?️
سچ خبریں:امریکہ کی نئی سکیورٹی اسٹریٹیجی میں یورپ کی تحقیر کے باوجود یورپی یونین کی خاموشی برقرار ہے۔
جب کہ امریکہ نے اپنی نئی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے یورپ کو واضح طور پر کمتر دکھایا ہے، یورپی یونین بے بسی کے عالم میں اب بھی حالات کو پرسکون رکھنے کے لیے صبر اور خاموشی کی پالیسی پر قائم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لندن کے میئر نے ٹرمپ کو نسل پرست اور اسلامو فوبک قرار دے دیا
ایس آر ایف نے اپنی ایک رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپ کے خلاف کی جانے والی توہین اور تحقیر اور اس کے جواب میں بروکسل کی خاموشی پر بات کرتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ یورپ کو انگشتِ وسطی دکھا رہے ہیں اور یورپ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
یورپ اس مثل کے مطابق چل رہا ہے کہ بولنا چاندی ہےتو خاموشی سونا۔
یوکرین کی سفارت کاری میں یورپی رہنما اس وقت اس بات پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں کہ انہیں کس چیز پر بات کرنی چاہیے اور کس پر خاموش رہنا بہتر ہے۔
بالآخر، یورپی ممالک کی وہ پوزیشن جو انہیں ایک جانب ٹرمپ کے زیرِ قیادت امریکہ اور دوسری جانب ولادیمیر پوتین کے روس کے درمیان لا کھڑا کرتی ہے، پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔ اس صورتحال کا اظہار لندن میں ہونے والی نام نہاد E3—فرانس، برطانیہ اور جرمنی—کی یوکرینی صدر ولودیمیر زلنسکی کے ساتھ ملاقات میں بھی ہوا۔
فرانسیسی صدر امانوئل ماکرون نے اس اجلاس میں کہا کہ وہ یوکرین کے لیے امریکی امن منصوبے پر مشترکہ کام جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اسے یورپی تعاون سے مضبوط کیا جا سکے۔
تاہم، ماکرون نے اس نئی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی پر کوئی ردعمل نہیں دیا جو صرف چار دن قبل امریکہ کی جانب سے جاری کی گئی تھی۔ 29 صفحات پر مشتمل یہ دستاویز شدید تنازع کا باعث بنی ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یورپ اقتصادی، آبادیاتی اور ثقافتی مسائل کے سبب تمدنی تباہی کے دہانے پر ہے، جبکہ امریکہ کو روس کے ساتھ اسٹریٹجک استحکام حاصل کرنا چاہیے۔
یہ حکمتِ عملی یورپی ممالک کے لیے لفظوں میں دیا گیا ٹرمپ کا ایک توہین آمیز پیغام ہے، جو یوکرین کے حوالے سے یورپی سفارت کاری کو بھی چیلنج کرتا ہے۔
یورپی ممالک نے کبھی بھی امریکہ سے ٹکر لینے کی کوشش نہیں کی۔ اگر وہ کبھی امریکی مذاکراتی حکمتِ عملی پر تنقید کرتے بھی ہیں، تو لہجہ نہایت نرم ہوتا ہے، کیونکہ سیاسی اور عسکری دونوں اعتبار سے یورپ کھل کر مخالفت کرنے کے لیے بہت کمزور ہے۔ اس کے علاوہ یورپ کے پاس اب تک کوئی جامع منصوبہ بھی موجود نہیں کہ روس کی یوکرین پر مسلط کردہ جنگ کو کیسے ختم کیا جائے۔
اس دوران کم از کم تین یورپی ممالک سمیت مزید کچھ ریاستوں نے واشنگٹن پر اثر انداز ہونے کی مسلسل کوشش بھی کی۔ انہوں نے لابنگ کی کہ زلنسکی کو مذاکرات میں شامل کیا جائے اور وہ چند خصوصی رعایتیں، جو ابتدائی امریکی منصوبے میں روس کے لیے رکھی گئی تھیں، حذف کی جائیں۔
تاہم نئی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی واضح کرتی ہے کہ ٹرمپ یورپ کو کس قدر غیر اہم سمجھتے ہیں اور یہ کہ یورپ کو اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ وہ اپنا محدود اثر و رسوخ بھی کسی بھی وقت کھو سکتا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرش مرتس نے بھی لندن اجلاس میں اس حکمتِ عملی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور صرف امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان جاری مذاکرات پر توجہ مرکوز رکھی۔
مگر ماکرون اور مرتس دونوں کے لیے اب یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ کیا ٹرمپ اب بھی یورپیوں کی بات سننے کے لیے تیار ہیں؟ یا وہ مکمل طور پر صبر کھو چکے ہیں؟
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا صومالیوں کے خلاف توہین آمیز بیان
ایسی صورتحال میں اگر کسی مرحلے پر یوکرین کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچا بھی جاتا ہے، تو اس بات کا امکان کہ اس سمجھوتے میں یورپی مفادات کا خیال رکھا جائے، روس کی جانب سے یوکرین پر بڑے حملے کے آغاز کے بعد اب تک کی نسبت سب سے کمزور نظر آ رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
شیری رحمان کی غزہ پر فوجی قبضے کے منصوبے کی شدید مذمت
?️ 8 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان
اگست
غزہ کے بارے میں ٹرمپ کے خیالی منصوبے پرسابق صیہونی وزیراعظم کا بیان
?️ 9 فروری 2025سچ خبریں:صیہونی ریاست کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک کا کہنا ہے
فروری
پی ٹی آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی ملک خرم علی خان کا پارٹی چھوڑنے کا اعلان
?️ 28 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی
مئی
ہم نے ایسی جنگ کبھی نہیں دیکھی: گیلنٹ
?️ 29 فروری 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر جنگ یوو گیلنٹ نے کہا کہ ہم
فروری
جولانی غیر ملکی منصوبوں کا ایجنٹ ہے
?️ 26 نومبر 2025 جولانی غیر ملکی منصوبوں کا ایجنٹ ہے ولید الدرویش، سابق رکن
نومبر
اقوام متحدہ نے آنے والے دنوں میں متعدد ممالک میں بحرانی حالات کا انتباہ جاری کردیا
?️ 25 مارچ 2021جنیوا (سچ خبریں) اقوام متحدہ نے آنے والے دنوں میں متعدد ممالک
مارچ
بجلی اپنی معمول پر آگئی
?️ 8 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) کمپنی کے مطابق اس کے زیر انتظام علاقوں
نومبر
سری لنکا کے مستعفی صدر کی وطن واپسی
?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:سری لنکا کے ایک سینئر سکیورٹی عہدہ دار نے جولائی میں
ستمبر