لبنان میں دھماکہ ہونے والے پیجرز کس کمپنی کے تھے؟

لبنان میں دھماکہ ہونے والے پیجرز کس کمپنی کے تھے؟

?️

سچ خبریں: تائیوان کی کمپنی گولڈ اپولو نے لبنان میں دھماکہ ہونے والے پیجرز کے اس کمپنی میں بنائے جانے کی تردید کرتے ہوئے یورپی کمپنی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ان پیجرز کو ان کے برانڈ کے نام سے تیار کیا ہے۔

تائپے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں پیجرز دھماکوں کے بعد سامنے آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دھماکے ہونے والے پیجرز بنانے والی کمپنی تائیوانی ہے، جس پر تائیوان کی کمپنی گولڈ اپولو کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپ کی ایک کمپنی نے ان پیجرز کو ان کے برانڈ کے نام سے تیار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیجر کیا ہے، اسے کیوں اور کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟

رپورٹ کے مطابق گولڈ اپولو کمپنی کے بانی اور سربراہ ہسو چینگ کوانگ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی نے یہ پیجرز نہیں بنائے جو لبنان میں دھماکوں کا سبب بنے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک یورپی کمپنی نے صرف ان کے برانڈ کے نام کا استعمال کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروڈکٹ ہمارا نہیں ہے،صرف ہمارے تجارتی نام کا استعمال کیا گیا ہے۔

گولڈ اپولو نے ایک بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ AR-924 ماڈل کے پیجرز BAC کمپنی بناتی اور فروخت کرتی ہے اور وہ صرف برانڈ کا لائسنس فراہم کرتے ہیں، جبکہ مصنوعات کے ڈیزائن یا تیاری میں ان کا کوئی کردار نہیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پیجرز کو لبنان پہنچنے سے پہلے ہی اسرائیل نے ان میں دھماکہ خیز مواد شامل کر دیا تھا۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ نے یہ پیجرز تائیوان کی کمپنی گولڈ اپولو سے منگوائے تھے جن میں اسرائیل نے لبنان آنے سے پہلے ہی دستکاری کر کے مواد نصب کیا تھا۔

اسی اثناء میں رشیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ہزاروں پیجرز میں دھماکہ خیز مواد بھرنے کے بعد انہیں لبنان میں تقسیم کیا۔

مزید پڑھیں: بیروت میں ہونے والے پیجرز دھماکوں کے چار ممکنہ احتمال

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک مخصوص پیغام کے بھیجے جانے پر پیجرز کی بیٹری گرم ہو کر اندر موجود پلاسٹک دھماکہ خیز مواد کو پھاڑ دیتی تھی۔

ان دعوؤں کے باوجود حزب اللہ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا اور بتایا ہے کہ ان دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں۔

مشہور خبریں۔

حکومت نے عوام پر ٹیکس کا اضافی بوجھ کیوں ڈالا؟

?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان کے حالیہ بجٹ پر نہ صرف اپوزیشن رہنماؤں نے

اسلام آباد بلدیاتی انتخابات کے قانون میں ترامیم کیلئے قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس آج طلب

?️ 22 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے

کوئی سیاسی رہنما ہماری ذمہ دای کے حوالے سے ملنا چاہے تو ضرور ملاقات کریں گے، نگران وزیراعظم

?️ 12 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ اب

ہمارا مقصد یمن کا محاصرہ ختم کرنا ہے:انصاراللہ

?️ 9 اگست 2022سچ خبریں:یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے اس بات کی طرف

آج پھر عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، یہ عدالت کی توہین ہے، شبلی فراز

?️ 3 اپریل 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا ہے

وال سٹریٹ جرنل کا ایران کو نئی امریکی پیشکش کے بارے میں دعویٰ

?️ 30 مئی 2025سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل نے ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار کے

ججز ٹرانسفر کیس؛ ہائیکورٹ ججوں کی نئی متفرق درخواست دائر، آئینی عدالت میں سماعت چیلنج کردی

?️ 22 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ججز ٹرانسفر کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے

ٹرمپ کے ٹیرف چیلنج پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے اختیارات

?️ 1 جون 2025سچ خبریں: پاکستان اور امریکہ نے وائٹ ہاؤس کے نئے ٹیرف پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے