہ ہے، جس سے کاروباری ترقی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ویتنام میں شرح سود 6.3 فیصد، کمبوڈیا میں 3 فیصد، انڈونیشیا میں 6 فیصد، اور بھارت میں 5.5 فیصد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسابقت کو مہنگی توانائی مزید نقصان پہنچا رہی ہے، جہاں بجلی کے نرخ تقریباً 16 سینٹ فی یونٹ ہیں، جب کہ بنگلہ دیش میں 9 سینٹ، ویتنام میں 8 سینٹ، کمبوڈیا اور انڈونیشیا میں 10 سینٹ، بھارت میں 7.2 سینٹ اور سری لنکا میں صرف 5 سینٹ ہیں۔
جاوید بلوانی کا کہنا تھا کہ شرح سود کو 5 سے 6 فیصد تک کم کرنے سے کاروباری طبقے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (ایس ایم ایز) کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا، جو کہ زیادہ فنانسنگ لاگت سے شدید متاثر ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اجاگر کیا کہ ملک میں 75 فیصد سے زائد مقامی قرضہ حکومت استعمال کرتی ہے، جب کہ نجی شعبے کے لیے صرف 25 فیصد رہ جاتا ہے، اس عدم توازن کو ایک فعال مانیٹری پالیسی کے ذریعے درست کرنا ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان صرف بلند شرح سود کی وجہ سے نہیں بلکہ مہنگی بجلی، گیس، پانی، زیادہ ٹیکسز اور خطے میں سب سے زیادہ کم از کم اجرت کی وجہ سے بھی غیر مسابقتی ہو چکا ہے، جب کہ لیبر کی پیداواریت کم ہے، ان تمام عوامل کو متوازن بنانا ہوگا تاکہ کاروباری لاگت کو کم کیا جا سکے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر جنید نقی نے بھی اس مطالبے کی تائید کی اور کہا کہ جون میں مہنگائی 3.2 فیصد تک گر گئی ہے، جب کہ پالیسی ریٹ اب بھی 11 فیصد ہے، لہٰذا اس شرح کو برقرار رکھنے کی کوئی معاشی منطق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صنعتیں اپنی مکمل استعداد سے کم پر چل رہی ہیں، نئی سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے اور کاروباری اعتماد کمزور ہو چکا ہے، اگر فرسودہ مانیٹری پالیسی پر اصرار کیا گیا تو بیروزگاری بڑھے گی، سرمایہ کاری کم ہو گی اور محصولات میں کمی آئے گی۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدور امان پراچہ اور آصف سخی، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے فیصل معیز خان، اور فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) کے شیخ محمد تحسین نے بھی مرکزی بینک سے مطالبہ کیا کہ سود کی شرح کو سنگل ڈیجٹ تک لایا جائے تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے۔
انہوں نے کہا کہ شرح سود میں نرمی سے مینوفیکچررز پر دباؤ کم ہو گا اور معیشت میں حرکت پیدا ہو گی۔
یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر زبیر طفیل نے بھی پالیسی ریٹ میں 4 سے 5 فیصد کمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ معیشت کی بحالی کے لیے مانیٹری نرمی ناگزیر ہے۔
اس کے برعکس رائے کا اظہار کرتے ہوئے لسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر یعقوب ایچ کریم نے مطالبہ کیا کہ 30 جولائی کے اجلاس میں شرح سود کو فوری طور پر 11 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کیا جائے، جب کہ طویل مدتی معاشی ترقی کی حمایت کے لیے 2025 کے اختتام تک ہدف 5 فیصد مقرر کیا جائے۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ پر مقدمہ چلنا چاہیے: 60% امریکیوں کی مانگ
?️ 20 جون 2022سچ خبریں:امریکہ میں ہونے والے نئے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ
جون
فلسطین کے لیے ہماری کی حمایت کمزور نہیں ہوگی:ترک صدر
?️ 25 اگست 2022سچ خبریں:ترکی کے صدر نے دعویٰ کیا کہ انقرہ کے تل ابیب
اگست
وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور
?️ 30 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج
نومبر
امریکی انتظامیہ سے امید ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز نہیں کرے گی
?️ 12 فروری 2021 اسلام آباد (سچ خریں) وزارتِ خارجہ میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے
فروری
انصار اللہ: الاقصیٰ طوفان کے بعد یمن کی موجودگی صہیونیوں کے لیے بڑا دھچکا ہے
?️ 8 اکتوبر 2025سچ خبریں: انصار اللہ پولیٹیکل بیورو کے رکن علی الدیلمی نے اس
اکتوبر
زیڈ ٹی ای نے اب تک کا سب سے سستا فولڈ ایبل فون پیش کردیا
?️ 23 فروری 2024سچ خبریں: چینی اسمارٹ موبائل فون کمپنی ’زیڈ ٹی اِی‘ نے اب
فروری
افواج پاکستان نے اپنے سے بڑے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی۔ مریم نواز
?️ 14 مئی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا کہ 10 مئی
مئی
وعدہ صادق کی تکمیل؛ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو صہیونیوں کی بڑی شکست کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟
?️ 16 جنوری 2025سچ خبریں:صہیونی حکومت نے بالآخر جنگ بندی معاہدے کو قبول کر لیا،
جنوری