بین الاقوامی اداروں کی غزہ کی ناقابلِ برداشت صورتحال پر شدید تشویش

بین الاقوامی اداروں کی غزہ کی ناقابلِ برداشت صورتحال پر شدید تشویش

?️

سچ خبریں:عالمی ادارے جیسے WFP، یونیسیف، آنروا اور آکسفام نے غزہ میں قحط، غذائی قلت اور بچوں کی تباہ کن حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، ہر خاندان بھوک سے لڑ رہا ہے اور ہزاروں بچے فوری علاج کے محتاج ہیں۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق کے مطابق، عالمی خوراک پروگرام (WFP)، سیو دا چلڈرن، اقوام متحدہ کی ایجنسی آنروا اور بین الاقوامی تنظیم آکسفام نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فرانسیسی ڈاکٹر: دھمکیوں کے باوجود ہم غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے اپنے راستے پر گامزن ہیں

عالمی خوراک پروگرام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے 100 فیصد رہائشی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، اور 70 ہزار سے زائد بچے شدید غذائی قلت کے باعث فوری علاج کے محتاج ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں ہر خاندان اپنی اگلی خوراک کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

(Save the Children) نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے بچے موت کی تمنا کرتے ہیں، اور وہ ہولناک حالات جن میں وہ جی رہے ہیں، الفاظ میں بیان نہیں کیے جا سکتے۔ تنظیم نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں کو اسلحے کی فراہمی فوری طور پر بند کرے۔

آنروا کے اعلیٰ کمشنر فیلیپ لازارینی نے کہا کہ پچھلے تین مہینوں سے غزہ کو کوئی انسانی امداد نہیں پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام کی مصیبتیں ناقابلِ تصور حد تک بڑھ گئی ہیں اور یہ صورتحال دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

آنروا نے اس بات پر زور دیا کہ امداد کی محفوظ ترسیل کا واحد راستہ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ذریعے ہے۔

آکسفام کی پالیسی ڈائریکٹر بشریٰ الخالدی نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل صرف بین الاقوامی اداروں کے ذریعہ ہونی چاہیے۔

انہوں نے اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے دوران امداد کی مؤثر تقسیم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ کام ممکن ہے۔

بشریٰ الخالدی نے انتباہ دیا کہ موجودہ امدادی نظام غزہ میں عوام کی موت کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو خوراک سے محروم رکھنا جنگ کا حصہ نہیں، بلکہ ایک دانستہ اور ناقابلِ جواز حکمتِ عملی ہے۔ اسرائیلی حکومت کو دو ملین انسانوں کو بھوکا رکھنے کا کوئی حق نہیں۔

یونیسف کے ترجمان کاظم ابوخلف نے غزہ میں بچوں کی حالت پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک روزانہ اوسطاً 27 بچے جاں بحق ہو رہے ہیں، جو دنیا بھر میں کسی بھی جگہ دیکھے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے، اگر زخمی بچوں کو بھی شامل کیا جائے تو روزانہ متاثرہ بچوں کی تعداد 83 بنتی ہے۔

ابوخلف نے واضح کیا کہ بچے اس جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، غذائی قلت، بھوک اور مسلسل بمباری کے نتیجے میں ہزاروں بچے فوری طبی امداد کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اب تک 40 ہزار سے زیادہ بچے یتیم ہو چکے ہیں، اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

مزید پڑھیں:غزہ میں اسرائیل کا رویہ مزید برداشت کے قابل نہیں: برطانوی وزیراعظم

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے بچوں کو نہ صرف جسمانی زخموں سے بلکہ گہرے نفسیاتی صدمات سے بھی نجات حاصل کرنے کے لیے برسوں کی بحالی درکار ہو گی۔

مشہور خبریں۔

فلسطینیوں کی شاندار فتح، اسرائیل نے اپنے ناجائز مقاصد میں ناکامی کے بعد جنگ بندی کا اعلان کردیا

?️ 21 مئی 2021غزہ (سچ خبریں) دہشت گرد اسرائیل کی غاصب اور ناجائز حکومت نے غزہ

اسرائیلی فوج فرسودہ اور متنفر ہو چکی ہے: سابق وزیر جنگ 

?️ 8 جولائی 2025سچ خبریں: سابق صیہونی وزیر جنگ موشے یعلون نے اسرائیلی فوج کے

وزیر اعظم نے سید علی گیلانی کا جسد خاکی چھیننا انتہائی شرمناک قرار دیا

?️ 5 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی فورسز کی

غزہ میں جنگ بندی کی تازہ ترین صورتحال

?️ 6 جون 2024سچ خبریں: مصر اور قطر کے امریکی نمائندوں نے کل رات دوحہ میں

معین اختر کا وزیر اعظم  کے ساتھ دلچسپ مکالمہ

?️ 24 دسمبر 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان کے لیجنڈری کامیڈین و معروف اداکار معین اختر اور

سکیورٹی فورسز کا قلات میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 4 خوارج جہنم واصل

?️ 13 جنوری 2026راولپنڈی (سچ خبریں) سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں انٹیلی

کورونا وائرس کی تیسری لہر اور دنیا بھر میں نئی پابندیوں سے عوامی مشکلات میں اضافے کا خطرہ

?️ 21 مارچ 2021(سچ خبریں)  دنیا بھر میں ایک بار پھر کورونا وائرس کی تیسری

مغربی کنارے میں چند گھنٹوں کے اندر کئی صیہونی مخالف کارروائیاں

?️ 3 اکتوبر 2022سچ خبریں:مغربی کنارے میں کچھ ہی گھنٹے کے اندر متعدد صیہونی مخالف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے