صیہونیوں کا غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری

صیہونیوں کا غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری

?️

سچ خبریں:مرکز برائے انسانی حقوق فلسطین کے مطابق، صیہونی افواج نے جنگ بندی کے بعد ایک ہفتے کے اندر کم از کم 36 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جس میں 7 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے، اسرائیل نہ صرف بمباری جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ امدادی سامان کی ترسیل بھی روک رہا ہے تاکہ خوف و اضطراب کی فضا قائم رہے۔

مرکز برائے انسانی حقوق فلسطین نے اعلان کیا ہے کہ صہیونی حکومت نے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک 36 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جس کا مقصد غزہ کے عوام میں خوف و دہشت کو برقرار رکھنا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کے آغاز یعنی گزشتہ جمعہ دوپہر 12 بجے سے لے کر بدھ کی شام تک اسرائیلی فوج نے درجنوں فضائی، توپ‌خانہ اور فائرنگ کے حملے کیے ہیں، ان حملوں کے نتیجے میں 7 فلسطینی شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔؎

یہ بھی پڑھیں: بائیڈن کا غزہ میں تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز کا اعلان

مرکز کے میدانی مشاہدے میں بتایا گیا کہ منگل کی صبح اسرائیلی ڈرونز نے الشجاعیہ محلے میں شہریوں کے ایک گروہ پر حملہ کیا، جو اپنے تباہ شدہ گھروں کا معائنہ کر رہے تھے، ان میں سے 5 افراد موقع پر شہید ہوئے، جب کہ وہ کسی بھی طرح کی عسکری سرگرمی میں ملوث نہیں تھے،اسی روز خان یونس کے مشرقی علاقے الفخاری میں ایک اور شہری شہید اور ایک زخمی ہوا، جبالیا اور رفح میں بھی صہیونی افواج کی فائرنگ سے متعدد فلسطینی زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، ان حملوں کی نوعیت غیر عسکری اور بلاجواز ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر غزہ میں عدمِ استحکام، خوف اور دباؤ کی فضا برقرار رکھنا چاہتا ہے، مرکز نے واضح کیا کہ زیادہ تر حملے غزہ کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں کیے گئے، جہاں عام شہری اپنے ملبے میں سے باقی سامان تلاش کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نہ صرف حملے جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ غذائی اور طبی امداد کی ترسیل پر بھی رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔
1800 امدادی ٹرکوں میں سے صرف 173 ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے دیا گیا، اسرائیلی افواج اب بھی امداد پر قابض ہیں اور آتش‌بس کے تحت طے شدہ انسانی امداد کی فراہمی کی شقوں پر عمل نہیں کر رہیں۔

مرکز برائے انسانی حقوق نے اس رویے کو جنگی جرائم کا تسلسل قرار دیا ہے اور کہا کہ شہریوں کو خوراک، پانی اور دواؤں سے محروم رکھنا نسل‌کشی کی ایک شکل ہے، جو بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں جنگ بندی کی نئی امریکی صیہونی تجویز

مرکز نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی قانونی و اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیل کو آتش‌بس کے معاہدے پر عمل کرنے پر مجبور کرے۔
ساتھ ہی بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات تیز کرے اور مجرم عہدیداران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مشہور خبریں۔

اقتصادی سروے میں بتایا گیا کہ تعلیم کے شعبے میں کتنا خرچ کیا گیا

?️ 10 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)اقتصادی سروے پاکستان برائے سال 22-2021 میں نشاندہی کی گئی

ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ کو روکنے کے لیے سینیٹ کی دوبارہ ووٹنگ 

?️ 29 اپریل 2026 سچ خبریں:ڈیموکریٹک سینیٹر ٹم کین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ

سرینگر جموں ہائی وے کی بندش پرکشمیری سیاسی قیادت کاسخت ردعمل

?️ 16 ستمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

حزب اللہ کے ساتھ جنگ میں 15000 اسرائیلی مارے جائیں گے

?️ 16 جنوری 2024سچ خبریں:اسرائیلی حکومت کے سابق داخلی سلامتی کے مشیر نے آج حکومت

بائیڈن کی ایک بار پھر ایران کے ملکی مسائل میں مداخلت

?️ 15 اکتوبر 2022سچ خبریں:امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے ایک بار پھر بیان جاری کرتے

لبنان میں حزب اللہ کے خلعِ سلاح کا منصوبے سے داخلی و علاقائی کشیدگی میں اضافہ کا خدشہ

?️ 14 اگست 2025لبنان میں حزب اللہ کے خلعِ سلاح کا منصوبے سے داخلی و

صیہونیوں کے خلاف حزب اللہ کی میزائل کارروائیوں کے معمار کون ہیں ؟

?️ 10 جولائی 2024شہید محمد نعمہ ناصر حاج ابو نعمہ، 1965 میں پیدا ہوئے، لبنان

امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے ایران جنگ کی کیا لاگت آئی ہے؟

?️ 25 اپریل 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف جنگ پر امریکی اخراجات 61 ارب ڈالر سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے