?️
پشاور: (سچ خبریں) سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کرنے والے نمائندے چوری شدہ کرسیوں پر بیٹھے ہیں، 24 کروڑ عوام کے نام نہاد نمائندے آئینی ترمیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھی ہم نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا، ہم ماضی کی خرابیوں کو دھرا رہے ہیں، پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے میرے کچھ بنیادی اختلافات ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بات کرنا ان کا حق نہیں ہے، آئین ان کو بات کرنے کا حق دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس ملک میں عوام کی رائے کا احترام نہیں ہوگا اور الیکشن چوری ہوں گے وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا،ہم ہر الیکشن میں نئے طریقے سے دھاندلی کر کے غیر منتخب لوگوں کو اسمبلی میں لایا جاتا ہے، آج پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس ملک کی قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگ الیکشن ہارے ہوئے ہیں، سینیٹ میں جو لوگ بیٹھے ہیں وہ پیسے دے کر آئے ہیں۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا آج اس ملک میں نااہل اور کرپٹ آدمی کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، ان لوگوں کو اسمبلیوں میں بٹھا کر ملک کیسے ترقی کرسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دو کروڑ بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا ہے، کسی ایک صوبے میں بھی ان بچوں کے حوالے سے بات نہیں ہوتی اور کسی کو اس کی پرواہ نہیں ہے۔
سربراہ عوام پاکستان پارٹی نے کہا کہ ملک اور جماعت اس وقت چلتی ہے جب اس ملک کا نظام چلے گا، اس ملک کا نظام آئین کے بغیر نہیں چل سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کو اگے بڑھانے کا واحد راستہ نظام کو آئین کے تابع کرنا ہے، آئین کو ایک طرف کرکے پاکستان کو چلانا ممکن نہیں ہے، ہم سب کا وقار اور ملک کی ترقی آئینی راستے پر چلنے سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہائبرڈ اور ہائبرڈ پلس ہر ماڈل آزما کر دیکھ لیا، عوام پاکستان پارٹی کو آئینی دائرے میں رہ کر ہر ماڈل قبول ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو ہماری پارٹی میدان میں لے کر آرہی ہے، ہم اقتدار برائے اقتدار کی بات نہیں کرسکتے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا آج اس ملک میں آئینی ترمیم کی بات ہورہی ہے، کیا اس ملک کی عوام نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کریں، اس سے قبل کسی کو ترمیم یاد نہیں آئی، آج کس مجبوری کے تحت یہ کام کرنے جارہے ہیں؟
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ترمیم کرنے والے وہ لوگ ہیں جو عوام کے نمائندے نہیں ہیں بلکہ چوری شدہ کرسیوں پر بیٹھے ہیں، 24 کروڑ عوام کا ملک ہے اور اس کے نام نہاد نمائندے آئینی ترمیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ملک میں سیاسی عدم استحکام اور انتشار میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کا کسی کے پاس حل موجود نہیں ہے، اگر پاکستان کا نظام آئین کے مطابق نہیں ہوگا تو ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوگا اور اس کی وجہ سے معیشت ٹھیک نہیں ہوگی۔


مشہور خبریں۔
ملائیشیا کے اپوزیشن لیڈر وزیراعظم کے عہدے پر فائز
?️ 24 نومبر 2022سچ خبریں:ملائیشیا میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ہونے والے پارلیمانی
نومبر
اسلام آباد: پی ٹی آئی کا مرکزی سیکریٹریٹ سیل کرنے کیخلاف عدالت سے رجوع
?️ 26 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں اپنا
مئی
پاکستان: افغانستان میں ڈرون آپریشن کے لیے ہمارا امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے
?️ 5 نومبر 2025سچ خبریں: پاکستانی فوج کے ترجمان نے حالیہ اطلاعات کے جواب میں
نومبر
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفیکیشن جاری
?️ 1 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی،وزارت خزانہ
اکتوبر
الشفا ہسپتال میں صہیونی جرائم کے نئے انکشافات
?️ 25 مارچ 2024سچ خبریں: الجزیرہ کے ساتھ بات چیت میں غزہ کے الشفا اسپتال
مارچ
وزیراعظم کی احد چیمہ کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری
?️ 25 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکٹر نے اپنے مشیر
دسمبر
آرمی ایکٹ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، سندھ بار کونسل
?️ 7 ستمبر 2023 اسلام آباد:(سچ خبریں) سندھ بار کونسل نے پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ
ستمبر
مسجد الاقصی پر مسلسل دوسرے روز صیہونی حملے
?️ 27 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونی آبادکاروں کی ایک بڑی تعداد نے قابض فوج کی حمایت
ستمبر