امریکی سینیٹر کی نظر میں نیتن یاہو کیا ہیں؟

امریکی سینیٹر کی نظر میں نیتن یاہو کیا ہیں؟

?️

سچ خبریں: امریکی سینیٹر نے زور دیا کہ صیہونی ریاست کے وزیر اعظم ایک جنگی مجرم ہیں اور انہیں امریکہ کی دعوت نہیں دی جانی چاہیے نیز نہ ہی انہیں اس ملک کی کانگریس میں خطاب کرنے کی اجازت ملنا چاہیے۔

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ بنیامین نیتن یاہو ایک جنگی مجرم ہے اور اسے امریکہ کی کانگریس میں خطاب کی دعوت نہیں دی جانی چاہیے، میں یقیناً اس اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا۔

اس امریکی سینیٹر نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو حماس کے حملے کے خلاف اپنے دفاع کا حق ہے لیکن اسے فلسطینی عوام کے خلاف جنگ کرنے کا حق نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا امریکہ کو غزہ سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کرنا چاہیے تھی؟ امریکی سنیٹر کا کیا کہنا ہے؟

انہوں نے مزید لکھا کہ اسرائیل کو 34000 سے زائد غیر فوجی افراد کو قتل کرنے کا حق نہیں ہے، اسے 19000 بچوں کو یتیم کرنے کا حق نہیں ہے، اسے غزہ کے صحت کے نظام کو تباہ کرنے کا حق نہیں ہے، 26 اسپتالوں کو بند کرنے کا حق نہیں ہے اور 400 سے زیادہ طبی عملے کے ارکان کو مارنے کا حق نہیں ہے۔

برنی سینڈرز نے یہ بھی کہا کہ وہ بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری کے لئے بین الاقوامی فوجداری عدالت (دی ہیگ) کے حکم کی حمایت کرتے ہیں۔

صیہونی ریاست کے وزیر اعظم کی گرفتاری کے حکم کے امکان کے باوجود رواں سال کے اوائل میں امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر نے اعلان کیا کہ جلد ہی بنیامین نیتن یاہو کو کانگریس کے اجلاس میں مدعو کریں گے۔

امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر نے کہا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم کی میزبانی کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں کی جائے گی، کانگریس کا مشترکہ اجلاس امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے اراکین کا مشترکہ اجلاس ہو گا اور یہ امریکہ میں غیر ملکی رہنماؤں کے استقبال کی سب سے اعلیٰ سطحوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر نے مزید کہا کہ کانگریس کی 7 کمیٹیاں ان یونیورسٹیوں کی تحقیقات کر رہی ہیں جہاں یہود دشمنی پائی گئی ہے، غالباً ایوان نمائندگان کے اسپیکر کا اشارہ ان امریکی یونیورسٹیوں کی طرف ہے جہاں فلسطین کی حمایت میں احتجاجات منعقد ہوئے ہیں۔

امریکی کانگریس کی نیتن یاہو کی میزبانی اس وقت ہو رہی ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی نیتن یاہو کی گرفتاری کے لئے دی ہیگ کی ممکنہ عدالت کے حکم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس عدالت کی صلاحیت کو تسلیم نہیں کرتا، بائیڈن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہمارے خیال میں اسرائیل کی کاروائیوں اور حماس کی کاروائیوں میں کوئی مشابہت نہیں ہے۔

امریکہ کے برعکس، کچھ یورپی حکومتوں بشمول جرمنی نے صیہونی ریاست کے خلاف دی ہیگ کی عدالت کے حکم کو قبول کرنے کی اطلاع دی ہے اور اسی بنیاد پر صیہونی حکام جرمن حکومت کے نیتن یاہو کی گرفتاری کے حکم کے بارے میں موقف سے شدید ناراض اور غصے میں ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا غزہ میں ہونے والے جرائم کا ذکر یہود مخالفت ہے؟ امریکی سنیٹر

گزشتہ ہفتے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر نے صیہونی ریاست کے وزیر اعظم اور وزیر جنگ کو غزہ میں نسل کشی اور غیر فوجیوں کے خلاف جنگی ہتھیار کے طور پر بھوک کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کو مسلح کرنے کا تل ابیب کا خطرناک فیصلہ

?️ 29 جنوری 2023سچ خبریں:صیہونی ٹی وی چینل 12 کے ساتھ بات چیت میں ایک

امریکہ کی جاب سےیوکرین کو ریڈار اور زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل سسٹم فراہم

?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:  امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ زمین سے فضا

ایلان مسک کی ٹرمپ حکومت سے علیحدگی

?️ 30 مئی 2025سچ خبریں:ٹیسلا کے سی ای او ایلان مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ

ہم خطے کو بدلنا چاہتے تھے، خود ہی بھٹک گئے! : صیہونی

?️ 22 مئی 2025سچ خبریں: عالمی سطح پر صیہونی ریاست کے خلاف نفرت میں اضافے

مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں ترقی کا جھوٹا بیانیہ پیش کر رہی ہے

?️ 7 جون 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

لبنانی حکومتی اہلکار: امریکہ نے اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی "گارنٹی” نہیں دی ہے

?️ 20 اگست 2025سچ خبریں: لبنان کے نائب وزیر اعظم طارق میٹری نے یہ بیان

کیا حقیقت میں نیتن یاہو کے خلاف بغاوت ہونے والی ہے؟

?️ 18 اگست 2023سچ خبریں: اسرائیل کے فوجی اور سکیورٹی حکام نیتن یاہو کو ہر

شہباز اور حمزہ کے خلاف منی لانڈرنگ سے متعلق فواد چوہدری کا اہم بیان

?️ 11 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے  شہباز اور حمزہ سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے