ایرلینڈ میں صہیونی مصنوعات پر پابندی 

ایرلینڈ میں صہیونی مصنوعات پر پابندی 

?️

سچ خبریں:ایرلینڈ کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم صہیونی بستیوں میں تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی ہوگی، یہ فیصلہ اسرائیل کے غزہ میں جاری نسل کشی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

 صیہونی اخبار اسرائیل ہیوم کی رپورٹ کے مطابق، آئرلینڈ کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم صہیونی بستیاں (یہودی سیٹلمنٹس) جہاں مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، ان علاقوں سے کسی بھی قسم کی درآمد کو ممنوع قرار دیا جائے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی غزہ میں جاری نسل کشی پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، منگل کے روز آئرش پارلیمنٹ ایک ایسا قانون منظور کرے گی جس کے تحت ان بستیوں سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر پابندی لگائی جائے گی اور ان کی خرید و فروخت کو قانونی جرم تصور کیا جائے گا۔
اس سے قبل 26 جون کو، آئرلینڈ کے وزیراعظم مایکل مارٹن نے برسلز میں یورپی کونسل کے اجلاس کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ:
 اسرائیلی وزراء ایتمار بن گویر (وزیر داخلہ) اور بیتسلئیل سموٹریچ (وزیر خزانہ) کو فلسطینی علاقوں میں تشدد کو ہوا دینے پر یورپی پابندیوں کا سامنا کرنا چاہیے۔
 یورپی یونین کو اسرائیل کے ساتھ معاہدہ معطّل کرنے جیسے سخت اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کو لاگو کیا جا سکے۔
اس فیصلے پر اسرائیلی حلقوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے، خاص طور پر صہیونی بستیاں قائم کرنے والے حلقے اس پر شدید برہم ہیں۔
یوسی داگان، مغربی کنارے کی صہیونی سیٹلمنٹس کونسل کے سربراہ نے امریکہ کے اعلیٰ حکام اور کانگریس ارکان کو خط لکھا جس میں آئرلینڈ کے فیصلے کو ہولوکاسٹ کے بعد پہلا یہود دشمن قانون قرار دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر آئرلینڈ یہ قانون منظور کرتا ہے تو امریکہ آئرلینڈ پر بھاری تجارتی محصولات (ٹیکس) عائد کرے۔ یہ اقدام اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی بائیکاٹ کی پالیسی کا حصہ ہے اور آئرلینڈ پہلا یورپی ملک ہے جو ملکی سطح پر اس کو لاگو کر رہا ہے۔
داگان نے امریکی سفیر مائیک ہاکبی کے اس دعوے کا حوالہ دیا کہ مغربی کنارہ مقبوضہ علاقہ نہیں اور وہاں کی بستیوں پر کوئی بین الاقوامی قانونی اعتراض نہیں،اس بنا پر، داگان نے آئرش قانون کو امریکی مؤقف کے خلاف اور یہود دشمن قرار دیا۔
واضح رہے کہ یورپی یونین نے سال 2000 میں اسرائیل کے ساتھ ایک جامع معاہدہ کیا تھا جس میں سیاسی، معاشی اور ثقافتی تعاون کی شقیں شامل تھیں۔
تاہم اس معاہدے کی دوسری شق واضح کرتی ہے کہ یہ تعاون صرف اسی صورت میں جاری رہے گا جب دونوں فریق جمہوریت اور انسانی حقوق کے اصولوں کی پابندی کریں۔
اب جب کہ اسرائیل کی غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شدت اختیار کر چکی ہیں، اس معاہدے پر نظر ثانی کی مانگ تیز ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں اسپین، بیلجیم، آئرلینڈ اور سلووینیا جیسے ممالک نے بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدہ معطل کیا جائے یا اس پر فوری نظر ثانی کی جائے۔
یورپی یونین کی وزرائے خارجہ کونسل کے حالیہ اجلاس میں نیدرلینڈز نے باقاعدہ طور پر معاہدے کے انسانی حقوق کے سیکشن پر عملدرآمد کے لیے تحقیقات کی شروعات کا مطالبہ کیا، جسے متعدد ممالک کی سفارتی حمایت حاصل ہوئی۔

مشہور خبریں۔

فیس بک اور انسٹاگرام کے خلاف یورپی کمیشن کی کارروائی

?️ 2 مئی 2024سچ خبریں: یورپی یونین کمیشن نے میٹا کمپنی کا کیس دوبارہ کھول دیا

وزیر اعظم نے گلکت بلستان کے لئے تاریخی پیکیج کا اعلان کیا

?️ 31 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم نے گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے تاریخی

افغانستان میں امریکی ڈرون حملہ ایک انسانی تباہی ہے:امریکی سینیٹر

?️ 22 ستمبر 2021سچ خبریں:امریکی سینیٹر برنی سینڈرز جو 2021 کے امریکی صدارتی انتخابات میں

آم کی تازگی معلوم کرنے کا آسان طریقہ سامنے آگیا

?️ 10 مارچ 2021ٹوکیو(سچ خبریں) پھلوں کی تازگی معلوم کرنا ایک  حد تک کافی مشکل

نیتن یاہو کی نوزائیدہ کابینہ کے خلاف صیہونی سڑکوں پر ہنگامہ

?️ 20 جنوری 2023سچ خبریں:بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ کے ہاتھوں عدالتی نظام کی طاقت

المعمدانی ہسپتال پر حملہ کس نے کیا؟نیویارک ٹائمز کا اعتراف

?️ 26 اکتوبر 2023سچ خبریں: نیویارک ٹائمز اخبار نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے

خطہ میں استحکام کیسے ہوگا؟ ایرانی وزیر خارجہ اور وزیراعظم پاکستان کی تبادلہ خیال

?️ 17 جنوری 2024سچ خبریں: ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقات

 غزہ کی جنگ نے اسرائیل کا حقیقی چہرہ بے نقاب کر دیا

?️ 6 ستمبر 2025 غزہ کی جنگ نے اسرائیل کا حقیقی چہرہ بے نقاب کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے