بھارت میں کورونا وائرس کا قہر، دریائے گنگا میں ہر طرف لاشوں کا ڈھیر، لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا

بھارت میں کورونا وائرس کا قہر، دریائے گنگا میں ہر طرف لاشوں کا ڈھیر، لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا

?️

نئی دہلی (سچ خبریں) بھارت میں کورونا وائرس کا شدید قہر جاری ہے اور آئے دن لاکھوں افراد اس وبا میں مبتلا ہورہے ہیں جبکہ ہزاروں افراد اس مہلک وبا سے ہلاک ہورہے ہیں لیکن بھارت کے متعدد علاقوں میں اس وقت شدید خوف و ہراس پھیل گیا جب دریائے گنگا میں تیرتی ہوئی لاشیں دیکھی گئی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ممکنہ طور کورونا سے ہلاک ہونے والے لوگوں کی ہیں جن کے لواحقین کے پاس ان کی آخری رسومات تک پوری کرنے کی جگہ نہیں ہے۔

بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق 11 مئی کو بھارتی ریاست اترپردیش میں دریائے گنگا میں مختلف مقامات پر درجنوں لاشوں کو تیرتے ہوئے دیکھا گیا۔

لاشوں کو گنگا میں تیرتا ہوا دیکھ کر جہاں مختلف علاقوں میں دہشت پھیل گئی، وہیں میڈیا پر خبریں نشر ہونے کے بعد بھارت بھرمیں بھی خوف پھیل گیا، رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریاست اترپردیش کے ضلع غازی پور کے مختلف گائوں کے قریب دریائے گنگا میں لاشوں کو تیرتے ہوئے دیکھا گیا۔

لاشوں کو تیرتے ہوئے دیکھنے کے بعد مقامی افراد نے ضلعی انتظامیہ کو مطلع کیا، جس پر انتظامیہ نے تفتیش شروع کردی ہے کہ تیرتی لاشیں کہاں سے آئیں؟

رپورٹ میں مقامی افراد اور مقامی انتظامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر تیرتی لاشیں دوسری ریاست یا دوسرے ضلع سے گنگا میں بہائی گئی ہوں گی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ مرنے والے تمام افراد کورونا سے چل بسے ہوں گے۔

رپورٹ میں مقامی عہدیداروں اور پوجاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بھارت بھر میں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے باعث ملک بھر میں لاشوں کو چتا دینے کی سامان کی قلت ہوچکی ہے اور شمشان گھاٹوں میں نامکمل انتظامات ہونے کی وجہ سے لوگ لاشوں کو دریائے گنگا میں چھوڑ رہے ہیں۔

اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریاست ہما چل پردیش کے ضلع ہمیرپور کے قریب دریائے جمنا میں بھی لاشوں کو تیرتے ہوئے دیکھا گیا۔

دوسری جانب ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ریاست بہار میں بھی دریائے گنگا کے مختلف مقامات پر لاشوں کو تیرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد علاقے میں خوف پھیل گیا۔

ریاست بہار کے ضلع بکسر سمیت دیگر شہروں کے قریب دریائے گنگا میں متعدد لاشوں کو تیرتے ہوئے دیکھا گیا اور انتظامیہ نے بھی دریائے گنگا میں لاشوں کی موجودگی کی تصدیق دی۔

انتظامی عہدیداروں کے خیال کے مطابق دریائے گنگا میں تیرتی ہوئی لاشیں کورونا سے متاثر ہو سکتی ہیں، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

اسی حوالے سے اسکرول نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دریائے گنگا میں ریاست بہار کے مختلف مقامات پر تیرتی ہوئی لاشوں کی تعداد کے حوالے سے متضاد اطلاعات ہیں اور تیرتی لاشوں کی تعداد 30 سے 150 کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔

دریائے گنگا کے مختلف مقامات پر لاشوں کو تیرتے ہوئے دیکھنے کے بعد مختلف شہروں کی انتظامیہ نے مقدس دریا کی سیکیورٹی بڑھادی ہے جب کہ تیرتی ہوئی لاشوں کو محفوظ انداز میں نکال کر ان کی آخری رسومات ادا کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے۔

عہدیداروں کو یقین ہے کہ دریائے گنگا میں تیرتی ہوئی لاشیں کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی ہوں گی، اس لیے تمام لاشوں کی کورونا ایس او پیز کے تحت آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔

مشہور خبریں۔

بائیڈن اور زیلنسکی کی گفتگو میں کیا طے پایا ؟

?️ 26 اگست 2023سچ خبریں:وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ امریکہ اور

ٹرمپ نے لوگوں کو کانگریس پر حملے کے لیے اکسایا تھا؛ امریکی پولیس افسران کا عدالت میں مقدمہ

?️ 5 جنوری 2022سچ خبریں:تین امریکی پولیس افسران نے سابق امریکی صدر کے ان کے

وفاقی حکومت کانئے ڈیموں کی تعمیر بارے ملکی سطح پر گرینڈ ڈائیلاگ شروع کرنے کافیصلہ

?️ 29 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں ،بارشوں

ترکی میں ملازمین اور کارکنوں کی عام ہڑتال کی وجوہات

?️ 19 اگست 2025سچ خبریں: ملازمین اور مزدور یونینوں نے اجرتوں میں اضافے کے مذاکرات

انگلینڈ میں عام انتخابات تک ایک سال باقی

?️ 8 جون 2023سچ خبریں:برطانوی عام انتخابات میں تقریباً ایک سال باقی ہے پولز بتاتے

پی پی پی، (ن) لیگ پرویز الہٰی کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے دستبردار

?️ 23 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) اپوزیشن جماعتوں نے پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں شدت کی بنیادی وجہ؟

?️ 15 اکتوبر 2023سچ خبریں:مصر کے وزیر خارجہ سامح الشکری نے ہفتے کے روز کہا

مستقبل کی صنعتوں پر توجہ دینے کی ضرورت  ہے: وزیر خارجہ

?️ 27 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقتصادی سفارت کاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے