غزہ میں تعلیمی نظام کی تباہی سے ایک گمشدہ نسل کا خطرہ؛ یونیسف کا انتباہ

غزہ میں تعلیمی نظام کی تباہی سے ایک گمشدہ نسل کا خطرہ؛ یونیسف کا انتباہ

?️

سچ خبریں:یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ صیہونی بمباری اور تعلیمی ڈھانچے کی تباہی کے باعث غزہ کے بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں، اگر فوری طور پر بحالی ممکن نہ ہوئی تو ایک پوری فلسطینی نسل کھو جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے (یونیسف) کے علاقائی ڈائریکٹر نے غزہ کے تعلیمی نظام کی تباہی اور طلبہ کی تعلیمی سہولیات سے محرومی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تعمیراتی مواد کی آمد پر پابندی کے باعث، غزہ کے بچے طویل عرصے سے اسکولوں سے محروم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بے مثال نسل کشی؛ غزہ کا نہ ختم ہونے والا المیہ اور عالمی اخلاقی نظام کا خاتمہ

یونیسف کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے علاقائی ڈائریکٹر ادوارد بیگبدر نے فلسطینی علاقوں کے حالیہ دورے کے بعد فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ یہ غزہ کے بچوں کے لیے تیسرا سال ہے جب وہ اسکول نہیں جا سکے، اگر ہم آئندہ فروری تک ان کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کا بندوبست نہ کر سکے، تو ہم چوتھے سال میں داخل ہوں گے اور تب ہم واقعی ایک ‘گمشدہ فلسطینی نسل’ کی بات کر سکیں گے”

انہوں نے کہا کہ 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد، یونیسف اور اس کے تعلیمی شراکت داروں نے صرف ایک چھوٹے سے حصے تقریباً چھٹے حصے کے طلبہ کو عارضی تعلیمی مراکز میں واپس لا سکے ہیں۔
تاہم غزہ کی 85 فیصد اسکول عمارتیں یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں یا ناقابلِ استعمال ہیں، جب کہ باقی بچ جانے والے کئی اسکول بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

اسکولوں اور اساتذہ کی ناگفتہ بہ حالت

یونیسف کے عہدیدار نے مزید بتایا کہ اساتذہ اور طلبہ کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، غزہ کے اساتذہ، جو خود بھی جنگ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، ان کی سب سے بڑی فکر اب تعلیم نہیں بلکہ پانی اور خوراک کا حصول ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ سے پہلے بھی فلسطینی طلبہ کی تعلیمی حالت تشویشناک تھی، مگر اب صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے،عارضی تعلیمی مراکز یا تو تباہ شدہ اسکولوں کے قریب یا پناہ گزین کیمپوں کے اندر خیموں میں قائم کیے گئے ہیں۔ لکڑی کے ڈبوں کو میز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، میں نے خود دیکھا کہ بچے سرد زمین پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں اور اساتذہ کے پاس بھی آرام کا کوئی انتظام نہیں۔

تعلیم تباہ شدہ معاشرے کی تعمیرِ نو کا واحد ذریعہ

بیگبدر نے کہا کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جو جنگ سے متاثرہ بچوں کو دوبارہ سماجی ہم آہنگی کی طرف واپس لا سکتا ہے۔ تقریباً تمام بچے شدید ذہنی و نفسیاتی صدمات کا شکار ہیں اور انہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیسف کی اولین ترجیحات میں اسکولوں کی تعمیر کے لیے تعمیراتی سامان اور تعلیمی وسائل کی فراہمی شامل ہے لیکن اسرائیل ان اشیاء کے داخلے کی اجازت نہیں دے رہا۔ سوال یہ ہے کہ ہم بغیر تعمیراتی مواد کے کلاس رومز کیسے بنائیں؟

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچے بنیادی تعلیمی لوازمات جیسے کتاب، کاپی، قلم اور دیگر سامان سے محروم ہیں، آج غزہ کے عوام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پانی اور غذا ہے، لیکن ہمیں اس انسانی المیے کے بیچ تعلیم جیسے حیاتیاتی موضوع کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

غزہ میں ہولناک تباہی کی صورتحال

یونیسف کے نمائندے نے کہا کہ یہ سوچنا بھی مشکل ہے کہ غزہ پٹی کا 80 فیصد علاقہ مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے،غزہ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق، 95 فیصد سے زائد اسکول اور یونیوسٹیاں یا تو تباہ ہو چکی ہیں یا بے گھر افراد کے عارضی مراکز میں بدل دی گئی ہیں، ہزاروں طلبہ اور اساتذہ شہید یا زخمی ہو چکے ہیں، جس سے تعلیمی نظام میں ناقابلِ تلافی خلا پیدا ہو گیا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق، غزہ پر صہیونی جارحیت نے تقریباً 6.5 لاکھ طلبہ کو تعلیم سے محروم کر دیا ہے، مزید برآں، 19 ہزار طلبہ اور 900 اساتذہ و تعلیمی کارکنان شہید، زخمی یا لاپتہ ہو چکے ہیں اور 160 اسکول مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:فلسطینیوں کی نسل کشی کے بارے میں صیہونی نظریہ

امید کی کرن؛ خیموں میں قائم عارضی کلاسیں

جنگ کے خاتمے کے بعد، اساتذہ اور تعلیمی رضاکاروں نے فوری بحالی کے اقدامات شروع کیے ہیں، عارضی خیموں میں بنائے گئے اسکولوں میں دس ہزاروں طلبہ تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ اس تباہی کے باوجود مستقبل کی امید زندہ رکھی جا سکے۔

مشہور خبریں۔

امریکی سفارت کار کا حزب اللہ اور صیہونی حکومت کے درمیان ممکنہ جنگ کا دعویٰ

?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:ایک امریکی سفارت کار نے صیہونی حکومت اور حزب اللہ کے

ڈونلڈ لو رجیم چینج کو تسلیم کر لیتا تو دباؤ جو بائیڈن حکومت پر آتا، عمران خان

?️ 26 مارچ 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ

ملک کا طاقتور طبقہ پولیس کو کنٹرول کر رہا ہے، جسٹس اطہر من اللہ

?️ 12 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ

شام میں غیر معمولی امریکی دہشتگردی

?️ 5 اکتوبر 2023سچ خبریں: شام میں روس کے مرکز برائے مصالحت کے نائب نے

کراچی سپریم کورٹ نے مساجد اور مزار گرانے کا حکم دے دیا

?️ 28 دسمبر 2021کراچی(سچ خبریں) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں طارق روڈ پارک پر مدینہ

پوپ لیو: اب ترامپ سے بحث نہیں کروں گا / امن کا پیغام بیان کروں گا

?️ 20 اپریل 2026سچ خبریں: دنیا کے کیتھولک مسیحیوں کے رہنما پوپ لیو نے ایران

اسرائیل کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد مذاکرات ممکن نہیں: حماس

?️ 12 مئی 2026 سچ خبریں:حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ کے میڈیا مشیر، طاہر

ایران کے خلاف فوجی آپشن ناکام و پرخطر؛ یورپی یونین کے سکیورٹی اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ

?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں:یورپی تجزیاتی ادارے EUISS کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے