ایران کے زیر زمین میزائل شہروں کے بارے میں صیہونی اخبار کی رپورٹ

زیر زمین میزائل

?️

سچ خبریں:صہیونی اخبار معاریو نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران متاثر ہونے والی متعدد زیر زمین میزائل تنصیبات کو مختصر وقت میں دوبارہ فعال کر لیا ہے،رپورٹ کے مطابق ایران کا دفاعی ڈھانچہ طویل المدتی جنگی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا ہے۔

صہیونی ذرائع ابلاغ نے ایران کے زیر زمین میزائل شہروں کے بارے میں ایک نئی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چالیس روزہ جنگ کے دوران متاثر ہونے والی متعدد تنصیبات دوبارہ فعال ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے میزائل دفاعی بنیادی ڈھانچے کو اس انداز میں تشکیل دیا ہے کہ وہ طویل المدتی جنگی حالات میں بھی مؤثر انداز سے کام جاری رکھ سکے۔

عبرانی زبان کے اخبار معاریو نے ایران کے زیر زمین میزائل ڈھانچے کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ نئی سیارچہ تصاویر اور انٹیلی جنس تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران مختصر مدت میں اپنے زیر زمین میزائل ڈھانچے کے بڑے حصے کو دوبارہ فعال بنانے میں کامیاب رہا ہے۔

اس صہیونی اخبار کے مطابق سیارچہ معلومات اور جغرافیائی تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کی انجینئرنگ اور دیکھ بھال کرنے والی ٹیموں نے ان سرنگوں کے بیشتر داخلی راستوں کو دوبارہ کھول دیا ہے جو امریکی حملوں کے نتیجے میں متاثر یا بند ہو گئے تھے۔

معاریو نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے تجزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے زیر زمین میزائل تنصیبات کے ۱۸ مراکز میں موجود ۶۹ سرنگی داخلی راستوں میں سے ۵۰ کو دوبارہ فعال کر لیا ہے۔ یہ وہ مقامات تھے جو پہلے براہ راست حملوں یا فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں متاثر ہوئے تھے یا ان کے راستے بند ہو گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق تازہ سیارچہ تصاویر اور جغرافیائی تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی انجینئرنگ اور تکنیکی ٹیمیں بمباری سے متاثرہ یا بند ہونے والی سرنگوں کے بیشتر داخلی راستے بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ اس اقدام سے میزائل شہروں کے وسیع حصوں کو دوبارہ سڑکوں اور اہم عملیاتی راستوں سے جوڑنا ممکن ہو گیا ہے۔

مغربی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران کی انجینئرنگ اور دیکھ بھال کی ٹیموں نے بلڈوزروں، کرینوں اور عام ٹرکوں کی مدد سے بحالی کا عمل انجام دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید حملوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی ممکنہ صورتحال کے لیے پہلے سے ہنگامی منصوبہ بندی موجود تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرنگوں کے داخلی راستوں کی تیز رفتار بحالی نہ صرف ایران کی انجینئرنگ صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس کے دفاعی نظریے کی بھی عکاسی کرتی ہے، جو براہ راست حملے کی صورت میں بھی کارروائیوں کے تسلسل پر مبنی ہے۔ ایران کی دفاعی حکمت عملی متبادل رسائی راستوں اور اضافی عملیاتی گزرگاہوں کی تعمیر پر زور دیتی ہے تاکہ بعض داخلی راستوں کے متاثر ہونے کے باوجود زیر زمین تنصیبات کے اندر نقل و حرکت برقرار رکھی جا سکے۔

معاریو نے مثال کے طور پر دزفول کے فوجی مرکز کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں موجود پانچ متاثرہ داخلی راستوں میں سے چار کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت نے یہ ظاہر کیا ہے کہ محفوظ زیر زمین تنصیبات اور ایران کے میزائل شہروں کے خلاف فضائی حملوں کی اثر پذیری محدود ہے۔

