?️
سچ خبریں:حزب سعادت ترکی کے رہبر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران ترکی کے لیے ایک اہم ملک ہے اور ہم غزہ میں ٹرمپ کے منصوبے کو امن منصوبہ کے طور پر قبول نہیں کرتے۔
حزب سعادت ترکی کے رہبر کا کہنا تھا کہ یہ امن منصوبہ غزہ اور فلسطین کے لیے واضح طور پر ایک قبضے کا منصوبہ ہے، جسے امن کے منصوبے کے تحت اسلام کے دنیا پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:عرب، ایران اور ترکی کی مثلث اسرائیل کے مشرق وسطیٰ منصوبے کے خلاف کھڑی ہوسکتی ہے: المیادین
انہوں نے کہا کہ حزب سعادت ایک اسلام پسند سیاسی جماعت ہے، جسے 2001 میں مرحوم نجم الدین اربکان نے قائم کیا۔ حالیہ دنوں میں محمود آریکان نے اس جماعت کی قیادت سنبھالی ہے اور وہ اسلامی ممالک کے ساتھ ملاقاتوں کے ذریعے اسلامی ممالک کے اتحاد کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جو مرحوم اربکان کی پالیسی تھی۔
غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کا منصوبہ
خبرنگار نے ترکی کے داخلی و علاقائی حالات اور ایران کے ساتھ حزب سعادت کے موقف پر گفتگو کی،آریکان نے کہا کہ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ اسرائیل کے مفادات کے لیے خطرناک ہے اور یہ دراصل مشرقِ وسطیٰ کی نئی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ فلسطین کی تباہی کے مترادف ہے، اور مسلمانوں کے لیے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
آریکان نے کہا کہ یہ منصوبہ 1917 کے بالفور اعلامیے سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ فلسطین کی مکمل تباہی کی کوشش ہے، انہوں نے کہا کہ غزہ فلسطینیوں کی سرزمین ہے اور کسی بھی طرح اسے تباہ کرنے یا اس پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور اس کے اسرائیلی اتحادیوں کا مقصد غزہ کو ایک لاس ویگاس میں تبدیل کرنا ہے، جہاں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکال کر اسرائیل کی کارروائیوں کو سہولت فراہم کی جائے۔ یہ منصوبہ اس ناپاک مقصد کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایک اور قدم ہے۔
آریکان نے اس منصوبے کو بلفور اعلامیے سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا، کیونکہ بلفور اعلامیہ اسرائیل کے قیام کی بنیاد تھا، لیکن ٹرمپ کا منصوبہ فلسطین کے وجود کو ہی ختم کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے لیے اس منصوبے میں کوئی خوشی نہیں ہے اور نہ ہی یہ فلسطین یا غزہ کے لیے کوئی امن لا سکتا ہے۔
ٹرمپ کا موقف اور عالمی سیاست
آریکان نے ٹرمپ کو صہیونیوں کا عالمی سربراہ قرار دیا اور کہا کہ ٹونی بلیئر، جو عراق کے قصاب کے طور پر مشہور ہیں، غزہ کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، آریکان نے کہا کہ اسرائیل غزہ کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
شام کی صورتحال پر حزب سعادت کا موقف
آریکان نے شام کی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ ہم شام کے حالات کو کثیر جہتی اور حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق شام کی موجودہ صورتحال کو عالمی طاقتوں کی منصوبہ بندیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی پالیسیوں کا مقصد شام کی سرزمین پر اپنے مفادات کا تحفظ ہے اور امریکا کی موجودگی بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔
آریکان نے مزید کہا کہ شام میں پائیدار امن اور انصاف حاصل کرنے کے لیے محض فوجی حل یا غیر ملکی مداخلت کافی نہیں ہے۔ ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ شام میں امن اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب علاقے کے لوگ خود اس میں شامل ہوں اور فیصلہ کرنے کا حق ان کے پاس ہو۔ حزب سعادت کا موقف یہ ہے کہ امن صرف اس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات اور تعاون ہو۔
ترکی اور ایران کے تعلقات پر حزب سعادت کا موقف
آریکان نے ایران اور ترکی کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران نہ صرف ہمارے جغرافیائی ہمسایہ ہے، بلکہ یہ ہمارے ہزاروں سال پرانے تمدنی روابط کا حامل بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو باہمی احترام اور برد-برد کے اصولوں پر استوار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ترکی کے لیے ایران کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت، اقتصادی تعاون اور مشترکہ منصوبوں پر زور دینا چاہیے تاکہ ہم علاقائی امن اور استحکام کو فروغ دے سکیں۔
سیاسی اتحاد اور آئندہ انتخابات
آریکان نے حزب سعادت کے سیاسی اتحاد کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ حالیہ دنوں میں پارٹی نے فاتح اربکان، مرحوم اربکان کے بیٹے اور حزب رفاہ کے رہنما سے ملاقات کی۔ انہوں نے اس ملاقات کو ترکی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ملاقات کا مقصد موجودہ سیاسی مسائل کا مشترکہ حل تلاش کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات ترکی کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کے لیے ایک اہم قدم ہے اور اس کا مقصد ترکی کو ایک بہتر اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران، سعودی عرب اور ترکی کی بیک وقت سفارتی کوششیں؛ کیا کابل اسلام آباد بحران پر قابو پایا جا سکے گا؟
سیاست اور جمہوریت
آریکان نے کہا کہ ہماری جماعت سیاست میں ادب اور نزاکت کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ ان کے مطابق، جمہوریت میں عوامی رائے اور انتخابی عمل کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ہم حزب سعادت کے طور پر جمہوریت، انصاف اور برابری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور تمام فریقوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کریں گے۔


مشہور خبریں۔
کسی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان چھیننا غیر جمہوری ہے، مشاہد حسین سید
?️ 21 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور چیئرمین
جنوری
پانچویں عراقی پارلیمنٹ کا ریکارڈ؛ الحلبوسی کی برطرفی اور پاپولر موبلائزیشن قانون کی ناکامی
?️ 14 اکتوبر 2025سچ خبریں: گزشتہ سال عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی برطرفی اور اس
اکتوبر
پاکستان نے ترکی سے ایک اہم ماہدہ توسیع کی ہے
?️ 17 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے ترکی پاکستان ترکی کو ہیلی کاپٹر
مارچ
غزہ جنگ میں اسرائیلی نقصانات کیوں بڑھ رہے ہیں؟ اہم وجوہات
?️ 9 جولائی 2025 سچ خبریں:غزہ جنگ میں صہیونی فوج کے نقصانات میں اضافے کی
جولائی
بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹوں کو اہم قرار دینے پر حرا خان کی صبا فیصل پرکڑی تنقید
?️ 25 اپریل 2024کراچی: (سچ خبریں) سینیئر اداکارہ صبا فیصل کے بیٹیوں کے مقابلے میں
اپریل
صیہونی اپنی شکست کو کیسے چھپا رہے ہیں؟
?️ 27 نومبر 2023سچ خبریں: جہاد اسلامی فلسطین نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے تاکید
نومبر
عراق میں 18 سال سے کم عمر کے 150 داعش کا ورود
?️ 18 فروری 2026 سچ خبریں:عراقی وزارت انصاف کے ترجمان احمد لعیبی نے اطلاع دی
فروری
پیلوسی کا دورۂ تائیوان آگ سے کھیل
?️ 4 اگست 2022سچ خبریں:تجزیہ کاروں نے امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر کے دورہ تائیوان
اگست