?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ دراصل ایک بڑے عالمی اقتصادی بحران اور تیل کی منڈی میں ممکنہ شدید خلل کو روکنے کے لیے کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ عالمی اقتصادی بحران اور تیل کی ممکنہ کمی کے باعث کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ جاری رہتی تو عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب امریکی پروگرام اکسیوس شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر تیل کئی مہینوں تک عالمی منڈی میں داخل نہ ہوتا تو یہ صورتحال عالمی کساد بازاری کا سبب بن سکتی تھی۔
اکسیوس ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف غیر مشروط تسلیم کے مطالبے کے ساتھ جنگ میں داخل ہوئے تھے، تاہم بعد میں انہیں ایک محدود معاہدہ پر اکتفا کرنا پڑا۔
ایک سوال کے جواب میں کہ انہوں نے اس جنگ سے کیا سبق سیکھا، ٹرمپ نے دعویٰ کیا: کوئی حد نہیں ہے۔ میں نے ابھی تک وہ سبق نہیں سیکھا۔ مجھے معلوم ہے کہ حدود ہوتی ہیں، لیکن میرے لیے کوئی حد نہیں ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ہم نے انہیں مکمل طور پر فوجی طور پر شکست دی اور یہ معاہدہ تقریباً غیر مشروط تسلیم کے مترادف ہے۔
ٹرمپ کے مطابق: ہمارے علاوہ کون ایسا بحری محاصرہ کر سکتا تھا؟ میں نے ایسا بحری محاصرہ کیا کہ ایک بھی جہاز گزر نہیں سکا۔ کچھ نے کوشش کی، لیکن زیادہ دیر نہیں چلا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر جنگ جاری رہتی تو اس کے متبادل نتائج بہت زیادہ خطرناک ہو سکتے تھے۔
ٹرمپ نے ان ناقدین پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا جو ان سے ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق: اگر سختی کرنی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دو یا تین ہفتے مزید بمباری کی جائے۔ لیکن اس سے ہمیں کیا ملے گا؟ آبنائے ہرمز بند ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں عالمی سطح پر تیل کی شدید قلت پیدا ہو سکتی تھی اور یہی صورتحال عالمی کساد بازاری کا سبب بن سکتی تھی۔
اکسیوس کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ ٹرمپ نے نجی طور پر عالمی تیل کے ذخائر میں کمی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہتی تو دنیا کو شدید تیل بحران کا سامنا کرنا پڑتا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب متعدد بین الاقوامی تجزیہ کار پہلے ہی ایران کے خلاف جنگ کے عالمی اقتصادی اثرات کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ 18 جون 2026 کی شب ایران اور امریکہ کے صدور کی جانب سے ڈیجیٹل طور پر دستخط کیا گیا۔


مشہور خبریں۔
الیکشن کا مطالبہ سیلاب متاثرین کی زندگیوں سےکھیلنے کے مترادف ہے،بلاول
?️ 29 ستمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سیلاب
ستمبر
پی آئی اے کا پاکستان سے براہ راست آسٹریلیا پروازوں کا اعلان
?️ 15 فروری 2022کراچی (سچ خبریں) پی آئی اے مارچ کے آخری ہفتے میں کراچی
فروری
متجاوزین کو مصون رکھنے سے قانونی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے: ایران
?️ 5 مئی 2026 سچ خبریں:ایران کے اقوام متحدہ میں مندوب نے کہا ہے کہ
مئی
ہمارا نیٹو یا یورپی یونین کے ارکان پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے: روس
?️ 11 جون 2026سچ خبریں: ڈنمارک میں روس کے سفیر نے نیٹو یا یورپی یونین کے
جون
صیہونیوں کا شامی فوج کے ٹھکانوں پر مارٹر حملہ
?️ 7 جنوری 2022سچ خبریں:ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ شام کے شہر قنیطرہ میں
جنوری
افغانستان کو دہشت گردی کیلئے بھارتی پشت پناہی حاصل ہے۔ گورنر سلیم حیدر
?️ 21 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) گورنر پنجاب سلیم حیدر نے کہا ہے کہ افغانستان
اکتوبر
صومالیہ کے صدر کی اسرائیلی مداخلت پر شدید تنقید؛ پورے افریقہ کے لیے خطرہ قرار
?️ 7 فروری 2026سچ خبریں:صومالیہ کے صدر نے اسرائیل کی غیرقانونی مداخلت کو نہ صرف
فروری
افغانستان سے جنگ نہیں چاہتے، ایران پر جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔ رانا ثناءاللہ
?️ 21 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے
مارچ