?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکی اور صہیونی جارحیت کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں مغربی، عربی، چینی اور روسی ذرائع نے جنگ کے مستقبل، جنگ بندی، قوت مدافعت اور علاقائی استحکام پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالی ہے۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے بلکہ جارح فریقوں کے لیے تزویراتی تعطل، میدان جنگ میں ناکامیوں اور سیاسی مشکلات کے بڑھتے ہوئے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہ جنگ، جو وسیع حملوں اور بے گناہ شہریوں بالخصوص طلبہ کے قتل سے شروع ہوئی، تیزی سے انسانی، سلامتی اور اقتصادی بحران کی شکل اختیار کر گئی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں مختلف ردعمل کا سبب بنی۔ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی اور بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس میں توسیع کا اعلان بھی کیا، تاہم اس جارحیت کے حقیقی خاتمے تک پہنچنے کے لیے اب بھی ایک پیچیدہ راستہ درپیش ہے۔
دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اپنی اپنی پالیسیوں اور زاویۂ نگاہ کے مطابق اس جنگ کی تصویر کشی کی ہے۔ ان ردعمل کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورت حال اور اس کے ممکنہ مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ
خبری ویب سائٹ ایم ایس نو نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں غیرمعمولی اضافے کی خبر دیتے ہوئے لکھا کہ جنگ کے سوویں روز ایک نازک جنگ بندی ایران اور اسرائیل کے درمیان اپریل کے بعد پہلی براہ راست میزائل جھڑپ کے باعث ٹوٹنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اتوار کے روز لبنان پر فضائی حملے کرکے کشیدگی کو دوبارہ بھڑکا دیا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے۔ چند گھنٹوں بعد اسرائیل نے پیر کی صبح ایران کے وسطی اور مغربی علاقوں کو نشانہ بنایا۔
اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دونوں فریق فوری جنگ بندی چاہتے ہیں۔ تاہم مذاکرات سے وابستہ ایک ایرانی عہدیدار نے ایم ایس نو کو بتایا کہ اس مرحلے پر ٹرمپ کے ساتھ کسی معاہدے کا امکان باقی نہیں رہا۔
سپاہ پاسداران نے بھی اپنے میزائل حملے کو انتباہی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جارحیت جاری رہی تو آئندہ جوابی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع ہوگا اور پورے خطے میں امریکی اور صہیونی اہداف کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔
پورٹ کے مطابق ٹرمپ نے متضاد بیانات دیتے ہوئے ایک طرف بنیامین نیتن یاہو کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس کے پاس کوئی اختیار نہیں، فیصلے میں کرتا ہوں، جبکہ دوسری طرف دھمکی دی کہ اگر معاہدہ ناکام ہوا تو ایران کے افزودہ یورینیم کو بمباری یا کمانڈو کارروائی کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی اعتراف کیا کہ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے دوبارہ جنگ میں داخل ہونے کے عزم کو کم سمجھا، جو ایک بنیادی حسابی غلطی ثابت ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی، جوہری پروگرام اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی جیسے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں اور جنگ بندی کے خاتمے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین نے رپورٹ دی کہ آٹھ اپریل کی جنگ بندی کے بعد ایران اور صہیونی حکومت کے درمیان پہلی براہ راست فوجی جھڑپ نے ایک بار پھر مکمل علاقائی جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے فضائی بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے ایران کے ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا جبکہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے آپریشن نصر کے تحت دو اسرائیلی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے۔
اسی دوران یمن نے بھی اسرائیل کی جانب میزائل داغے اور بحیرۂ احمر میں اسرائیلی جہازرانی پر مکمل پابندی کا اعلان کیا، جس سے بحران مزید گہرا ہو گیا۔
گارڈین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کو فوراً فائرنگ بند کرنی چاہیے اور دعویٰ کیا کہ حتمی فیصلہ نیتن یاہو نہیں رتے۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی یہ باور نہیں کر سکتا کہ صہیونی حکومت امریکہ کے ساتھ پیشگی ہم آہنگی کے بغیر کوئی کارروائی کرے۔
گارڈین نے مزید لکھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اگر تہران اس نتیجے پر پہنچا کہ واشنگٹن نے خفیہ طور پر اسرائیلی حملے کی حمایت کی ہے تو ٹرمپ کی جانب سے وعدہ کردہ امن مذاکرات شدید مشکلات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور برینٹ خام تیل 96.59 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
عربی اور علاقائی ذرائع ابلاغ
الجزیرہ نے ایک تجزیاتی کالم میں مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے معاملے میں امریکی ڈیموکریٹک جماعت کا نقطۂ نظر ابتدا سے زیادہ درست رہا ہے۔
تجزیہ کے مطابق امریکہ کی فوجی کارروائی ساٹھ دن سے زیادہ عرصے سے کانگریس کی باضابطہ منظوری کے بغیر جاری رہی، جسے متعدد قانونی ماہرین آئین اور جنگی اختیارات کے قانون سے متصادم قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ نگار کے مطابق 2015 کا جوہری معاہدہ اگرچہ مکمل نہیں تھا، تاہم اس نے ایران کے جوہری پروگرام کو سخت بین الاقوامی نگرانی میں رکھا تھا اور جوہری ہتھیار تک فوری رسائی کے امکانات محدود کر دیے تھے۔ 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی نے ایران کو کمزور کرنے کے بجائے یورینیم افزودگی میں اضافے کے لیے سیاسی فضا فراہم کی۔
تجزیہ میں سفارت کاری، یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعاون اور بین الاقوامی اداروں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ یک طرفہ امریکی اقدامات کے مقابلے میں کثیرالجہتی حکمت عملی زیادہ مؤثر اور کم خرچ ثابت ہوتی ہے۔
المیادین نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ اسرائیل پر ایران کا حالیہ میزائل حملہ صرف ضاحیہ جنوبی بیروت پر حملوں کا عسکری جواب نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک سیاسی اور تزویراتی پیغام بھی ہے۔
تجزیہ کے مطابق ایران ایک نئی مساوات قائم کرنا چاہتا ہے جس کے تحت لبنان کی سلامتی صرف سیاسی مذاکرات یا بین الاقوامی معاہدوں پر منحصر نہیں بلکہ قوت مدافعت اور طاقت کے توازن سے بھی وابستہ ہے۔
تجزیہ نگار کے مطابق ایران نے یہ پیغام دیا ہے کہ لبنان یا حزب اللہ پر فوجی دباؤ بڑھانے کی صورت میں اسرائیل کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ تجزیہ میں اسرائیل کو درپیش چیلنجز، قوت مدافعت کے کمزور ہونے، یمن سمیت دیگر محاذوں پر جنگ پھیلنے کے خطرات اور نیتن یاہو حکومت پر اندرونی سیاسی دباؤ کا بھی ذکر کیا گیا۔
رأی الیوم نے اپنے تجزیہ میں لکھا کہ ایران کے حالیہ حملے اور سخت تر جوابی کارروائیوں کی دھمکیاں صرف محدود فوجی ردعمل نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے ڈھانچے میں ایک گہری تبدیلی کی علامت ہیں۔
تجزیہ نگار کے مطابق ایران یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ضاحیہ جنوبی بیروت پر حملے کی قیمت چکانا ہوگی اور وہ اپنے اتحادیوں اور مخالفین دونوں کے سامنے اپنی بازدار صلاحیت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
تجزیہ میں خبردار کیا گیا کہ خطے کی موجودہ صورت حال ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے اور کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات فوجی، اقتصادی، توانائی اور بحری سلامتی کے شعبوں تک پھیل سکتے ہیں۔
چینی اور روسی ذرائع ابلاغ
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایران نے لبنانی محاذ سے متعلق کشیدگی اور حملوں کے جواب میں اسرائیلی اہداف پر میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں نسبتاً کم کشیدگی کے بعد یہ پہلا براہ راست فوجی تبادلہ تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطہ دوبارہ عدم استحکام کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
شنہوا کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایرانی میزائلوں کے باعث شمالی اور وسطی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے، تاہم ابتدائی اطلاعات میں بڑے پیمانے پر جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران نے اس کارروائی کو دفاع مشروع کے حق کے تحت قرار دیا اور اسے لبنان میں اسرائیلی اقدامات اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جواب بتایا۔
روسی خبر رساں ایجنسی ٹاس نے اپنی رپورٹ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی تازہ ترین صورت حال اور اس کے علاقائی و عالمی اثرات کا جائزہ لیا۔
ٹاس کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور پائیدار جنگ بندی یا مکمل امن کی صورت حال ابھی تک وجود میں نہیں آ سکی۔
رپورٹ میں لبنان اور یمن میں ایران کے اتحادی گروہوں کے کردار کو بھی نمایاں کرتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ بحران محض دو فریقوں کے درمیان تنازع نہیں بلکہ ایک کثیرالجہتی علاقائی کشمکش کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
ٹاس نے مزید لکھا کہ کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں ابھی تک کوئی نمایاں نتیجہ نہیں دے سکیں جبکہ توانائی کی سلامتی، بین الاقوامی جہازرانی اور عالمی منڈیوں کے استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ اس وقت ایک نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور کسی بھی قسم کی غلط تزویراتی اندازہ بندی ایک علاقائی جنگ کو وسیع تر بین الاقوامی بحران میں تبدیل کر سکتی ہے۔


مشہور خبریں۔
پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی کوشش کی حمایت کرے گی، بلاول بھٹو زرداری
?️ 26 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا
مئی
پی ٹی آئی حکومت کی کورونا وباء کے دوران ایک اور بڑی کامیابی
?️ 14 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت پاکستان نے اپنی کوششوں اور کاوشوں کے
جون
بستیوں کی توسیع ناامنی کا باعث ہے: سعودی وزیر خارجہ
?️ 20 فروری 2023سچ خبریں: سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے صیہونی
فروری
آرمی چیف ایک روزہ سرکاری دورے پر افغانستان پہنچ گئے
?️ 10 مئی 2021کابل(سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے ایک
مئی
سیلابی خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور صورت حال کے پیش نظر سندھ میں ایمرجنسی الرٹ ہے، شرجیل انعام میمن
?️ 5 ستمبر 2025کراچی: (سچ خبریں) سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے
ستمبر
پاکستان کے وزیر خارجہ: ہمارا علاقائی امن کے لیے ایران کے ساتھ ایک وژن ہے
?️ 4 جون 2025سچ خبریں: پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے شہباز شریف
جون
ترکی میں مہنگائی کے خلاف مزدوروں کے وسیع پیمانے پر مظاہرے
?️ 19 نومبر 2021سچ خبریں:ترکی میں بڑھتی قیمتوں اورمہنگائی کے خلاف ازمیر صوبے میں ہزاروں
نومبر
نیتن یاہو کے خلاف صیہونیوں کی فریاد
?️ 16 فروری 2025سچ خبریں: معاریو اخبار کی نیوز سائٹ نے مزید کہا کہ اسرائیلی
فروری