?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر عالمی میڈیا کے تجزیات میں امریکہ کی اسٹریٹجک ناکامی، آبنائے ہرمز کی اہمیت اور نئی اینٹی امریکی نسل کے ابھرتے خدشات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کو ۳۴ دن گزرنے کے باوجود نہ صرف اس آپریشن کے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے بلکہ حملہ آور فریقوں کے لیے اسٹریٹجک تعطل، میدان جنگ اور سیاسی سطح پر ناکامی کے بڑھتے ہوئے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت کو ۳۴ دن گزر چکے ہیں، تاہم نہ صرف اس کے اہداف حاصل نہیں ہوئے بلکہ حملہ آوروں کے لیے اسٹریٹجک تعطل اور میدان جنگ و سیاسی ناکامیوں کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، یہ جنگ جو وسیع حملوں اور بے گناہ شہریوں، حتیٰ کہ اسکول کے بچوں کے قتل سے شروع ہوئی، تیزی سے انسانی، سیکیورٹی اور اقتصادی پہلوؤں میں پھیل گئی اور عالمی میڈیا میں مختلف ردعمل کا باعث بنی۔
دنیا کے مختلف میڈیا اداروں نے اپنے مخصوص زاویوں سے اس جنگ کی کہانی بیان کرنے کی کوشش کی ہے، اور ان کا جائزہ لینے سے جنگ کی حقیقی صورتحال اور اس کے مستقبل کا واضح تصور سامنے آتا ہے۔
مغربی میڈیا
بلومبرگ نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم اپریل کو اپنی تقریر میں امریکی عوام اور عالمی رائے عامہ کو بیک وقت متضاد پیغامات دیے، انہوں نے کہا کہ جنگ اختتام کے قریب ہے، مگر ساتھ ہی دھمکی دی کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے توانائی مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف جلد حاصل کر لے گا، جبکہ بیک وقت یہ بھی کہا کہ حکومت کی تبدیلی کبھی مقصد نہیں رہی۔
اس کے باوجود انہوں نے یہ تاثر دیا کہ ایرانی نظام کمزور ہو چکا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات مکمل تباہ کر دی گئی ہیں، حالانکہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پہلے ہی افزودہ یورینیم محفوظ مقامات پر منتقل کر چکا تھا۔
ٹرمپ اس بات سے بھی آگاہ ہیں، اسی لیے زمینی فوج بھیجنے کے امکان پر غور کے باوجود وہ اس کے دلدل بننے سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام کارڈز امریکہ کے ہاتھ میں ہیں، لیکن ایران کے اقدامات جیسے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ان کی تقریر متضاد اور الجھن پیدا کرنے والے بیانات کے تسلسل کا حصہ تھی، جو کامیابی کے بجائے بے بسی کی علامت ہے۔
نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی کہ سابق امریکی وزرائے دفاع اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جنگ میں فوج بھیجنا انتہائی حساس اور فیصلہ کن ذمہ داری ہے۔
اس کے لیے واضح ہدف، حکمت عملی اور جنگ کے اختتام کا منصوبہ ضروری ہوتا ہے۔ اس وقت پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں اور ٹرمپ ایران کے یورینیم پر قبضہ یا جزیرہ خارگ پر کنٹرول کے لیے مزید فوج بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، جو انتہائی خطرناک اور مہنگے آپریشنز ہو سکتے ہیں۔
ہر غیر ضروری حملہ اور ہر ہلاکت خطے میں امریکہ مخالف جذبات کو بڑھاتی ہے اور ممکن ہے کہ ایک نئی اینٹی امریکی نسل کو جنم دے، جو مستقبل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بنے گی اور علاقائی تنازعات میں اضافہ کرے گی۔
روئٹرز کے مطابق یہ جنگ جو ایران کو کمزور کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی، الٹا ایران کو مضبوط اور خلیج فارس کو مزید غیر محفوظ بنا سکتی ہے۔
اگر جنگ بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوتی ہے تو ایران اپنی توانائی کے وسائل پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے خلیجی ممالک کو مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ جنگ بغیر کسی واضح نتیجے کے ختم ہو جائے اور وہ اس کے اقتصادی اور اسٹریٹجک نتائج برداشت کریں۔
ماڈرن ڈپلومیسی ویب سائٹ نے لکھا کہ ٹرمپ کی حالیہ تقریر کے بعد جنگ کے جلد خاتمے کی امیدیں ختم ہو گئیں، انہوں نے فوجی کارروائی بڑھانے اور ایران کے توانائی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی بات کی، جس سے عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھی، تیل کی قیمت ۱۰۸ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور عالمی اسٹاک مارکیٹس میں مندی آئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کے پاس جنگ ختم کرنے کی واضح حکمت عملی نہیں ہے، جس سے بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
عرب اور علاقائی میڈیا
المیادین میں حسن نافعه نے لکھا کہ یہ جنگ بظاہر ایران کے خلاف ہے، مگر درحقیقت پورے عرب و مسلم دنیا کے خلاف ہے اور اسرائیل عظیم منصوبے کا حصہ ہے۔
ایران کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دینا بے بنیاد ہے اور اصل مقصد ایران کی خودمختاری اور ترقی کو روکنا ہے، عرب حکومتیں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کے باعث خودمختار فیصلے نہیں کر سکتیں اور اپنے مفادات کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق آبنائے ہرمز کی جغرافیائی تنگی، ایرانی بارودی سرنگوں کی بڑی تعداد، امریکی مائن سویپرز کی عدم موجودگی اور ایران کی مشترکہ جنگی حکمت عملی امریکہ کے لیے اس اہم گزرگاہ کو کنٹرول کرنا انتہائی مشکل بنا دیتی ہے۔