عربی اکیس ویب سائٹ نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ ماہرین کے مطابق امریکی اور صہیونی حملوں کا بڑا حصہ بیرونی داخلی راستوں، سڑکوں کے جال اور زمینی ریڈاروں پر مرکوز تھا، جبکہ زمین کی گہرائیوں میں موجود مرکزی ذخائر اور میزائل گودام غالباً براہ راست حملوں کی زد سے باہر رہے۔

ریٹائرڈ میجر جنرل اور عسکری تجزیہ کار ہاشم احمد نے ایران کے میزائل شہروں پر امریکی اور صہیونی حملوں کو صرف "عارضی حربی خلل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے محدود مدت کے لیے میزائل داغنے کی کارروائیوں کو سست ضرور کیا، لیکن مضبوط زیر زمین مراکز میں موجود ایران کی میزائل طاقت کو نقصان نہیں پہنچا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شاخ دار سرنگوں اور متعدد دفاعی تہوں پر مبنی حکمت عملی نے ایران کو حملوں کے اثرات محدود کرنے اور تنصیبات کو ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ دوبارہ فعال کرنے کی صلاحیت فراہم کی ہے۔

ادھر ریٹائرڈ میجر جنرل اور عسکری امور کے تجزیہ کار جلال الخوالدہ نے کہا کہ ایران کے میزائل شہروں کا ڈیزائن وسیع سرنگی نیٹ ورک اور متبادل اخراجی راستوں پر مبنی ہے۔ ان کے بقول یہ ساخت مرکزی دروازوں کو نشانہ بنا کر تنصیبات کو مفلوج کرنے کی کوششوں کی مؤثریت کو کم کر دیتی ہے۔

الخوالدہ نے زور دیا کہ مختصر مدت میں ان بڑی تعداد میں مراکز کا دوبارہ فعال ہونا ایک واضح عملیاتی پیغام ہے کہ ایران کا میزائل بنیادی ڈھانچہ حملوں کو برداشت کرنے اور طویل المدتی جنگی منظرنامے میں بھی کام جاری رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

خلیج تعاون کونسل کے ممبر ممالک ایران کے ساتھ تعلقات قائم کریں: قطر

?️ 13 اکتوبر 2021سچ خبریں:قطری وزیر خارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ

شام کے متعدد شہروں میں امریکی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے خلاف مظاہرے

?️ 27 جنوری 2021سچ خبریں:شام کے شمالی شہروں الحسکہ اور قمیشلی کے باشندوں نے امریکی

نیتن یاہو کا دورۂ امریکہ؛ فلوریڈا میں کیا ہوا؟

?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں:بنیامین نیتن یاہو کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فلوریڈا میں

اسرائیل کا وجود تباہی کے دہانے پر

?️ 18 جنوری 2023سچ خبریں:المیادین نیٹ ورک کی ویب سائٹ نے نیتن یاہو کی کابینہ

مزاحمتی محاذ کی زد میں اسرائیل کے حساس ترین ٹھکانے

?️ 27 دسمبر 2022سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین میں فوجی ٹھکانوں اور اڈوں، نیوکلیئر ری ایکٹرز وغیرہ

عراق کا خطے کے معاملات میں مرکزی کردار

?️ 17 مئی 2025سچ خبریں: عراق میں عرب لیگ کا 34 واں اجلاس کامیابی سے

چین نے تاجکستان میں اپنے شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ کی سطح بڑھا دی ہے

?️ 2 دسمبر 2025سچ خبریں: تاجکستان میں چینی سفارت خانے نے گزشتہ ہفتے سرحدی حملوں

سعودی اتحاد جنگ بندی پر کاربند نہیں: یمنی عہدہ دار

?️ 10 اپریل 2022سچ خبریں:یمن کی قومی سالویشن گورنمنٹ کے نائب وزیر خارجہ نے اپنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے