?️
سچ خبریں:انصار اللہ نے غزہ کے محاصرے کے جواب میں صیہونی جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کا اعلان کر دیا ۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب کے فلسطینی عوام کے خلاف جاری مظالم کے جواب میں صیہونی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یمنیوں کے ہاتھوں صیہونیوں کی نیندیں حرام
المیادین نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق یمنی مزاحمتی تحریک انصار اللہ نے اسرائیل کو حتمی مہلت دی تھی کہ وہ غزہ کا محاصرہ ختم کرے اور فلسطینی عوام پر جاری بربریت کو روکے۔
تل ابیب کی جانب سے کسی بھی قسم کی مثبت پیش رفت نہ ہونے کے بعد، یمنی افواج نے فلسطینی عوام کی حمایت میں عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان، یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا:
صیہونیوں کے ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے، اب اسرائیلی جہاز بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور باب المندب کے علاقے میں محفوظ نہیں رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی مفادات سے منسلک تمام بحری جہازوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا اور جب تک غزہ کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا، ان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
یحییٰ سریع نے ان بحری کمپنیوں اور جہازوں کو متنبہ کیا جو اسرائیل کے ساتھ تجارتی روابط رکھتے ہیں کہ جو کوئی بھی اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جائے گا یا ہمارے پانیوں میں داخل ہوگا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے جاری رہیں گی تاکہ فلسطینی عوام کو درپیش محاصرہ ختم ہو۔
یحییٰ سریع نے اپنی تقریر میں فلسطینی عوام کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم غزہ اور غرب اردن کے بہادر فلسطینی عوام کو سلام پیش کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کی مزاحمت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یمن کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک سرکاری بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ اسرائیل سے منسلک تمام بحری جہازوں کو یمنی سمندری حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور یمن کے تمام دفاعی یونٹس کو اس حکم پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انصار اللہ نے اسرائیل کے خلاف اپنی نئی حکمت عملی کو واضح کر دیا ہے، جس کے تحت اسرائیلی مفادات پر براہ راست حملے کیے جائیں گے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل پہلے ہی کئی محاذوں پر شدید دباؤ کا شکار ہے اور عالمی برادری بھی اس کے فلسطین مخالف اقدامات پر تنقید کر رہی ہے۔
یہ نیا اقدام اسرائیل کی اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، خاص طور پر بحری تجارت پر انحصار کرنے والے صیہونی تاجروں کے لیے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
وزیراعظم کی نوازشریف سے ملاقات، پاک افغان کشیدگی بارے گفتگو
?️ 12 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے جاتی امرا میں سربراہ
اکتوبر
یوریشیا کی نظر میں حزب اللہ
?️ 23 اکتوبر 2023سچ خبریں: اتوار کے روز علاقائی تجزیہ کاروں نے تل ابیب کو
اکتوبر
پاکستان کے خلیج تعاون کونسل کے ساتھ آزاد تجارت کے ابتدائی معاہدے پر دستخط
?️ 29 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے
ستمبر
امریکہ اور یورپی ممالک برے وقت میں ہمارے کام نہیں آئے:یوکرائنی صدر
?️ 27 فروری 2022سچ خبریں:یوکرائن کے صدر نے امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے
فروری
بدعنوانی کیس: فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم
?️ 11 دسمبر 2023راولپنڈی: (سچ خبریں) راولپنڈی کی اینٹی کرپشن عدالت نے 35 لاکھ روپے
دسمبر
بھارتی حکومت آنیوالی نسلوں کو پانی کیلئے جنگوں پر مجبور کررہی ہے۔ بلاول بھٹو
?️ 5 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان کے سفارتی مشن کے سربراہ بلاول بھٹو
جون
پوپ نے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی چینلز استعمال کرنے پر زور دیا
?️ 3 اپریل 2026سچ خبریں: پوپ لیو چہاردہم نے صہیونی حکومت کے سربراہ سے ٹیلی
اپریل
پانچ شخصیات پر مشتمل کونسل حماس کی قیادت سنبھالے گی: اسامہ حمدان
?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں: حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے تصریح کی ہے کہ تحریکِ