ہم نے دہشت گرد صہیونیوں کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا ہے: جہاد اسلامی

ہم نے دہشت گرد صہیونیوں کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا ہے: جہاد اسلامی

?️

غزہ (سچ خبریں) دہشت گرد غاصب اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد فلسطین میں ہر طرف خوشی اور جشن کا ماحول ہے اور اس جنگ بندی کو اسرائیل کی بڑی ہار مانا جارہا ہے، اس سلسلے میں جہاد اسلامی کے سربراہ نے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ میں فلسطین کی نہتی قوم نے اسرائیل کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فلسطینی استقامتی تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ کا کہنا تھا کہ قدس شریف کے لئے جاری ہماری لڑائی اپنے گیارہویں روز میں داخل ہو چکی ہے جبکہ گزرنے والا ہر ایک دن پورے فلسطین کے چپے چپے پر بے رحم صیہونی قاتلوں کی ذلت و خواری میں اضافے کا باعث ہے۔

زیاد النخالہ نے کہا کہ ہم قدس شریف کے دفاع میں توہین و اجنبی یہودی شناخت سے آلودہ کئے جانے کی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور یہی ہماری قوم اور اس کی مزاحمت کا راستہ ہے جسے ہم آخری فتح کے بغیر کبھی ترک نہ کریں گے۔

انہوں نے نہتے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے صیہونی ظلم کے مقابلے میں عالمی برادری و عرب دنیا کی پراسرار خاموشی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بین الاقوامی و عرب دنیا کی خاموشی کے محاصرے کو توڑ ڈالیں گے تاہم یہ چپ دنیا سن لے کہ وہ اسلحہ کہ جس کے ذریعے ہم امریکہ کے جدید ترین اسلحے کا مقابلہ کر رہے ہیں، پانی کے وہ پائپ ہیں جنہیں مزاحمتی انجینئروں نے میزائلوں میں بدل ڈالا ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قابض صیہونی اپنے تمام پیشرفتہ ترین عسکری ساز و سامان کے باوجود، عام سے اسلحے کے حامل غزہ سے مقابلے کی تاب نہیں رکھتے تاہم یہ کتنی بڑی بےشرمی کی بات ہے کہ عالمی برادری نے بچوں اور نہتے عوام کے قتل عام پر چپ سادھ رکھی ہے جس کے ذریعے وہ غاصب صیہونی دشمن کو مزید بچوں کے قتل عام کی کھلی اجازت دے رہی ہے۔

زیاد النخالہ نے کہا کہ عالمی برادری و عرب دنیا سن لے کہ ہمارے خلاف موجود سخت ترین سرحدی محاصرے نے ہمیں خوراک سے بھی محروم کر رکھا ہے درحالانکہ ہماری نہتی عوام کا زیادہ سے زیادہ قتل عام کرنے کے لئے امریکہ کی جانب سے (غاصب صیہونی دشمن کو) مسلسل اسلحہ برآمد کیا جا رہا ہے۔

سربراہ جہاد اسلامی فلسطین نے عالمی پراسرار خاموشی کی جانب ایک مرتبہ پھر اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سلوک کی حامل دنیا ہمیں موت یا اپنی سرزمین کے لوٹے جانے پر خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے، ایک ایسی وحشی دنیا کہ جو صرف اور صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے۔

زیاد النخالہ نے تاکید کی کہ فلسطین اور اس کے گردونواح میں صرف ہماری ہی شمشیر کے ذریعے جنگ لڑی جائے گی جبکہ ہمیں محدود کر کے دوبارہ محاصرے میں گھیر دینے والے معاہدوں کی کوئی وقعت نہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک ایسے حال میں اس جنگ میں قدم رکھا ہے کہ ہم جانتے تھے کہ یہ ایک انتہائی مہنگا اقدام ہے لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قدس اور فلسطینی عوام کی آزادی اور ان کی حفاظت کا صرف یہی ایک راستہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے 2 ہی راستے موجود تھے، یا یہ کہ گھٹنے ٹیک کر اپنا سب کچھ قابض صیہونی دشمن کے حوالے کر دیں، یا اپنے خون کے آخری قطرے تک جنگ لڑیں، قدس شریف کی اس لڑائی میں بے رحم صیہونی قاتلوں کے لئے ہمارا پیغام یہ ہے کہ تمہارا جوہری اسلحہ، تمہارے لڑاکا طیارے اور تمہارے ذلت آمیز معاہدے ہمارے لئے کسی قسم کا امن و امان نہیں لا سکتے۔

مشہور خبریں۔

خسارے کا شکار 1700 یوٹیلٹی اسٹورز بند، کنٹریکٹ و ڈیلی ویجز ملازمین فارغ کرنے کا فیصلہ

?️ 21 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے خسارے کا شکار 1700 یوٹیلٹی اسٹورز

17 مئی سے ملک بھر میں مارکیٹیں کھولی جائیں گی

?️ 15 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)

افغانستان کو مغرب کے منفی پروپیگنڈے کا سامنا 

?️ 11 جنوری 2023سچ خبریں:طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر اطلاعات و ثقافت خیر اللہ

امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں پر یمنی فوج کے پیغامات

?️ 10 دسمبر 2024سچ خبریں: قابض حکومت نے ملک کی حکومت کے خاتمے کے بعد

وزیر تعلیم نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہورمیں نئے گریجویٹ بلاک کاسنگ بنیاد رکھا

?️ 20 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمونے نیشنل کالج آف آرٹس

پیرس اولمپکس میں پاکستانی سوئمرز کی کارکردگی پر تنقید

?️ 29 جولائی 2024سچ خبریں: پیرس اولمپکس کے 200 میٹر فری اسٹائل ہیٹس میں پاکستانی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

?️ 1 دسمبر 2021سچ خبریں:تیل پیدا کرنے والے بڑے اداروں کی نئی قسم کے کورونا

آنے والے دنوں میں اسرائیل پر کیا بیتنے والی ہے؟؛ صیہونی تجزیہ نگاروں کی زبانی

?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی تجزیہ کار اس حکومت کو درپیش خطرناک مستقبل اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے