آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے اثرات: ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 3 روپے 74 پیسے بڑھ گئی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ سے پاکستان کے لیے قرض پروگرام کی منظوری کے بعد انٹر بینک میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 3 روپے 74 پیسے کا اضافہ ہوگیا۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای کیپ) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق صبح 10:00 بجے پاکستانی کرنسی 275.10 روپے میں ٹریڈ ہو رہی تھی جبکہ بدھ کے روز امریکی کرنسی روپے کے مقابلے میں 277.48 پر بند ہوئی تھی۔

دوسری جانب آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے قرض پروگرام کی منظوری کے اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی نمایاں رہے اور کاروبار میں تیزی دیکھنے میں آئی۔

اسٹاک مارکیٹ میں صبح 11 بج کر 55 منٹ کر بینچ مارک کے ایس ای۔100 انڈیکس 410 پوائنٹس یا 0٫9 فیصد اضافے کے بعد 45.925.34 تک پہنچ گیا۔

میٹیس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر کے مطابق آئی ایم ایف معاہدے کے بعد روپیہ اپنی ’منصفانہ قدر‘ کی جانب بڑھ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ منظر نامے میں پاکستانی روپے کی قیمت تقریباً 265 روپے بنتی ہے۔

سعد نصیر نے ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ درآمدی اشیا اور خام مال کی مانگ میں کمی کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ میں توازن حاصل کرنے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں امکان ہے کہ کم از کم آئندہ 6 ماہ تک کوئی خاص اتار چڑھاؤ نہیں آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اثاثے کے طور پر ڈالر جمع کر رہے ہیں وہ گھبرا کر اپنے ڈالر فروخت کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جہاں گرے مارکیٹ میں فروخت کی شرح تقریباً 285 ہو سکتی ہے۔

سعد نصیر نے حکومت پر زور دیا کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف انتظامی کارروائی کی جانی چاہیے۔

ای کیپ کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچا نے آئی ایم ایف قرض کی منظوری اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے ذخائر میں فنڈ جمع کرانے کو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے فنڈز کو دانشمندی سے استعمال کرنے اور کفایت شعاری پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پرانے مسائل اور بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کی ضرورت سے بچا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو موجودہ صورتحال کو ایک اہم موقع سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دوست ممالک جیسے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے بھی سود کے ساتھ خالصتاً تجارتی بنیادوں پر رقم ڈپازٹ کی ہے۔

ظفر پراچا نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس پر خوشی منانے کی بجائے متنبہ رہنے کی تاکید کی اور امید ظاہر کی کہ پاکستانی کرنسی میں زبردست گراوٹ کی نئی بلندیوں کو چھونے والا بدقسمت دور اپنے آپ کو نہیں دہرائے گا۔

انہوں نے ملک کو خود کفیل بنانے کے منصوبوں کے حوالے سے وزیر اعظم کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم قرض دہندگان سے فنڈز حاصل کرنے کر کے تھک چکے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے اخراجات میں کوئی کمی نہیں کر رہے‘۔

انہوں نے ملک کی رفتار کو درست کرنے اور اسے صحیح راستے پر ڈالنے کے لیے اقدامات پر عمل درآمد کی اہم ضرورت پر زور دیا۔

خیال رہے کہ 29 جون کو، آئی ایم ایف اور پاکستان نے ملک کے مالیاتی بحران کو کم کرنے کے لیے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پر معاہدہ کیا تھا 3 ارب ڈالر کا قلیل مدتی مالیاتی پیکیج دیوالیہ کے دہانے پہنچ جانے والی معیشت کو خاصی مہلت فراہم کرے گا۔

ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے نئے اسٹینڈ بائی انتظامات سے تعاون یافتہ پروگرام ملکی اور بیرونی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے ایک پالیسی اینکر اور کثیر جہتی اور دو طرفہ شراکت داروں کی مالی مدد کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرے گا۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ یہ پروگرام چار اہم نکات پر توجہ مرکوز کرے گا، جس میں سال 24-2023 کے بجٹ کا نفاذ شامل ہے تاکہ پاکستان کی مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کو آسان بنایا جا سکے اور اہم سماجی اخراجات کی حفاظت کرتے ہوئے قرضوں کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس کے ساتھ بیرونی جھٹکوں کو جذب کرنے اور غیر ملکی کرنسی کی قلت کو دور کرنے کے لیے مارکیٹ کی طے شدہ شرح مبادلہ کی طرف واپسی اور غیر ملکی زرمبادلہ کی منڈی کا مناسب کام کرنا؛ ایک مناسب طور پر سخت مالیاتی پالیسی جس کا مقصد تنزلی کو کم کرنا ہے۔

مزید برآں ساختی اصلاحات پر پیش رفت، خاص طور پر توانائی کے شعبے کی عملداری، سرکاری اداروں کی حکمرانی، اور موسمیاتی لچک کے حوالے سے سے اقدامات شامل ہیں۔

فوری طور پر ادا کیے جانے والے ایک ارب 20 کروڑ کے علاوہ باقی رقم پروگرام کی مدت کے دوران مرحلہ وار دی جائے گی، جو دو سہ ماہی جائزوں سے مشروط ہوگی۔

مشہور خبریں۔

نااہلی کی مدت سے متعلق کیس: سپریم کورٹ کا تمام درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ

?️ 13 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی نا اہلی

بھارت سے جنگ جیتنے کے باوجود تنازعات کا پُرامن حل چاہتے ہیں۔ وزیراعظم

?️ 26 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارت سے

صیہونی قیدی کیسے واپس آسکتے ہیں؟ قیدیوں کے اہلخانہ کی زبانی

?️ 26 مئی 2024سچ خبریں: غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک کے پاس موجود صہیونی قیدیوں

چین کا یوکرین کے مسئلے کو سیاسی طریقہ سے حل کرنے کے لیے آمادگی کا اعلان

?️ 16 فروری 2023سچ خبریں:تاس نیوز ایجنسی نے لکھا کہ پیرس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل

علی امین گنڈا پور نے عمران خان سے ملاقات کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

?️ 16 مارچ 2024پشاور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے بانی پی

جن ممالک کو بوجھ سمجھ کر کاندھے سے اتارا، آج نہیں دیکھ کر شرمسار ہوتے ہیں، وزیراعظم

?️ 24 اپریل 2024کراچی: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جن ممالک

اقوام متحدہ کی رپورٹر کا سعودی عرب پر الزام

?️ 24 مارچ 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ کی خصوصی صحافی سعودی عرب پر الزام لگایا ہے

ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹک ٹاک پر پابندی میں چوتھی بار توسیع کا عندیہ

?️ 31 اگست 2025سچ خبریں: امریکی صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے