صیہونی فوج میں افرادی قوت کی شدید کمی

صہیونی

?️

سچ خبریں:صہیونی فوج کے چیف آف اسٹاف نے سیاسی اور سیکیورٹی حکام کو ایک سخت لہجے کا خط ارسال کرتے ہوئے فوج میں انسانی وسائل کی سنگین کمی سے خبردار کیا ہے۔

صہیونی حکومت کے ٹی وی چینل چینل 7 کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زمیر نے حال ہی میں وزیر اعظم، وزیرِ جنگ اور پارلیمان (کنیسٹ) کی خارجہ امور و دفاعی کمیٹی کے سربراہ کو ایک سخت خط ارسال کیا ہے، جس میں جنگی دستوں میں شدید افرادی قلت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ کے خلاف اسرائیلی دہشت گردی کے اثرات، صہیونی فوج میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے

یہ خط، جسے اسرائیلی چینل 12 نے منظرِ عام پر لایا، میں چیف آف اسٹاف نے خبردار کیا ہے کہ انسانی وسائل کی سنگین کمی رواں سال کے دوران فوج کی آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور حتیٰ کہ فوجی ڈھانچے کے انہدام کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

ایال زمیر نے اپنے خط میں گزشتہ دو برسوں کے دوران غزہ کی تباہ کن جنگ کے دوران پیش آنے والی سیکیورٹی حقیقتوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ان حالات نے بے مثال چیلنجز کو جنم دیا ہے، جنہوں نے اسرائیلی فوج کے انسانی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی سروس سے متعلق قانون کی منظوری میں تاخیر، آئندہ مشنز کی انجام دہی میں فوج کی صلاحیت کو نمایاں طور پر متاثر کر رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے واضح کیا کہ لازمی فوجی خدمت کی مدت کو فوری طور پر 36 ماہ تک توسیع نہ دینا، فوج کے افرادی نظام کو شدید نقصان پہنچائے گا، اور اس کے اثرات ممکنہ طور پر اوائل 2027 سے نمایاں ہونا شروع ہو جائیں گے۔

اس سے قبل، صہیونی فوج نے اعتراف کیا تھا کہ اسے اپنی فوجی ساخت میں 12 ہزار اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے اور اسی تناظر میں آرتھوڈوکس یہودیوں (حریدی) کو فوجی خدمت میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو مقبوضہ علاقوں میں ایک بڑے داخلی بحران کا سبب بن چکا ہے۔ حریدی گروہ فوجی خدمت سے استثنا کے خواہاں ہیں اور بھرتی کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ایک جانب اسرائیلی فوج ہزاروں جنگی اہلکاروں کی کمی کی نشاندہی کر رہی ہے، وہیں دوسری جانب کنیسٹ میں ایک ایسا قانون تیار کیا جا رہا ہے جس کا مقصد حریدی یہودیوں کو فوجی خدمت سے مزید استثنا دینا ہے۔

مزید پڑھیں: فوج کی کمی پوری کرنے کے لیے صیہونیوں کا احمقانہ منصوبہ

ادھر، حریدی جماعتوں نے صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو دھمکی دی ہے کہ اگر یہ قانون منظور نہ ہوا تو وہ حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو جائیں گی، جس کے نتیجے میں نیتن یاہو کی کابینہ کے انہدام کا شدید خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو کی نئی شرائط پر صیہونیوں کا عدم اطمینان

?️ 13 جولائی 2024سچ خبریں: عبرانی اخبار Ha’aretz نے صہیونی ذرائع کے حوالے سے خبر دی

امریکی سینیٹ کی 858 ارب ڈالر کے فوجی بجٹ کی منظوری

?️ 18 دسمبر 2022سچ خبریں:امریکی سینیٹ نے اس ملک کے 858 بلین ڈالر کے فوجی

یوکرین جانتا ہے کہ وہ روس کے ساتھ جنگ میں ہار گیا ہے: مدودف

?️ 9 فروری 2023سچ خبریں:روس کی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین کا کہنا ہے

صیہونی حکام کی اپنے قیدیوں کی ہلاکت سے بچنے کی کوشش

?️ 10 جون 2024سچ خبریں: صیہونی فوج کے ترجمان نے غزہ میں صیہونی قیدیوں کی

شام میں فوجی آپریشن کریں گے:ترکی

?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:ترک صدر نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ ان

غزہ میں کون سی فتح کی بات ہو رہی ہے، واضح نہیں!

?️ 20 مئی 2025سچ خبریں:  صیہونی حلقوں کی فوج اور کابینہ پر تنقید کے سلسلے

یمنی تنظیم کا یوکرین کے خلاف اسلامی ممالک سے اہم مطالبہ

?️ 22 جولائی 2023سچ خبریں: یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر نے اعلان

ایسی فوج جو صحافیوں پر بھی براہ راست گولی چلاتی ہے

?️ 25 جولائی 2023سچ خبریں: گزشتہ 22 سالوں میں صرف مغربی کنارے میں کم از

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے