افغانستان میں امریکی فوج کی کمان کرنے والے جنرل نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اہم قدم اٹھالیا

افغانستان میں امریکی فوج کی کمان کرنے والے جنرل نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اہم قدم اٹھالیا

?️

کابل (سچ خبریں) افغانستان میں امریکی فوج کی کمان کرنے والے جنرل آسٹن ملر نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اہم قدم اٹھاتے ہوئے پنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں منعقدہ ایک تقریب جنرل آسٹن ملر نے کمانڈر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس سے طویل افغان جنگ کا علامتی اختتام ہوگیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جنرل آسٹن ملر نے امریکی جنگ کا علامتی اختتام کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جبکہ طالبان ملک بھر میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس فروری کے آخر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت افغانستان سے انخلا پر راضی ہوا تھا۔

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل آسٹن ملر نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان خانہ جنگی کی جانب جاسکتا ہے اور حالات مزید خراب ہوں گے۔

امریکا کے نئے صدر جوبائیڈن نے بھی ان فوجی رہنماؤں کی توقعات پر پانی پھیر دیا تھا جو افغانستان میں فوجیوں کی موجودگی برقرار رکھنے کے حامی تھے اور رواں برس اپریل میں اعلان کیا کہ 11 ستمبر سے قبل امریکی فوج کا مکمل انخلا ہوگا۔

جوبائیڈن نے 9 جولائی کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ میں امریکیوں کی ایک اور نسل کو افغانستان میں جنگ کے لیے نہیں بھیجوں گا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے 31 اگست کی حتمی تاریخ کا اعلان کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا تھا کہ امریکی فوج نے افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرلیے ہیں، جس میں اسامہ بن لادن کو مارنا، القاعدہ کو کمزور کرنا اور امریکا پر مزید حملے ہونے سے روکنا شامل ہے۔

جوبائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکیوں کی ایک اور نسل کو ناقابل فتح جنگ میں قربان کرنے کے بجائے افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔

وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا تھا کہ افغان فوج کے پاس طالبان کو پیچھے دھکیلنے کی صلاحیت موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جن مقاصد کے لیے افغانستان گئے تھے وہ مقاصد حاصل کرلیے، ہم افغانستان میں قومی تعمیر کے لیے نہیں گئے تھے اور یہ افغان عوام کا حق اور ذمہ داری ہے کہ وہ خود اپنے مستقبل اور اس بات کا فیصلہ کریں کہ ملک کس طرح چلانا ہے۔

جو بائیڈن نے خطے کے ممالک سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحارب فریقین کے درمیان ایک جامع سیاسی تصفیہ کرنے میں مدد کریں، افغان حکومت کو طالبان کو پرامن طریقے سے ساتھ رہنے دینے کے لیے ان کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن و سلامتی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ وہ طالبان کے ساتھ پرامن رہنے کے طریقہ کار پر کام کرنا ہے کیونکہ پورے ملک کو کنٹرول کرنے کے لیے افغانستان میں ایک متفقہ حکومت بننے کا امکان بہت کم ہے۔

مشہور خبریں۔

عراق کی ایک وفاقی عدالت نے صدارت کے لیے ہوشیار زیباری کو کیا مسترد

?️ 14 فروری 2022سچ خبریں:  عراق کی ایک وفاقی عدالت نے اتوار کے روز صدارت

ٹرمپ کے ایلچیوں کا مقبوضہ علاقوں کے دورے کے دوران غیر معمولی رویہ 

?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے میڈیا ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ٹرمپ

ہم نو ٹو کنگز احتجاج کروانے والوں کے حامیوں کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں

?️ 20 اکتوبر 2025ہم نو ٹو کنگز احتجاج کروانے والوں کے حامیوں کے بارے میں

بھارتی انتہا پسند ڈرامے باز مودی کا کشمیری عوام کو دھوکا اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی گہری سازش

?️ 25 جون 2021(سچ خبریں) بھارتی انتہا پسند اور ڈرامے باز وزیر اعظم نریندر مودی

مسقط کی ثالثی سے واشنگٹن اور دمشق کے درمیان مذاکراتی چینل بحال

?️ 30 مئی 2023سچ خبریں:باخبر ذرائع نے امریکی اور شامی حکومتوں کے درمیان مذاکرات کے

خطے میں کسی جنگ میں امریکی شراکت دار نہیں بنیں گے: وزیر اعظم

?️ 16 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستانی وزیر اعظم نے امریکی صدر جو بائیڈن

موجودہ حکومت کے 8 ماہ میں بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ

?️ 20 نومبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) شہباز شریف کی زیر قیادت حکومت کے

شمالی آئرلینڈ میں سیاسی زلزلہ؛ آزادی پسندوں نے انتخابات میں تاریخ رقم کی

?️ 10 مئی 2022سچ خبریں: شمالی آئرلینڈ میں ووٹرز نے مقننہ کے 90 نئے اراکین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے