تل ابیب میں پرتقالی سفارتخانے کے سامنے ویزے کے لیے لمبی لائنیں

تل ابیب میں پرتقالی سفارتخانے کے سامنے ویزے کے لیے لمبی لائنیں

?️

سچ خبریں:ہزاروں صیہونیوں نے تل ابیب میں پرتقال کے سفارتخانے کے سامنے ویزا کے لیے قطاریں لگائیں، جس کا آغاز غزہ جنگ کے بعد ہوا،یہ رجحان اسرائیلیوں کی سرزمینوں سے باہر نقل مکانی اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

صیہونی اخبار یدیعوت احرونٹ نے صیہونی ذرائع کے حوالے سے جمعہ کے روز رپورٹ دی کہ ہزاروں اسرائیلی تل ابیب میں پرتقال کے سفارتخانے کے سامنے قطاریں لگاکر ویزا اور اقامت کی درخواست دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صہیونیوں نے مقبوضہ فلسطین سے واپسی کا سفر کیوں سوچا؟

واضح رہے کہ یہ رجحان صیہونیوں کی مقوضہ فلسطین سے باہر جانے کی بڑھتی ہوئی خواہش کو ظاہر کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، حالیہ دنوں میں تل ابیب سے سامنے نے والی تصاویر میں دکھایا گیا کہ صیہونی شہری سفارتخانے کے سامنے کئی گھنٹے انتظار کر رہے ہیں تاکہ پرتقال میں اقامت اور ویزا حاصل کر سکیں، یہ منظر اسرائیلیوں کی بڑھتی ہوئی تشویش اور ان کے ملک کی مستقبل سے متعلق خوف کا مظہر ہے۔

یاد رہے کہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد، اسرائیلیوں کا پرتقال کی طرف ہجرت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر 2023 سے ستمبر 2025 تک 080000 سے زیادہ صیہونیوں نے مقبوض فلسیطن سے باہر جانے کا فیصلہ کیا ہے، اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

 اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یورپ اور دیگر ممالک میں منتقل ہونے کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر پرتغال کے ویزے کی آسان پالیسی کی وجہ سے۔

اس کے برعکس، مقبوضہ فلسطین آنے والے یورپی یا غیر صیہونی یہودیوں کی تعداد میں مسلسل کمی آئی ہے، صیہونی پارلیمنٹ (کنسٹ) کے تحقیقاتی مرکز کے مطابق، 2023 میں یہ شکاف دوگنا ہو گیا تھا، جب 58600 صیہونیوں نے اپنا وطن چھوڑا اور باہر جا کر مستقل سکونت اختیار کی۔

صیہونی کمیٹی برائے مهاجرین کے صدر گیلعاد کاریو نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سونامی ہے جو اسرائیل کو بحران کی طرف لے جا رہی ہے، انہوں نے اس بڑھتے ہوئے ہجرتی رجحان کو صیہونی ریاست کی داخلی مشکلات اور قابض وزیرِ اعظم بنیامین نتین یاہو کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، غزہ جنگ نے اسرائیل کے محفوظ ہونے کے تصور کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، اور یہ حالات اسرائیلیوں میں عدم اعتماد اور مایوسی کی لہر کو بڑھا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: جبر اور عدم مساوات صہیونیوں کی معکوس ہجرت کو تیز کرنے کے اسباب

یہ نقل مکانی اسرائیلیوں کے جغرافیائی منصوبوں میں ایک سنگین تبدیلی کا اشارہ ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ غزہ جنگ کے اثرات صرف اسرائیل کے سیاسی اور سیکورٹی معاملات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس نے ملک کی آبادیاتی ڈھانچے کو بھی بدل دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

Kim Kardashian Shares Her Perspective on the College Cheating Scandal

?️ 27 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

روس،یوکرین مذاکرات کا حتمی مقصد جنگ بندی کا حصول ہے:ترکی وزیر خارجہ

?️ 24 جولائی 2025فیدان: روس،یوکرین مذاکرات کا حتمی مقصد جنگ بندی کا حصول ہے:ترکی وزیر

ٹرمپ شکاریوں کے حصار میں 

?️ 20 اکتوبر 2025ٹرمپ شکاریوں کے حصار میں امریکی سیکرٹ سروس (USSS) نے فلوریڈا کے

ٹرمپ کا منصوبہ فلسطینی علاقوں پر نرم قبضے کی راہ ہموار کرتا ہے: ہاریٹز

?️ 1 اکتوبر 2025سچ خبریں: جاک خوری نے منگل کو ہاآرتص اخبار میں شائع ہونے

وزیراعظم کا آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے کا خیرمقدم

?️ 9 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان

مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنیوالے دین اور وطن دونوں کے دشمن ہیں۔ خواجہ آصف

?️ 7 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ مسجد

رواں سال میں غزہ میں اقوام متحدہ کے کتنے اہلکار مارے گئے ہیں؟

?️ 7 جون 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ۲۰۲۳ میں

مغرب نے پابندیاں عائد کرکے خوراک کا عالمی بحران شروع کردیا ہے:روس

?️ 24 مئی 2022سچ خبریں:کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے خوراک کے عالمی بحران اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے