?️
سچ خبریں:غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے 1000 دنوں سے جاری اس جنگ کے بعد، جسے اکیسویں صدی کی سب سے بڑی انسانی تباہی قرار دیا جا رہا ہے، ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے جس میں انسانی المیے کی ہولناک تصویر پیش کی گئی ہے۔
غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کی رپورٹ کے مطابق 1000 دنوں کی جنگ کے دوران 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، 21 ہزار بچے اور 12 ہزار جنین ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں انسانی، تعلیمی، صحت، رہائشی اور معاشی شعبوں میں وسیع پیمانے پر تباہی اور 80 ارب ڈالر سے زائد نقصان کا انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، 9500 افراد لاپتہ ہیں، جبکہ 21 ہزار سے زائد بچے اور 12 ہزار جنین سقط حمل کا شکار ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر براہِ راست مادی نقصان 80 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جس میں غیر مستقیم انسانی اور نفسیاتی نقصانات شامل نہیں ہیں۔
رپورٹ کے اہم اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی 2.4 ملین آبادی مسلسل نسل کشی، بھوک اور نسلی صفائی کے خطرے سے دوچار رہی۔ 90 فیصد سے زائد علاقے تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 80 فیصد سے زیادہ علاقے پر قبضہ یا شدید نقصان ہوا ہے۔ اب تک 223000 ٹن سے زائد بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔
شہداء اور انسانی نقصان
رپورٹ کے مطابق 73066 افراد کی لاشیں اسپتالوں تک پہنچائی جا چکی ہیں، جبکہ 9500 افراد لاپتہ ہیں۔ ان میں 21500 سے زائد بچے، 12500 خواتین، 9000 مائیں اور 22500 والد شامل ہیں۔ 1022 شیر خوار بچے اور 520 سے زائد نومولود بھی شہید ہوئے۔
صحت، میڈیا اور شہری خدمات سے وابستہ افراد بھی بڑی تعداد میں نشانہ بنے، جن میں 1700 طبی عملہ، 262 صحافی اور 2800 سے زائد امدادی اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔ 928 کھلاڑی بھی اس جنگ کا شکار ہوئے۔
بھوک، بیماری اور سماجی بحران
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 460 افراد بھوک اور غذائی قلت سے جاں بحق ہوئے، جبکہ ہزاروں افراد بنیادی غذائی سہولتوں سے محروم ہیں۔ 58800 بچے یتیم ہو چکے ہیں، جن میں ہزاروں نے اپنے والدین دونوں کو کھو دیا ہے۔
بیماریوں اور نقل مکانی کے باعث لاکھوں افراد مختلف وبائی امراض میں مبتلا ہوئے جبکہ گردے کے مریضوں کی بڑی تعداد خوراک اور علاج کی کمی سے متاثر ہوئی۔
صحت اور تعلیم کا نظام تباہ
38 اسپتال مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، 96 صحت مراکز اور 197 ایمبولینسز کو نشانہ بنایا گیا۔ 100 فیصد اسکولوں کو نقصان پہنچا، جبکہ 620000 سے زائد طلبہ تعلیم سے محروم ہو گئے۔ 830 اساتذہ اور 194 محققین و پروفیسر شہید ہو چکے ہیں۔
عبادت گاہیں اور تاریخی مقامات
1047 مساجد مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ درجنوں گرجا گھروں اور قبرستانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ سینکڑوں علماء اور مذہبی شخصیات شہید یا لاپتہ ہیں۔
رہائش اور نقل مکانی
335000 رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ، جبکہ 75000 ناقابل رہائش ہو چکی ہیں۔ 2 ملین سے زائد افراد بے گھر ہیں اور 346 پناہ گاہوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
انفراسٹرکچر اور معیشت
پانی، بجلی، سڑکوں اور سیوریج کا نظام بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے۔ 5080 کلومیٹر بجلی کا نیٹ ورک، 700000 میٹر پانی اور نکاسی آب کا نظام اور لاکھوں میٹر سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔
زرعی اور معاشی شعبہ
87 فیصد زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے، ہزاروں فارم اور کنویں غیر فعال ہیں۔ مویشیوں اور ماہی گیری کے وسائل کا 99 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے جبکہ خوراک کی پیداوار میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔
مجموعی مالی نقصان 80 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، جس میں صحت، تعلیم، رہائش، صنعت، تجارت اور دیگر شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔


مشہور خبریں۔
صیہونی میڈیا کا یمنی میزائل طاقت کا اعتراف
?️ 25 دسمبر 2024سچ خبریں:عبری زبان کے میڈیا نے یمن کی عسکری قوت، خاص طور
دسمبر
امریکہ اب تک یوکرین کی کتنی مدد کر چکا ہے؟
?️ 13 ستمبر 2023سچ خبریں: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ملک کی یوکرین کو
ستمبر
ایران اور پاکستان عوامی تعلقات پر مبنی نئی پالیسی کے حتمی مرحلے میں
?️ 14 ستمبر 2025ایران اور پاکستان عوامی تعلقات پر مبنی نئی پالیسی کے حتمی مرحلے
ستمبر
اردگان اسد سے کیوں ملاقات کرنا چاہتے ہیں
?️ 10 اگست 2023سچ خبریں:اسکائی نیوز عربی چینل نے شام کے صدر بشار الاسد کی
اگست
غزہ میں فوری انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے: فن لینڈ
?️ 9 مئی 2025سچ خبریں:فن لینڈ کی وزیر خارجہ الینا والتونن نے غزہ میں اسرائیلی
مئی
اسرائیل کے لیے ایک اورخطرے کی گھنٹی
?️ 14 اگست 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے سابق وزیر خارجہ اور اسرائیل بیتنا پارٹی کے
اگست
غزہ پر مسلسل بمباری، کئی فلسطینی شہید
?️ 12 جولائی 2025سچ خبریں: خبری ذرائع نے غزہ شہر کے الیرموک سٹریٹ پر ایک گھر
جولائی
امریکہ کی سعودی عرب کو 3 ارب ڈالر کی اف-15 جنگی طیاروں کی معاونت کی منظوری
?️ 4 فروری 2026امریکہ کی سعودی عرب کو 3 ارب ڈالر کی اف-15 جنگی طیاروں
فروری