ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام میں ترقی کا قانونی حق حاصل ہے: شیرین مزاری

ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام میں ترقی کا قانونی حق حاصل ہے: شیرین مزاری

?️

سچ خبریں:پاکستان کی سابق وزیرِ انسانی حقوق شیرین مزاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2231 کے خاتمے کے بعد ایران کو اپنے پُرامن ایٹمی مقاصد میں آگے بڑھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کو عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔

پاکستان کی سابق وزیرِ انسانی حقوق اور ممتاز دفاعی و سیاسی تجزیہ کار شیرین مزاری نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2231 کے خاتمے کے بعد کہا ہے کہ جمهوری اسلامی ایران کو اب اپنے پُرامن ایٹمی پروگرام میں آگے بڑھنے کا قانونی اور مشروع حق حاصل ہے۔

شیرین مزاری نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ ایران کا ایٹمی معاہدہ اس وقت غیر مؤثر ہو گیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارت کے دوران یکطرفہ طور پر اس سے علیحدگی اختیار کرلی اور یورپی ممالک نے بھی بجائے اس معاہدے پر قائم رہنے کے، ایران سے مسلسل اضافی مطالبات کیے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران پر امریکی حملے نے واشنگٹن کی ساکھ کو نقصان پہنچایا: چین

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ معاہدہ دس سال کے لیے تھا، اور 18 اکتوبر 2025 کو اپنی قانونی مدت پوری کر چکا ہے، لہٰذا ایران کو اب اپنے ایٹمی مقاصد کے حصول میں آگے بڑھنے کا حق حاصل ہے۔

سابق وزیرِ انسانی حقوق نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سب سے پہلے اسرائیل کے غیر قانونی ایٹمی پروگرام کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں لایا جائے، اور اس کے ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کا ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہونا، خاص طور پر ٹرمپ کے دور میں، پوری انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

ایرنا کے مطابق، ایران کا پُرامن ایٹمی پروگرام ہمیشہ سے مغرب کے بے بنیاد الزامات اور سیاسی دباؤ کا نشانہ رہا ہے، ایٹمی معاہدے سے قبل مغربی ممالک نے اس معاملے کو سکیورٹی بحران بنا کر ایران کے خلاف پابندیوں اور فوجی دھمکیوں کا استعمال کیا، لیکن 2015 میں پی‌اِم‌ڈی (PMD) یعنی ممکنہ عسکری پہلوؤں کے کیس کی بندش نے یہ بہانہ ختم کر دیا۔

ایران نے برجام پر دستخط کے بعد اپنے تمام وعدوں کی مکمل پاسداری کی، تاہم امریکہ نے 2018 میں یکطرفہ طور پر معاہدہ توڑ دیا، اور یورپی ممالک بھی اپنے وعدے پورے نہ کر سکے۔ اس کے نتیجے میں ایران نے اپنے حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے تعهدات میں تدریجی کمی کی۔

ایٹمی معاہدے کی بحالی کے مذاکرات بھی مغربی تاخیر اور غیر منطقی مطالبات کی وجہ سے کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
گزشتہ سات برسوں میں ایران نے نیک نیتی سے تمام سفارتی راستے آزمائے، مگر امریکہ اور یورپ کے لامتناہی مطالبات نے مذاکراتی عمل کو بن‌بست میں پہنچا دیا۔

مزید پڑھیں:ایران پر امریکی حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، دنیا پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان

اب صورتحال یہ ہے کہ بال مغربی فریق کے کورٹ میں ہے تاکہ وہ ایران کے اعتماد کو بحال کر کے سفارتکاری کے راستے کو دوبارہ زندہ کرے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل ایک شیطانی استعماری منصوبہ ہے

?️ 21 ستمبر 2025اسرائیل ایک شیطانی استعماری منصوبہ ہے یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن مائیک

ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ

?️ 7 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے

دوسروں کو چور کہنے والا خود چور ثابت ہو چکا ہے۔ رانا ثناءاللہ

?️ 20 دسمبر 2025چنیوٹ (سچ خبریں) مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ

ایوارڈز اور میڈیا میں عمیرہ احمد کے نام پر میری تصویر شیئر کی جارہی ہے، صوفیہ کاشف

?️ 30 مئی 2024کراچی: (سچ خبریں) ناول نگار، لکھاری و بلاگر صوفیہ کاشف نے اس

مودی پاکستان سے نفرت کرتا ہے وہ انتقام لے گا، قوم نے متحد اور الرٹ رہنا ہے، عمران خان

?️ 13 مئی 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کا

عراق کی ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش

?️ 15 جنوری 2023سچ خبریں:عراق کے وزیر اعظم نے یہ کہتے ہوئے کہ ایران اور

وزیر توانائی حماد اظہر بلاول بھٹو  پر جم کے برسے

?️ 18 جون 2021کراچی(سچ خبریں) وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے بلاول بھٹو کے بیان

سعودی عرب لبنانی حکومت سے مطمئن نہیں!

?️ 3 جنوری 2022سچ خبریں:  بیروت میں سعودی عرب کے سابق سفیر علی عواد عسیری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے