?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں مصنوعی ذہانت کی پالیسیوں کے مرکزی مشیر اور اہم معمار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں مصنوعی ذہانت کی پالیسیوں کے مرکزی معمار اور مشیر اعلیٰ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو رہے ہیں، جس کے بعد امریکی ٹیک پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے یہ مشیر، جنہوں نے موجودہ امریکی حکومت کی مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، رواں ماہ کے آخر تک کاک ہاؤس چھوڑ دیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کریشنن نے امریکی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی کے مشیر اعلیٰ کے طور پر اپنی ذمہ داری چھوڑ کر ایک ایسا ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو ٹیکنالوجی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم اس کا مقصد یہ ہے کہ کریشنن مستقبل میں بھی امریکی حکومت میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کے عمل میں کردار ادا کرتے رہیں۔
کریشنن کو ٹرمپ انتظامیہ کے مصنوعی ذہانت ایکشن پلان کے اہم معماروں میں شمار کیا جاتا ہے، جس کا مقصد ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر ضوابط میں نرمی اور امریکہ بھر میں ڈیٹا مراکز کی توسیع کو فروغ دینا تھا۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کی تیاری میں بھی کردار ادا کیا جس کے تحت ریاستوں کے مصنوعی ذہانت سے متعلق ضوابط کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق کریشنن اور ان کے قریبی ساتھی ڈیوڈ سیکس کی جانب سے حکومتی مداخلت کو کم سے کم رکھنے کی پالیسی کو بعض اوقات ٹرمپ کے پاپولسٹ حلقوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
جہاں سلیکون ویلی کے مشیر تیزی سے مصنوعی ذہانت کی ترقی کے حامی تھے، وہیں ٹرمپ کے بعض دیگر اتحادیوں نے اس ٹیکنالوجی کے روزگار پر اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سخت ضوابط کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کریشنن کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ان کے بغیر مصنوعی ذہانت کے میدان میں پیش رفت ممکن نہ ہوتی۔
تاہم حالیہ مہینوں میں امریکی حکام نے جدید مصنوعی ذہانت ماڈلز کی جانب سے سافٹ ویئر کی کمزوریوں کو تلاش کرنے کی صلاحیت پر تشویش ظاہر کی ہے، جسے سائبر حملوں کے لیے استعمال کیے جانے کا خطرہ ہے۔
ان خدشات کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی پالیسی پر نظرثانی شروع کی اور حال ہی میں ایک ایسا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس کے تحت جدید مصنوعی ذہانت ماڈلز کو عوامی سطح پر جاری کرنے سے قبل حکومتی جانچ پڑتال ضروری قرار دی گئی۔
کریشنن اس سے قبل معروف وینچر کیپیٹل فرم میں پارٹنر رہ چکے ہیں اور فیس بک و ٹوئٹر میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ ایلون مسک کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ٹوئٹر کے حصول کے دوران بھی مشاورت فراہم کر چکے ہیں۔
ان کی تقرری پر بعض امریکی دائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی تھی، تاہم وہ بعد میں ٹرمپ انتظامیہ کے اہم پالیسی سازوں میں شامل ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق کریشنن نے مختلف بین الاقوامی دوروں میں بھی امریکی وفد کے ساتھ شرکت کی اور مصنوعی ذہانت، ڈیٹا مراکز اور ٹیکنالوجی برآمدات سے متعلق کئی ایگزیکٹو پالیسیوں کی تیاری میں کردار ادا کیا۔


مشہور خبریں۔
حزب اللہ صہیونی دشمن کے ساتھ جنگ میں داخل کیوں ہوئی؟
?️ 9 جولائی 2024سچ خبریں: حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ
جولائی
فلسطینی شہید کے اہل خانہ کا سید حسن نصر اللہ کے نام شکریہ کا پیغام
?️ 12 اکتوبر 2021سچ خبریں:فلسطینی شہید نزار بنات کے بارے میں حزب اللہ کے سکریٹری
اکتوبر
مغربی کنارے کی بستیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں: اسپین
?️ 17 اگست 2025سچ خبریں: اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل البارس نے اعلان کیا
اگست
اسرائیلی فوجی کمانڈر کے درمیان لبنان کے بارے میں بات چیت
?️ 24 نومبر 2024سچ خبریں: اناطولیہ نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے اعلان
نومبر
اسرائیل کا بحیرہ احمر میں خفیہ داخلہ / بینیٹ کی حماقت اور بڑے جال میں گرفتار
?️ 10 اگست 2021سچ خبریں:ایسا لگتا ہے کہ نئے صہیونی وزیر اعظم اپنی جلد بازی
اگست
افغانستان کے مختلف شہروں میں داعش کے اہم ٹھکانے تباہ
?️ 29 جنوری 2023سچ خبریں:طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا
جنوری
فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، کشیدگی میں کمی اور مسائل کے پرامن حل پر زور
?️ 18 اپریل 2026اسلام آباد (سچ خبریں) چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم
اپریل
نگران وزیراعظم کیلئے منتخب کردہ 5 ناموں میں ’صرف سیاستدان‘ شامل نہیں
?️ 2 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اپنی آئینی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل
اگست