آئی جی پنجاب اپنی ہی فورس کی تذلیل اور تشدد پر ایک ایف آئی آر نہیں کٹوا سکے، حماد اظہر

?️

لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء حماد اظہر نے کہا ہے کہ آئی جی پنجاب اپنی ہی فورس کی تذلیل اور تشدد پر ایک ایف آئی آر نہیں کٹوا سکے۔

اپنے ایک بیان میں حماد اظہر  نے کہا کہ ملک کے چیف جسٹس تمام آئینی اختیارات کے باوجود اپنے ججز کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے، پنجاب کے آئی جی تمام فوجداری قوانین کے باوجود اپنی ہی فورس کی تذلیل اور تشدد پر ایک ایف آئی آر نہیں کٹا سکے جب کہ عمران خان صرف ایمان کی طاقت پر اپنی عوام کے ساتھ ان کے حقوق کے لئے ڈٹ کے کھڑا ہے۔

ادھر آئی جی پنجاب پولیس عثمان انور نے کہا ہے کہ بہاول نگر میں ایک واقعہ پیش آیا جس کو لے کر سوشل میڈیا پر ایسا طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا، جس سے یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ خدانخواستہ پاکستان آرمی اور پنجاب پولیس کے درمیان کوئی ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی ہو۔

یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟ اس سے کیا تاثر گیا اور اس تاثر سے دشمن کیسے فائدہ اٹھا رہا ہے؟ میں اس پر بات کروں گا اور میرا یہ اہم پیغام پوری پنجاب پولیس کے لیے ہے کیوں کہ اس کا تعلق پوری فورس کے مورال سے ہے اور یہ مورال اس عزم کی بنیاد ہے جس پر ہم چوروں، ڈاکوؤں اور رہزنوں سے لڑتے ہیں۔

عثمان انور نے کہا کہ ایک کالعدم تنظیم نے اپنے پیغام میں اس واقعے کو بنیاد بنا کر اداروں کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرنے کی کوشش کی، اس طرح کی ٹرولنگ دیگر شرپسند عناصر کی جانب سے بھی کی گئی، کچھ ویڈیوز کو سیاق و سباق کے بغیر بھی پیش کیا گیا، پرانی ویڈیوز بھی لگائی گئیں، غیرمصدقہ خبروں کا تانتا باندھ دیا گیا جس کی وجہ سے پنجاب پولیس کے جوانوں میں مایوسی پھیلی، جان بوجھ کر کچھ دن کے انتظار کے بعد اس واقعے کے حوالے سے آپ سے بات کرنا اس لیے ضروری ہے کیوں کہ یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ واقعہ کیسے رونما ہوا اور کیا اس میں پولیس مکمل طور پر ٹھیک تھی یا ہم سے بھی کوئی غلطی ہوئی۔

آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ اسپیشل انیشیٹیو پولیس اسٹیشنز کے ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے کے باعث یہ واقعہ پیش آیا، واقعے کے بعد آر پی او بہاولپور اور فوج کی مقامی کمان نے علاقے کا دورہ کیا اور دونوں اداروں کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا جہاں معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا گیا، اجلاس میں پاک فوج زندہ باد اور پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے لگائے گئے تاکہ یہ تاثر دور کردیا جائے کہ دونوں اداروں میں کوئی ٹکراؤ ہے، انفرادی غلطی درست کرنے کا طریقہ کار موجود ہے، دونوں ادارے اپنے اپنے محکمہ جاتی ایکشنز کا آغاز کرچکے ہیں، جہاں جو غلط ہوگا، قانون توڑا گیا ہوگا یا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی گئی ہوگی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جاسکیں، اس واقعے کو اس طرح اٹھایا گیا جس سے پولیس اور فوج کے درمیان فیملی جیسے رشتے کو توڑنے کی کوشش کی گئی، اس تعلق کو کوئی نہیں توڑ سکتا، تمام ادارے اس ملک کی سالمیت کے لیے مل کر جدوجہد کرتے رہیں گے، ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ پنجاب پولیس اور تمام وردی والے اکٹھے مل کر دہشت گردوں کو نیست و نابود کردیں گے اور پاکستان کو محفوظ بنائیں گے، عوام پر ذمہ داری ہے کہ پروپیگنڈے کا مزید شکار نہ ہوں۔

مشہور خبریں۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ کا اسرائیل پر فوری اسلحہ پابندی اور تجارتی بائیکاٹ کا مطالبہ

?️ 25 جولائی 2026سچ خبریں:اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے مغربی کنارے میں

زرعی اور تعمیراتی صنعتوں میں بحران؛ نیتن یاہو کی لامتناہی جنگوں کا نتیجہ!

?️ 27 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزارت جنگ کی تازہ ترین رپورٹ کے

ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کو صفر کرنے کی پیشکش مسترد 

?️ 22 جون 2025 سچ خبریں:ایران نے جنیوا مذاکرات میں یورینیم کی مکمل بندش کی

اسرائیلی فوج کی نفسیاتی اور پروپیگنڈہ کارروائیوں کے طریقہ کار میں تبدیلی

?️ 1 نومبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی فوج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے

اسٹیبلشمنٹ مجھے اقتدار میں نہ آنے دے لیکن کیا ان کے پاس کوئی روڈمیپ ہے، عمران خان

?️ 26 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے

اسرائیلی دباؤ کو کبھی قبول نہیں کریں گے:صمود فلوٹیلا کے ترجمان

?️ 3 اکتوبر 2025اسرائیلی دباؤ کو کبھی قبول نہیں کریں گے:صمود فلوٹیلا کے ترجمان عالمی

سعودی عرب کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے میں زیادہ پیش رفت نہیں

?️ 24 ستمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعتراف کیا

پاکستان کا اسرائیلی متنازع قانون پر رد عمل، عالمی برادری اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائے

?️ 24 اکتوبر 2025پاکستان کا اسرائیلی متنازع قانون پر رد عمل، عالمی برادری اسرائیل کو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے