?️
اسلام آباد(سچ خبریں) انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نئے ڈائریکٹر جنرل کے تقرر کے معاملے پر سول اور عسکری قیادت کے درمیان رپورٹ ہونے والے تعطل کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو بدھ کے روز ایک سمری موصول ہوئی جس میں ملک کے طاقتور ترین عہدوں میں سے ایک کے لیے امیدواروں کے نام شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق ایک وفاقی وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ وزیر اعظم کو سمری موصول ہوئی تھی جس میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے عہدے کے لیے نام تھے۔
دوسری جانب حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیر اعظم سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات اور اس کے بعد کابینہ میں وزیر اعظم کے ریمارکس کی تفصیلات بتانے پر اپنے رکن قومی اسمبلی عامر ڈوگر کی سرزنش کی۔
علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا تھا کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر پر وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور تقرر کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
قبل ازیں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بیان دیا تھا کہ وزیر اعظم آئین کے مطابق نئے ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر چاہتے ہیں۔
تاہم دفاعی معاملات کے ماہرین کے مطابق تعیناتی کا طریقہ کار آئین اور آرمی ایکٹ میں درج نہیں اور ماضی میں تمام تعیناتیاں اس روایت کے مطابق کی گئیں جس کے تحت آرمی چیف وزیراعظم کو تین نام تجویز کرتے ہیں اور وہ اس کے بعد حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ‘آئی ایس پی آر’ نے اعلان کیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کیا گیا ہے۔
چونکہ دفتر وزیر اعظم کی جانب سے آئندہ چند روز تک مذکورہ تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا تھا اس لیے وفاقی دارالحکومت میں قیاس آرائیاں پھیلیں اور حکومت اس معاملے پر خاموشی توڑنے پر مجبور ہوگئی۔
اس کے بعد وزیر اطلاعات نے میڈیا کو بتایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف کے درمیان رات گئے ایک طویل ملاقات ہوئی جس کے بعد وزیر اعظم نے اس معاملے پر کابینہ کو اعتماد میں لیا۔
دریں اثنا عامر ڈوگر نے انکشاف کیا تھا کہ وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کو کہا کہ انہوں نے آرمی چیف کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہمسایہ ملک افغانستان کی نازک صورتحال کی وجہ سے موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کچھ عرصے تک برقرار رہیں۔
فواد چوہدری نے کہا تھا کہ وزیر اعظم کو ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کا اختیار ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے تفصیلی ملاقات کی جبکہ وفاقی حکومت، ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے حوالے سے قانونی اور آئینی طریقہ کار پر عمل کرے گی۔
وفاقی وزیر نے واضح طور پر کہا تھا کہ وزیر اعظم کے دفتر یا فوجی سیٹ اَپ کی جانب سے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جائے گا جس سے ایک دوسرے کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔


مشہور خبریں۔
کتنے فیصد پاکستانی اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں؟
?️ 6 اگست 2024سچ خبریں: مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے جواب میں جہاں دنیا
اگست
قبضے کے خلاف مزاحمت دہشت گردی نہیں: لبنانی صدر
?️ 23 مارچ 2022سچ خبریں:لبنانی صدر نے ایک اطالوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے
مارچ
صیہونی فوج میں ہائی الرٹ
?️ 6 اپریل 2022سچ خبریں:صیہونی فوج کو غزہ کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے تیار
اپریل
لبنانی صدر کے انتخاب کے عمل میں سعودی عرب کی نئی رکاوٹیں
?️ 27 فروری 2023سچ خبریںاگرچہ سعودی عرب دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات خاص طور پر
فروری
سفید آٹا "میدہ” سے بنی چیزیں صحت کے لیے کیسی ہیں؟
?️ 23 فروری 2021اسلام آباد {سچ خبریں} سفید آٹا دنیا میں بہت زیادہ استعمال کیا
فروری
امریکہ نے "فردو” پر حملہ کیوں کیا؟
?️ 24 جون 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ، صدر امریکہ، نے چند گھنٹے پہلے سوشل میڈیا
جون
ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ جنگ کے امکان کو رد نہیں کیا
?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر نے این بی سی نیوز کو ٹیلی فون
دسمبر
امریکہ میں انٹرنیٹ کی نگرانی کیسے کی جاتی ہے؟
?️ 21 دسمبر 2022سچ خبریں:اس وقت امریکی سیاسی رہنماؤں کو ایسے خوف کا سامنا ہے
دسمبر