ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی، امریکی سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت

?️

سچ خبریں: چینی شارٹ ویڈیو ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر امریکا میں ممکنہ پابندی کے خلاف امریکی سپریم کورٹ میں 10 جنوری کو سماعت ہوئی۔

خبر رساں ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق تقریبا تین گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت میں ٹک ٹاک، امریکی حکومت اور ٹک ٹاک کے کانٹینٹ کریئیٹرز نے دلائل دیے۔

ٹک ٹاک کے وکیل نے دلیل دیا کہ امریکی حکومت کسی کو اظہار رائے کی آزادی سے نہیں روک سکتی جب کہ عدالت کو ایپ پر مکمل پابندی عائد کرنے کے بجائے درمیانہ راستہ نکالنا چاہیے۔

ٹک ٹاک کے کانٹینٹ کریئیٹرز کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت مواد تخلیق کاروں کی آواز کو بند یا دبا نہیں سکتی۔

امریکی حکومت کی وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ چین ٹک ٹاک کو امریکا کے خلاف ہتھیار کے طور پر تیار کر رہا ہے، جس سے کبھی بھی نقصان ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کی 9 رکنی بینچ نے ٹک ٹاک کی درخواست پر سماعت کی، تاہم جیوری نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا۔

بی بی سی کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کے ججز حکومتی فیصلے کی تائید کرنے کے حق میں لگتے ہیں اور ممکنہ طور پر عدالت ٹک ٹاک کی درخواست مسترد کردے گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ قانون نافذ ہونے سے قبل یعنی 19 جنوری سے قبل اپنا فیصلہ سنائے گی۔

امریکی حکومت نے قانون بنا رکھا ہے کہ ٹک ٹاک 19 جنوری تک اپنے امریکی آپریشنز کسی امریکی کمپنی یا شخص کو فروخت کر دے، دوسری صورت میں ایپ پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔

امریکی حکومت نے گزشتہ برس پارلیمنٹ سے قوانین کو منظور کروانے کے بعد صدر کے دستخط ہوتے ہی نافذ کردیا تھا۔

قانون میں ٹک ٹاک کو 19 جنوری 2025 تک مہلت دی گئی تھی کہ وہ ایپ کے امریکی مالکانہ حقوق امریکیوں کو فروخت کرے، دوسری صورت میں اس پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔

دلچسپ بات یہ کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی نہ لگانے کا عندیہ دیا ہے اور انہوں نے سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے کہ ایپ پر پابندی نہ لگائے جائے بلکہ ایپ کی قسمت کا فیصلہ نئی امریکی حکومت پر چھوڑا جائے جو کہ اس مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس سے قبل ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کے اقدامات کیے تھے لیکن اس وقت عدالتوں کی جانب سے ٹک ٹاک کو ریلیف ملا تھا۔

مشہور خبریں۔

کیا امریکہ اور اسرئیل ایران کا حکومتی نظام بدل سکتے ہیں؟صیہونی میڈیا کی زبانی

?️ 16 جون 2024سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ اور تل

انسان کی ہوبہو نقل اتارنے والا روبوٹ تیار کر لیا گیا

?️ 17 جنوری 2022ٹوکیو(سچ خبریں) انسانوں کی ہوبہو نقل اتارنے والا روبوٹ تیار کر لیا

حماس کا اسرائیلی فوج سے معلومات اکٹھا کرنے کا نیا طریقہ

?️ 11 اپریل 2026سچ خبریں: غزہ میں جنگ شروع ہوئے دو سال سے زیادہ کا

بریکس کا ٹرمپ کی تجارتی دھمکیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر غور

?️ 29 اپریل 2025 سچ خبریں:بریکس ممالک کے اعلیٰ سفارتکار برزیل میں جمع ہوئے تاکہ

تل ابیب میں نیتن یاہو کو عوامی ہنگامے کا سامنا

?️ 13 اکتوبر 2025سچ خبریں:تل ابیب میں اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ کی بڑی احتجاجی

امریکہ کا مؤقف اسرائیل کی حمایت کرنا ہے، جنگ روکنا نہیں: نبیہ بری

?️ 16 اکتوبر 2024سچ خبریں: لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے صیہونی دشمن کے

شہباز گل پر سیاہی پھینکنے کے معاملہ پر ندیم افضل کیجانب سے برہمی کا اظہار

?️ 16 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں)قومی اسمبلی کے سابق رکن ندیم افضل چن نے گزشتہ

کیا امریکی حکومت ایک بار پھر شٹ ڈاؤن ہوگی؟

?️ 8 جنوری 2026سچ خبریں:امریکی کانگریس کے سینئر قانون سازوں نے 5 جنوری کو حکومت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے