?️
کابل (سچ خبریں) طالبان نے پہلی بار ہتھیار ڈالنے کے بارے میں بڑا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب اشرف غنی کی حکومت ختم ہوگی اور دونوں فریقین کی جانب سے قابل قبول مذاکرات کے بعد نئی حکومت کابل میں قائم ہوجائے گی تو وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں گے۔
تفصیلات کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار پر اجارہ داری نہیں رکھنا چاہتے لیکن وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ جب تک کابل میں نئی حکومت قائم نہ ہو اور صدر اشرف غنی کا عہد ختم نہ ہو تب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین جو مذاکرات کرنے والے گروہ کے رکن بھی ہیں، نے طالبان کے مؤقف کی نشاندہی کی کہ ملک میں آگے کیا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اقتدار کی اجارہ داری پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ ماضی میں افغانستان میں اقتدار پر اجارہ داری قائم کرنے والی حکومتیں کامیاب نہیں ہوئیں لہذا ہم اسی فارمولے کو دہرانا نہیں چاہتے۔
تاہم انہوں نے اشرف غنی کی مستقل حکمرانی پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور انہیں جنگی راہب قرار دیا اور ان پر یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے عیدالاضحٰی کے اسلامی دن کے روز بھی تقریر کے دوران طالبان کے خلاف کارروائی کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
سہیل شاہین نے اشرف غنی کے حکومت کرنے کے حق کو مسترد کرتے ہوئے 2019 کے انتخابات میں سامنے آنے والے بڑے فراڈ کی نشاندہی کی۔
یاد رہے کہ اس انتخابات میں اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبد اللہ دونوں نے اپنی جیت ظاہر کرتے ہوئے خود کو صدر قرار دیا تھا، بعد ازاں ایک معاہدے کے بعد اب عبداللہ عبداللہ حکومت میں دوسرے نمبر پر ہیں اور مصالحتی کونسل کے سربراہ ہیں۔
واضح رہے کہ اشرف غنی نے اکثر یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ اس وقت تک عہدے پر رہیں گے جب تک نئے انتخابات اگلی حکومت کا تعین نہیں کردیتے۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں عبداللہ عبداللہ نے طالبان رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد کی سربراہی کی تھی، جس کا اختتام مزید مذاکرات کے وعدوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں اور بنیادی انفرا اسٹرکچر کے تحفظ پر ترجیح کے ساتھ ہوا تھا۔
سہیل شاہین نے مذاکرات کو ایک اچھا آغاز قرار دیا تاہم انہوں نے کہا کہ حکومتیں بار بار جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہیں جبکہ اشرف غنی کا اقتدار میں رہنا طالبان کے سرینڈر کرنے کے مطالبے میں رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی جنگ بندی سے پہلے ایک نئی حکومت کے لیے معاہدہ ہونا چاہیے جو ہمارے اور دیگر افغانوں کے لیے قابل قبول ہو، پھر جنگ نہیں ہوگی۔
سہیل شاہین نے کہا کہ اس نئی حکومت کے تحت خواتین کو کام کرنے، اسکول جانے اور سیاست میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی تاہم انہیں حجاب یا سر پر اسکارف پہننا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو گھر سے نکلنے کے لیے ان کے ساتھ مرد سربراہ کی ضرورت نہیں ہوگی اور نئے قبضہ ہونے والے اضلاع میں طالبان کمانڈروں کو یہ حکم ہے کہ یونیورسٹیز، اسکولوں اور بازاروں میں پہلے کی طرح کام جاری رہے گا جس میں خواتین اور لڑکیوں کی شرکت بھی شامل ہے۔
سہیل شاہین نے کہا کہ چند طالبان کمانڈرز نے جابرانہ اور سخت رویے کے خلاف قیادت کے احکامات کو نظرانداز کیا ہے اور ان میں سے متعدد کو طالبان کے ایک فوجی ٹربیونل کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور انہیں سزا دی گئی ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
سہیل شاہین نے کہا کہ کابل پر فوجی دباؤ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور اب تک طالبان نے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرنے سے خود کو روک لیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ نئے قبضہ کیے گئے اضلاع سے ملنے والے اسلحہ اور ساز و سامان کے بعد وہ ایسا کرسکتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
وزیرِ اعظم نہ کبھی جھکیں گے، نہ پاکستانیوں کو جھکنے دیں گے: فرخ حبیب
?️ 25 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب
فروری
ترک صدر کا خواتین کے تحفظ کے لیئے بنائے گئے قوانین کے خلاف اہم اعلان، ملک بھر میں خواتین نے احتجاج شروع کردیا
?️ 21 مارچ 2021استنبول (سچ خبریں) ترک صدر رجب طیب اردوان نے خواتین کے تحفظ
مارچ
وزیراعظم محمد شہباز شریف کل کوئٹہ کا دورہ کریں گے
?️ 7 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف کل کوئٹہ کا دورہ کریں
جنوری
باجوہ کے ’غیر جانبداری‘ کے وعدے کا اعتبار نہیں، سابق جنرل
?️ 5 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ایک ریٹائرڈ جنرل نے سابق آرمی چیف کے فوج
مارچ
میں بھی قاتلانہ حملے کا شکار ہوں: سارہ نیتن یاہو
?️ 27 نومبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے 12 ٹی وی چینل کے مطابق نیتن یاہو
نومبر
عراقی عدالت کا سابق وزیر تیل کے بارے میں کیا فیصلہ ؟
?️ 14 اگست 2023سچ خبریں:بغداد کے الکرخ عدالت نے آج مصطفیٰ الکاظمی کے دور میں
اگست
7 اکتوبر سے صہیونی فوج پر ہونے والے سائبر حملے
?️ 13 جولائی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ 7
جولائی
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی مسلسل چوتھے روز نئے وزیراعظم کے انتخاب میں ناکام
?️ 18 اپریل 2023 کشمیر:(سچ خبریں) آزاد جموں اور کشمیر کی قانون ساز اسمبلی مسلسل
اپریل