الشرق الاوسط نے رپورٹ دی کہ ٹرمپ کی دھمکیوں نے سرمایہ کاروں کی امیدیں ختم کر دیں، عالمی منڈیوں میں عدم استحکام، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور افراطِ زر کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ اسٹگفلیشن کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
المسیرہ کے مطابق امریکہ کا ایران پر زمینی حملہ تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ ایران کی بڑی فوجی طاقت، نظریاتی مزاحمت، عوامی حمایت، محورِ مزاحمت کی صلاحیتیں اور امریکی عوام کی جنگ سے مخالفت اس کے راستے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
النشرہ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے امریکہ کو دباؤ میں ڈال دیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب سے بحیرہ روم تک پائپ لائن منصوبہ پیش کیا گیا ہے، جو فی الحال غیر عملی اور زیادہ تر پروپیگنڈا سمجھا جاتا ہے۔
ترک تجزیہ کار کے مطابق آبنائے ہرمز نہ صرف توانائی کی گزرگاہ ہے بلکہ ڈالر سے ہٹ کر تجارت کا مرکز بھی بنتی جا رہی ہے، جو امریکی پیٹرو ڈالر نظام کے لیے خطرہ ہے۔
چینی اور روسی میڈیا
رشیا ٹوڈے کے مطابق امریکہ نے ایران کو عراق یا افغانستان سمجھنے کی غلطی کی، جبکہ ایران ایک مضبوط اور اسٹریٹجک گہرائی رکھنے والا ملک ہے۔ امریکہ کی امریکہ فرسٹپالیسی ایران کی مزاحمت کے باعث ناکام ہو رہی ہے اور اس کے اتحادی بھی اس جنگ کی حمایت میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
ایک اور تجزیے میں کہا گیا کہ یہ جنگ اب محدود نہیں رہی بلکہ علاقائی جنگ بن چکی ہے، جہاں ایران کے اتحادی مختلف محاذ کھول رہے ہیں اور امریکہ و اسرائیل کو ایک طویل تھکا دینے والی جنگ میں پھنسا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے ماحولیاتی اثرات بھی شدید ہیں، خلیج فارس میں کیمیائی توازن بگڑ رہا ہے اور اس کے نتائج لاکھوں افراد کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
اسپوٹنک نے خبردار کیا کہ توانائی کی عالمی منڈی تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے اور جنگ کے اثرات کھاد، گیس، سلفر حتیٰ کہ روزمرہ مصنوعات تک پہنچ سکتے ہیں۔
گلوبل ٹائمز کے مطابق امریکہ کی شکاری بالادستی پالیسی اس کے اپنے زوال کا سبب بن رہی ہے، کیونکہ مہنگی جنگیں داخلی مسائل کو بڑھا رہی ہیں اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کو کم کر رہی ہیں۔
صہیونی میڈیا
ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا کہ جنگ کے خاتمے کے دعوے حقیقت سے دور ہیں، ایران اب بھی افزودہ یورینیم رکھتا ہے، اس کے میزائل اہداف تک پہنچ رہے ہیں اور اس کی قیادت اپنی پالیسیوں پر قائم ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق ایران کے یورینیم پر قبضہ کرنے کا امریکی منصوبہ انتہائی پیچیدہ، سست اور مہلک ہو سکتا ہے جس میں بھاری جانی نقصان کا خدشہ ہے۔
وائی نیٹ نیوز نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے دعووں کے باوجود ایران اب بھی فوجی طور پر فعال ہے، اس کے اتحادی میدان میں موجود ہیں اور جنگ کے نتائج غیر واضح ہیں۔
صیہونی فضائیہ کے ایک کمانڈر نے اعتراف کیا کہ ایران کو کم سمجھنا خطرناک ہوگا، کیونکہ وہ اپنی جنگی حکمت عملی بہتر بنا رہا ہے اور اس کے خلاف آپریشنز طویل، خطرناک اور پیچیدہ ہیں۔


مشہور خبریں۔
تشدد کرنے والوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں ہم بھیڑ بکریاں نہیں ہیں، عمران خان
?️ 29 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی
اکتوبر
صہیونی میڈیا میں بن سلمان کا مضحکہ خیز کارٹون شائع
?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:ایک عبرانی اخبار نے اسرائیلی جاسوسی سافٹ ویئر خریدنے پر سعودی
فروری
صہیونیوں کی پہلی بار افریقی شیر مشق میں شرکت
?️ 6 جون 2023سچ خبریں:صہیونی فوج نے پہلی بار مراکش میں ہونے والی "افریقی شیر”
جون
امریکی اسکولوں میں مسلح تشدد میں ڈرامائی اضافہ
?️ 20 اگست 2022سچ خبریں: حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے پتہ
اگست
اسلام آباد ہائیکورٹ: 9 مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں کل تک توسیع
?️ 3 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین
مئی
خبردار جو گھر سے باہر نکلے !
?️ 8 اکتوبر 2023سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ کتائب عزالدین
اکتوبر
وفاق نے تحفظات دور کرانے کی یقین دہانی کرائی، مزید مسائل پیدا کرنا نہیں چاہتے۔ شازیہ مری
?️ 24 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ترجمان پاکستان پیپلزپارٹی شازیہ مری نے کہا ہے
اکتوبر
افغان امن عمل میں ہمارا کردار مثبت رہاہے:وزیر خارجہ
?️ 11 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا افغانستان کی صورتحال پر
اگست