?️
سچ خبریں:انصار اللہ نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صہیونی جنگی پالیسیوں کے نتائج سے خود کو الگ نہیں کر سکتا۔
یمنی رہنما محمد الفرح نے کہا کہ ایران کی حالیہ کارروائیوں نے خطے میں نئی بازدارتی مساوات قائم کر دی ہیں اور امریکی مفادات بھی خطرے سے باہر نہیں ہیں۔
انصار اللہ یمن نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ صہیونیوں کی جنگی مہم جوئی کے نتائج سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔
خطے میں امریکہ اور صہیونی حکومت کو دیے جانے والے مسلسل انتبہات کے سلسلے میں انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے صہیونی دشمن کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد مفاہمتی بیانات دراصل ایک سیاسی کوشش ہیں جن کا مقصد خطے میں امریکی مفادات، فوجی اڈوں اور توانائی کے مراکز کو ممکنہ جوابی اقدامات سے محفوظ رکھنا ہے۔
امریکہ کی غیر جانبداری ظاہر کرنے کی کوشش بے سود
محمد الفرح نے کہا کہ امریکی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کسی بھی وسیع تصادم کے نتائج کس قدر سنگین ہو سکتے ہیں اور اس صورت میں پورے خطے میں امریکی فوجی اڈے اور توانائی سے متعلق مفادات براہِ راست نشانہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے واشنگٹن خود کو موجودہ کشیدگی سے الگ یا غیر جانبدار فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا یہ رویہ اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتا کہ واشنگٹن مسلسل سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس حمایت کے ذریعے صہیونی حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔ ان کے بقول صہیونی حکومت کے اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ دکھانے کی ہر کوشش ناکام رہے گی، کیونکہ دونوں فریق مختلف علاقائی معاملات میں قریبی تعاون رکھتے ہیں۔
انصار اللہ کے اس رہنما نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن جسے غیر جانبداری یا احتیاط قرار دیتا ہے، اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ امریکہ خطے کے عوام کے خلاف جارحانہ پالیسیوں میں بنیادی شریک ہے۔
ایران نے نئی مدافعاتی مساوات قائم کر دی
محمد الفرح نے خبردار کیا کہ لبنان کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کے نتائج صرف تہران اور صہیونی حکومت کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی تک محدود نہیں رہیں گے۔
ان کے مطابق امریکہ اپنی موجودہ سیاسی زبان کے ذریعے مفاہمتی پیغامات دینا چاہتا ہے تاکہ اپنے فوجی اڈوں اور حساس تنصیبات کو ممکنہ جوابی حملوں سے محفوظ رکھ سکے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران نئی بازدارتی مساوات مسلط کرنے اور صہیونی حکومت کے حامیوں کے لیے خطرات کا دائرہ وسیع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے حالیہ حملوں کے بعد میدانِ جنگ کی صورتحال پہلے سے مختلف ہو چکی ہے۔ اب صہیونی حکومت کے لیے فیصلے کرنا زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ کسی بھی وسیع جارحیت کا جواب مقبوضہ فلسطین کی حدود سے باہر تک پھیل سکتا ہے اور خطے میں اس کے حامی ممالک کے مفادات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
الفراح نے مزید کہا کہ صہیونی حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج اس کی مسلسل جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسی ہے، تاہم حالیہ عسکری تبدیلیوں اور مزاحمتی قوتوں کی جانب سے قائم کردہ نئے قواعدِ جنگ نے اس پالیسی کو بڑھتی ہوئی رکاوٹوں سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران یا لبنان کے خلاف کسی بھی نئی جنگی کارروائی کو ایک ایسے جارحانہ منصوبے کے طور پر دیکھا جائے گا جسے امریکہ کی براہِ راست یا بالواسطہ حمایت حاصل ہے۔ اس صورت میں واشنگٹن کی جانب سے خود کو ثالث یا غیر جانبدار فریق ظاہر کرنے کی کوششیں زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکیں گی۔
امریکہ جنگ کی قیمت جانتا ہے
انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کی بھاری قیمت سے بخوبی آگاہ ہے، اسی لیے ڈونلڈ ٹرمپ خود کو معقول اور غیر جانبدار ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ امریکہ کو ممکنہ نتائج سے دور رکھا جا سکے۔ ان کے بقول یہ رویہ دراصل امریکی کمزوری اور خوف کی علامت ہے، تاہم ایسے بیانات خطے میں امریکی اڈوں اور مفادات کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔
ادھر ایران کی جانب سے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر صہیونی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ علاقوں پر میزائل حملوں کے بعد انصار اللہ کے سینئر رہنما حزام الاسد نے مزاحمتی محور کے مشترکہ محاذ میں یمن کی مسلسل موجودگی پر زور دیتے ہوئے اپنے سماجی رابطے کے صفحے پر لکھا کہ تہران، بیروت، صنعاء، بغداد اور غزہ؛ جنگی توازن میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت کی جارحیت اور اس کے خلاف مزاحمتی قوتوں کے بھرپور جواب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلا جواب جارحیت کا دور ختم ہو چکا ہے۔ آج میدان میں محاذوں کے اتحاد کی نئی مساوات قائم ہو گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی جارحیت کے اثرات ایک مخصوص جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہیں گے۔
دوسری جانب عبرانی ذرائع ابلاغ نے یمن سے مقبوضہ فلسطین کی جانب میزائل فائر کیے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس حملے کے بعد 160 سے زائد علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جبکہ بن گورین ائرپورٹ پر فضائی پروازوں کو بھی عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
مزاحمتی ذرائع ابلاغ کے مطابق یمن کی مسلح افواج آئندہ چند گھنٹوں میں ایک اہم بیان جاری کرنے والی ہیں۔


مشہور خبریں۔
لبنان، امریکہ اور صیہونی حکومت کے درمیان سہ فریقی اجلاس میں کیا ہوا؟
?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں: ویب سائٹ ایکسیوس نے جنوبی لبنان کے قصبے الناقورہ میں لبنان،
دسمبر
ترکی میں اردوغان کے حریف کو 2350 سال قید کی سزا؛ اسپرنگ بورڈ یا لوگوں کے ذہنوں سے مٹایا جا رہا ہے؟
?️ 21 نومبر 2025سچ خبریں: فیلڈ ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اردگان
نومبر
ایرانی فتاح نے اسرائیل اور مغرب کو انگاروں پر لوٹا دیا:پاکستانی میڈیا
?️ 7 جون 2023سچ خبریں:پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اسلامی جمہوریہ ایران کی
جون
’ڈیڈ لائن میں توسیع‘ کی الجھن کے درمیان افغان باشندوں کی ملک بدری کا عمل آج شروع ہوگا
?️ 3 اپریل 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز (اے سی سی)
اپریل
خواتین کی تعلیم اور کام پر سے پابندی جلد ختم کر دی جائے گی: طالبان
?️ 13 فروری 2023سچ خبریں:استانکزئی نے کابل میں ایران کے اسلامی انقلاب کی فتح کی
فروری
غزہ جنگ کے بڑھتے اخراجات اور غیر یقینی نتائج؛صیہونی ماہرین کا انتباہ
?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں:اسرائیلی سیاسی اور عسکری ماہرین نے تل ابیب کو خبردار کیا
نومبر
حماس کے ساتھ امریکہ کے براہ راست مذاکرات میں تین بڑی کامیابیاں
?️ 13 مئی 2025سچ خبریں: الجزیرہ نیٹ ورک کی ایک رپورٹ میں حماس اور امریکہ
مئی
شاہد خاقان عباسی کا نئی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کیلئے الیکشن کمیشن سے رجوع
?️ 8 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نئی سیاسی
اپریل