سعودی ولیعہد کا واشنگٹن دورہ: علامتی معاہدے، بھاری رقوم اور ٹرمپ کی مالی ترجیحات

سعودی ولیعہد کا واشنگٹن دورہ: علامتی معاہدے، بھاری رقوم اور ٹرمپ کی مالی ترجیحات

?️

سچ خبریں:لبنانی روزنامہ الاخبار کے مطابق محمد بن سلمان کا دورۂ امریکہ بنیادی طور پر مالی معاہدوں اور ٹرمپ کی اقتصادی ترجیحات سے منسلک ہے، جبکہ اف-35 سمیت عسکری معاہدوں کو علامتی اور کم اثر قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بن سلمان عادی سازی کے کھلے رسک سے گریز اور داخلی طاقت کے استحکام پر توجہ دے رہے ہیں۔

لبنانی روزنامہ الاخبار نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے امریکہ دورے کو بنیادی طور پر مالی اور اقتصادی معاملات سے وابستہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ معاہدے زیادہ تر علامتی نوعیت کے ہیں اور امکان نہیں کہ سعودی ولیعہد اسرائیل کے ساتھ کھلی عادی سازی کا رسک لیں گے۔ تجزیے کے مطابق اس دورے میں بن سلمان کے اہداف سیاسی سے زیادہ مالی نوعیت کے ہیں، جبکہ ٹرمپ کے لیے بھی مالی منفعت اولین ترجیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا واشنگٹن سعودی عرب کے ایٹمی پروگرام کی منظوری دے گا؟

رپورٹ کے مطابق اگرچہ سعودی میڈیا اسے تاریخی اور اہم قرار دیتا ہے، لیکن یہ دورہ علاقائی توازن میں کوئی بڑا تبدیلی پیدا نہیں کرے گا۔ تاہم یہ دورہ دونوں رہنماؤں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ ٹرمپ کو سرمایہ درکار ہے اور بن سلمان کے پاس خطیر مالی وسائل موجود ہیں، جس سے باہمی مفاد کی بنیاد پر سودوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

الاخبار لکھتا ہے کہ بن سلمان 2018 کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحکم سیاسی حیثیت کے ساتھ واشنگٹن پہنچے ہیں اور اب وہ سعودی تاج و تخت کے حصول کے لیے حتمی مرحلہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ ایک تاجر مزاج سیاست دان ہیں جن کے قریبی حلقے—بشمول داماد اور کاروباری شرکا—تیل پیدا کرنے والے امیر ممالک کے ساتھ معاہدوں سے مالی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

تجزیے کے مطابق ٹرمپ نے علاقائی منصوبوں کی نگرانی اپنے بااثر رفقا اور خاندان کے افراد کے سپرد کی ہے، اور یہ ڈھانچہ ان کی صدارت ختم ہونے کے بعد بھی فعال رہتا ہے، جس سے انہیں دیرپا سیاسی و مالی اثرات حاصل ہوتے ہیں۔

رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ سعودی بادشاہت کی تاریخ میں ہر حکمران نے امریکی حمایت کے ذریعے داخلی طاقت کو مستحکم کیا ہے اور بن سلمان بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہیں۔ اس دورے کے دوران سینکڑوں ارب ڈالر کے معاہدوں کی توقع ہے، جو پہلے دیے گئے تقریباً 600 ارب ڈالر پر اضافی بوجھ ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق اف-35 سمیت عسکری معاہدے زیادہ تر علامتی ہیں اور علاقائی طاقت کے توازن میں واضح تبدیلی نہیں لائیں گے۔ امریکہ ضرورت پڑنے پر ان طیاروں کے نظام دور سے غیر فعال کرسکتا ہے، اس لیے حقیقی فائدہ واشنگٹن کو مالیاتی خطیر آمدن کی صورت میں ملے گا، جبکہ ریاض کے لیے عملی فوجی فائدہ محدود ہے۔ امریکی تشویش صرف حساس ٹیکنالوجی کے لیک ہونے کے امکان سے متعلق ہے۔

الاخبار کا کہنا ہے کہ ماضی میں امریکہ نے جدید اسلحہ فراہم کیا، لیکن نہ وہ یمن میں سعودی مقاصد پورے کرسکا اور نہ ایران کے ساتھ تزویراتی برتری فراہم کر سکا، جس کے بعد بن سلمان نے عسکری مقابلے کے بجائے سفارتی توازن کا راستہ اختیار کیا۔

تجزیے کے مطابق بن سلمان اب ملک کی داخلہ پالیسی میں سیاسی مداخلت سے زیادہ توجہ معیشت، تفریح اور سماجی تبدیلیوں پر مرکوز کر رہے ہیں اور علاقائی تنازعات میں براہ راست مداخلت کم کر چکے ہیں، سوائے ان معاملات کے جو براہ راست سعودی مفادات سے جڑے ہوں، جیسے شام۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات اور اسرائیلی جارحیت کے پیش نظر، بن سلمان کے لیے محض اف-35 طیاروں کے بدلے اسرائیل کے ساتھ کھلی عادی سازی قبول کرنا بعید ہے۔

تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ممکنہ دفاعی معاہدہ بھی قطر-امریکہ معاہدے کی طرز پر ایک قابلِ تنسیخ انتظامی حکم ہوگا، نہ کہ ناتو، جاپان یا جنوبی کوریا جیسی مضبوط دفاعی شراکت داری۔ یعنی اگلی امریکی حکومت چاہے تو اسے فوری طور پر ختم کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب میں یورینیم کی افزودگی

اسی طرح ممکنہ جوہری معاہدہ بھی مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہو گا اور ٹیکنالوجی سعودی عرب منتقل نہیں ہوگی۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کے میدان میں بھی سعودی عرب زیادہ سے زیادہ تجارتی شریک ہوگا، نہ کہ ٹیکنالوجی کا اصل شریک تخلیق۔

مشہور خبریں۔

غزہ پر صیہونیوں کے تازہ ترین حملے؛متعدد افراد شہید اور زخمی

?️ 7 مارچ 2024سچ خبریں: فلسطینی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کی صبح اعلان کیا ہے

الشعراء: اسرائیلی جارحیت امریکی مفادات کو خطرے میں ڈال رہی ہے

?️ 16 اکتوبر 2025سچ خبریں: ابو محمد الجولانی احمد الشعراء نے ماسکو کے دورے کی

نوازشریف کی طرح عمران خان کی سزاؤں کا فیصلہ بھی عدالتوں میں ہوگا۔ رانا ثناءاللہ

?️ 21 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ

اسد عمر کی جانب سے عمران خان کی پالیسیوں پر تنقید، پی ٹی آئی برہم

?️ 20 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے رہنما اسد

اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ، ماسک کی پابندی لازمی

?️ 16 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ  نے اسلام

ایران سے چھٹے روزمزید 265 پاکسانی وطن واپس پہنچ گئے

?️ 6 مارچ 2026کوئٹہ (سچ خبریں) ایران میں مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کاسلسلہ چھٹے

غزہ کی پٹی میں فلسطینی پناہ گزینوں کی پناہ گاہ پر بمباری

?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: لبنان اور غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کے

آفیشل پیج سے متنازعہ ٹوئٹ اپ لوڈ معاملہ، عمران خان کا ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار

?️ 31 مئی 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے ٹوئیٹر(ایکس)پر اپنے آفیشل پیج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے