?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جنگ کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ نے اس کے سیاسی، عسکری، اقتصادی اور سفارتی اثرات کا جائزہ لیا۔ وال اسٹریٹ جرنل، گارڈین، روئٹرز، الجزیرہ اور المیادین نے جنگ کے نتائج، ایران امریکہ مذاکرات، چین کے کردار، آبنائے ہرمز اور لبنان کی صورتحال پر مختلف تجزیے پیش کیے۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہ ہوسکے بلکہ مغربی حکام اور امریکی ذرائع ابلاغ کے اعتراف کے مطابق حملہ آوروں کو اسٹریٹجک تعطل، سیاسی مشکلات اور میدان جنگ میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ جنگ وسیع حملوں اور عام شہریوں، بالخصوص معصوم طلبہ کی ہلاکتوں سے شروع ہوئی اور بہت جلد انسانی، سلامتی اور اقتصادی بحران کی صورت اختیار کر گئی، جس پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے مختلف زاویوں سے ردعمل ظاہر کیا۔
دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے اپنی اپنی پالیسیوں اور نقطۂ نظر کے مطابق اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورتحال اور اس کے ممکنہ مستقبل کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے ساتھ ایران کے خلاف دوبارہ مکمل جنگ شروع کرنے کے امکان پر غور کیا، تاہم بالآخر فی الحال سفارتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سطحی مشاورت اس سوال پر مرکوز رہی کہ آیا امریکہ مذاکرات ترک کرکے دوبارہ وسیع فوجی حملے شروع کرے یا نہیں۔ بعض امریکی حکام اس اقدام کو "کام مکمل کرنا” قرار دے رہے تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ ان کے خیال میں مکمل جنگ کا نیا مرحلہ سفارتی عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے امریکی امکانات کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔
گارڈین نے ایشیا گروپ کے تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے حوالے سے لکھا کہ مشرق وسطیٰ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ کا سب سے بڑا فائدہ چین کو پہنچا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین نے ایک اعشاریہ چار ٹیراواٹ قابل تجدید توانائی کی عملی استعداد اور نوے سے ایک سو دس دن تک خام تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کی بدولت توانائی کے ابتدائی بحران کو اپنے تمام علاقائی حریفوں سے بہتر انداز میں سنبھالا۔
گارڈین نے مزید لکھا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران نے دنیا کے مختلف ممالک کو صاف توانائی کی ترقی میں تیزی لانے پر مجبور کیا، جس کا براہ راست فائدہ چین کو ہوا، کیونکہ شمسی اور صاف توانائی کی عالمی سپلائی میں اس کا غلبہ قائم ہے۔
رپورٹ کے مطابق مئی کے مہینے میں چین سے برقی گاڑیوں کی برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک سو دس فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں، جبکہ اپریل میں شمسی توانائی کے آلات کی برآمدات میں ساٹھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سفارتی سطح پر بھی چین نے جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے امریکہ کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا۔
تاہم گارڈین میں شامل تجزیہ کاروں نے بعض احتیاطی پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی۔ سنگاپور کی راجاراتنام یونیورسٹی سے وابستہ ڈریو تھامپسن کا کہنا تھا کہ چین امریکہ کی جگہ مشرق وسطیٰ کا سلامتی فراہم کرنے والا غالب ملک بننے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
اٹلانٹک کونسل کے تجزیہ کار وین ٹی سونگ کے مطابق اس بحران نے چین کو تائیوان کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے مزید محتاط بنا دیا ہے کیونکہ اس سے دشمنانہ سمندری راستوں میں نقل و حمل کی مشکلات نمایاں ہوئیں۔
رپورٹ کے آخر میں کہا گیا کہ بیجنگ اس بحران کے خطرات کو وجودی خطرات کے بجائے ایسے چیلنجز سمجھتا ہے جنہیں سنبھالا جا سکتا ہے اور جن سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
روئٹرز نے اپنے تجزیے میں خبردار کیا کہ کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل کی بحالی کو مستقل امن تصور نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ صرف امریکی انتخابات سے پہلے کا ایک عارضی وقفہ ہے۔
تجزیے کے مطابق عارضی معاہدے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی اور سیاسی دباؤ، خصوصاً نومبر کے وسط مدتی انتخابات کی قربت نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے سامنے اہم رعایتیں دینے پر مجبور کیا۔
روئٹرز نے مزید لکھا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی، تاہم انتخابات کے بعد طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے۔ اگر ریپبلکن جماعت کو شکست ہوئی تو ممکن ہے کہ ٹرمپ خارجہ پالیسی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے دوبارہ فوجی دباؤ بڑھانے کی کوشش کریں۔
رپورٹ کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیے بغیر بھی صرف منڈی میں تشویش پیدا کرکے عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
روئٹرز نے نتیجہ اخذ کیا کہ بڑے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ وہ قابل تجدید توانائی اور جوہری توانائی میں سرمایہ کاری کرکے درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کم کریں۔
اگرچہ اس سے چین پر سپلائی کا انحصار بڑھے گا، لیکن اس کی نوعیت مختلف ہوگی، کیونکہ تیل یا گیس کی فراہمی رکنے سے ریفائنریاں فوری متاثر ہوتی ہیں، جبکہ اگر چین شمسی آلات کی برآمد محدود بھی کرے تو پہلے سے قائم قابل تجدید توانائی کے منصوبے اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔
عربی ذرائع ابلاغ
الجزیرہ نے اپنے ایک تجزیہ میں جائزہ لیا کہ آیا ایران کے منجمد مالی وسائل کی رہائی کا مسئلہ ایران اور امریکہ کے درمیان موجود مفاہمت کو متاثر کرسکتا ہے یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق منگل کے روز دوحہ میں قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان فنی مذاکرات ہوئے، جن میں دو بنیادی موضوعات، یعنی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سلامتی اور ایران کے منجمد اثاثے، زیر بحث آئے۔
تجزیہ کے مطابق ایران کو توقع تھی کہ مفاہمت پر دستخط کے بعد اسے اپنے تقریباً بارہ ارب ڈالر کے منجمد اثاثے مل جائیں گے، تاہم قطر نے واضح کیا کہ ان رقوم کی ادائیگی مذاکرات کی پیش رفت سے مشروط ہوگی۔
الجزیرہ کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اثاثوں کی رہائی میں تاخیر ایران کے اندر حکومتی دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہے اور معاہدے کے مخالفین کو تقویت دے سکتی ہے، جس سے دوبارہ کشیدگی بڑھنے اور حتیٰ کہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش کا امکان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہوگی کیونکہ بحران کی واپسی پابندیوں اور جنگ کے خطرات کو دوبارہ بڑھا سکتی ہے۔
تجزیہ میں مزید کہا گیا کہ مذاکرات صرف منجمد اثاثوں تک محدود نہیں بلکہ آبنائے ہرمز میں ایران کے کردار، اثر و رسوخ اور خطے میں طاقت کے توازن سے بھی وابستہ ہیں۔ بعض تجزیہ کار موجودہ مفاہمت کو نہایت نازک قرار دیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر دونوں فریق حقیقی رعایتیں نہ دیں تو سفارتی عمل ناکام اور کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
لبنان کی عوامی تحریک کے سربراہ نجاح واکیم نے المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنان اور صہیونی حکومت کے درمیان ہونے والا معاہدہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا اور جس حکومت نے اس پر دستخط کیے ہیں وہ بھی اس کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ اسرائیل کے مفاد میں ہے اور اس کا مقصد لبنان کو تقسیم کرنا، ریاستی اداروں اور فوج کو کمزور کرنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لبنانی فوج اندرونی اختلافات کا شکار ہوئی تو نہ ریاست باقی رہے گی اور نہ ہی ملک۔ انہوں نے لبنانی فوج کی نگرانی میں امریکہ اور اسرائیل کے کردار کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے ایک قسم کی سرپرستی قرار دیا۔
نجاح واکیم نے لبنان میں مزاحمت کے کردار کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی بیداری اور مزاحمتی قوت کی بدولت اسرائیل بالآخر جنوبی لبنان سے پسپا ہونے پر مجبور ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کے اندر اختلافات پیدا کرنے اور ایک امریکی۔اسرائیلی منصوبے کے تحت ملک کے سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کا خاتمہ لبنان کے خلاف جنگ کے خاتمے سے منسلک تھا اور اس سلسلے میں انہوں نے ایران کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ان کے مطابق لبنان میں مختلف سیاسی اور مذہبی وابستگی رکھنے والے بہت سے لوگ اس معاہدے کو ملک کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے اس کے خلاف مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔


مشہور خبریں۔
امریکی پارلیمنٹ ممبرکا دو دہائیوں تک افغان شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کا مطالبہ
?️ 22 ستمبر 2021سچ خبریں:امریکی فوج کی جانب سے اگست میں کابل میں مہلک ڈرون
ستمبر
یمنی فوج کا داعش کے ٹھکانوں پر میزائل حملہ
?️ 14 جنوری 2022سچ خبریں:یمنی فوج کے ترجمان یحیی سریع نے صوبہ شبوہ اور مأرب
جنوری
امریکی سینیٹر کا دورۂ تائیوان چین کی خودمختاری کی خلاف ورزی
?️ 28 اگست 2022سچ خبریں:چینی حکومت کے امور تائیوان دفتر کے ترجمان نے امریکی سنیٹر
اگست
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، دفاعی و سیکیورٹی تعاون مضبوط بنانے کا عزم
?️ 20 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سعودی عرب کے
مارچ
پیلی واسکٹوں نے اڑایا پیرس کا مزاق
?️ 21 نومبر 2021سچ خبریں: فرانسیسی پیلی جیکٹ تحریک کے پہلے مظاہرے نومبر 2018 میں ایندھن
نومبر
دفاع ناقابل تسخیر بنانے کا دن ’یوم تکبیر‘ آج منایا جا رہا ہے
?️ 28 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) 1998 میں آج کے دن کیے گئے کامیاب
مئی
غزہ جنگ بندی کے بارے میں ہونے والے مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال
?️ 29 فروری 2024سچ خبریں: صہیونی آرمی ریڈیو نے رپورٹ دی ہے کہ قطر میں
فروری
کنگنا رناوت نے سیاست میں آنےکا اشارہ دے دیا
?️ 11 ستمبر 2021ممبئی (سچ خبریں) بالی ووڈ کی متنازع اداکارہ کنگنا رناوت نےسیاست میں
ستمبر