?️
واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی صدر جو بائیڈن نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک اور ظالمانہ پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے میکسیکو کی سرحد پر الگ ہونے والے چار تارکین وطن خاندانوں کو اس ہفتے دوبارہ ملانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اس اقدام کو صدر جو بائیڈن کی جانب سے کیے گئے وعدے کی تکمیل سے تعبیر کیا جا رہا ہے جہاں انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ کیا تھا۔
جو بائیڈن سے بنی ٹاسک فورس کے سربراہ، مشیل برین نے اتوار کے روز رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے ان خاندانوں کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، مشیل برین نے کہا کہ اس ہفتے میں ہم جن معاملات کے بارے میں بارے میں بات کر رہے ہیں، ان میں بچے امریکا میں ہیں اور ان کے والدین ان سے ملنے کے لیے آںے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی غور کر رہی ہے کہ آیا انہیں طویل المیعاد امیگریشن کا درجہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی علیحدگی پالیسی پر مقدمہ کرنے والے امریکن سول لبرٹیز یونین کے اٹارنی لی جریلنٹ نے کہا کہ ان کی تنظیم کو یہ نہیں معلوم تھا کہ کتنے بچے والدین سے جدا ہوئے ہیں لیکن یہ تعداد ممکنہ طور پر ایک ہزار سے زیادہ ہے۔
بائیڈن انتظامیہ کو حالیہ مہینوں میں سرحد عبور کرنے والے تارکین وطن کی بڑی تعداد کا سامنا ہے جس میں نابالغ اور کم عمر بچوں سمیت اہلخانہ شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق وسطی امریکا سے ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن سے متعلق سخت گیر موقف اپنانے کے لیے شہرت رکھتی تھی اور انہوں نے 2018 میں غیرقانونی طریقے سے سرحد پار کرنے والوں کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی اپنائی جس کے نتیجے میں والدین بڑے پیمانے پر اپنے بچوں سے الگ ہو گئے۔
البتہ عالمی سطح پر تنقید کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اس سال پالیسی کو بدل دیا تھا لیکن وکلا اور نگران اداروں کے مطابق علیحدگی کا سلسلہ پالیسی سے پہلے ہی شروع چکا تھا اور اس کے بعد بھی جاری رہا۔
انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ معاملات میں والدین کو جلاوطن کردیا گیا اور بچے دوسرے رشتہ داروں یا کفیلوں کے ساتھ امریکا میں ہی رہے، بائیڈن نے ٹرمپ کی اہلخانہ سے علیحدگی کی اسکیم کو انسانی المیہ قرار دیا تھا۔
ڈی ایچ ایس کے سیکریٹری الیگژینڈرو میورکاس نے خوش قسمت خاندانوں کے حوالے سے تفصیلات بتانے سے تو انکار کردیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک کا تعلق ہنڈورس اور دوسرے کا میکسیکو سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دونوں خاندان اپنے بچوں سے 2017 سے الگ ہیں اور دیگر خاندانوں کی طرح یہ بھی اپنے بچوں سے مل سکیں گے۔


مشہور خبریں۔
اس ملک میں آئین کی کوئی حیثیت نہیں، حاکمیت ہمارے ملازمین کی ہے، مولانا فضل الرحمٰن
?️ 22 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن
فروری
غیرملکی امریکی امداد 90 دن کے لیے معطل؛ٹرمپ کا حکم
?️ 21 جنوری 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے
جنوری
بلنکن کا ریاض کا دورہ
?️ 7 جون 2023سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ ٹونی بلنکن منگل کو سعودی عرب روانہ ہو
جون
اتحادیوں کا فیصلہ کن اجلاس
?️ 28 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر فیصلہ
مارچ
700 کے قریب فلسطینی قیدی خطرناک بیماریوں میں مبتلا
?️ 27 مارچ 2023سچ خبریں:فلسطینی قیدیوں کے مطالعہ کے مرکز نے اعلان کیا ہے کہ
مارچ
مغربی حکام صیہونیوں کے تلوے کیوں چاٹ رہے ہیں؟
?️ 29 اکتوبر 2023سچ خبریں: تل ابیب کے لیے مغربی رہنماؤں کی حمایت صرف عام
اکتوبر
ہنٹر بائیڈن کی معافی کے امریکی عدلیہ اور ٹرمپ کی حکومت پر کیا اثر ہوگا؟
?️ 4 دسمبر 2024سچ خبریں:امریکی صدر جو بائیڈن نے 11 دسمبر کو اعلان کیا کہ
دسمبر
شیکھر سمن کا شاہ رخ خان اور ان کی اہلیہ کے ساتھ اظہار ہمدردی
?️ 10 اکتوبر 2021ممبئی (سچ خبریں)بالی ووڈ اداکار شیکھر سمن نےشاہ رخ خان اور گوری
اکتوبر