?️
سچ خبریں: حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے ایک سال سے زائد عرصے کے بعد، کریات شمونہ کے صہیونی آباد کاروں کے سینکڑوں دوسرے خاندانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ قصبہ چھوڑنے کے خواہاں ہیں۔
حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے ایک سال سے زائد عرصے کے بعد، کریات شمونہ کے صہیونی آباد کاروں کے سینکڑوں دوسرے خاندانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ قصبہ چھوڑنے کے خواہاں ہیں۔
صیہونی حکومت کے چینل 12 ٹی وی نے اس قصبے جو مقبوضہ فلسطین کے شمال میں واقع ہے کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے: یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک سال سے زائد عرصے کی جنگ بندی کے باوجود کوئی بھی آباد کار وہاں رہنے کو تیار نہیں، جب کہ نوجوانوں میں تشویش اور خوف بہت زیادہ ہے۔
اس رپورٹ کے ایک حصے میں کہا گیا ہے: یہ صہیونی بستی، جو شمال مقبوضہ فلسطین کی سب سے بڑی بستیوں میں سے ایک ہے، اس کے 30 فیصد باشندے جو 7 اکتوبر 2023 سے پہلے وہاں مقیم تھے، اب اس میں واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تو صرف شروعات ہے اور سینکڑوں دیگر آباد کار خاندان اس سے پہلے ہی اپنے معاملات طے کرنے کے لیے یہاں سے واپس آچکے ہیں۔
اس بستی میں رہنے والوں میں سے ایک، موریل پیرپیٹر کہتے ہیں؛ "کریات شیمونہ ایک بھوت شہر بنتا جا رہا ہے، شام 4 بجے کے بعد آپ کو وہاں زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے، تمام نوجوان بستی چھوڑ چکے ہیں اور یہ تقریباً کہا جا سکتا ہے کہ وہاں مکمل طور پر بہت کم خاندان رہتے ہیں۔”
اسرائیلی چینل 12 ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر نے کہا: "اس بستی میں شاپنگ مالز اور اسٹورز مکمل طور پر کام کرنے سے بہت دور ہیں، یہاں تک کہ جو لوگ بستی چھوڑنے کے طویل عرصے کے بعد واپس آئے ہیں ان کے پاس چار بجے کے بعد گھروں میں بیٹھنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔”
پیر پیٹر، جو بستی میں ایک اسٹور کے مالک ہیں، نے کہا: "ہم جتنا آگے جائیں گے، اس بستی کی صورت حال اتنی ہی خراب ہوتی جائے گی۔ فروخت اتنی خراب ہے کہ مجھے اپنے اکلوتے ملازم کو برطرف کرنا پڑا اور اسٹور کو اکیلا چھوڑنا پڑا۔”
ایک اور آباد کار نے کہا: "اس بستی میں تقریباً کوئی نوجوان نہیں بچا ہے۔ سادہ الفاظ میں جو لوگ بستی میں واپس آئے ہیں وہ یا تو بوڑھے ہیں یا معاشرے کے پسماندہ اور نچلے طبقے سے، جن کی زندگی معاشی حالات سے بہت متاثر ہوئی ہے۔”
قصبے کی انتظامیہ کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق قصبے کی 30 فیصد آبادی نے اب وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے اور میونسپلٹی کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق قصبے کی 7,660 جنگ سے پہلے کی آبادی یا تو واپس نہیں آئی یا چھوڑنے کا فیصلہ کرچکی ہے، جب کہ حکام کو خدشہ ہے کہ مستقبل قریب میں اس تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
شہر کے حکام تسلیم کرتے ہیں کہ "اگر متعلقہ ادارے اگلے تعلیمی سال کے آغاز تک اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کر پاتے ہیں، تو کریات شمونہ میں کوئی خاندان باقی نہیں رہے گا۔”
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود گردشی قرضے بڑھ گئے
?️ 3 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) بجلی کی قیمتوں میں ماہانہ، سہ ماہی اور
اکتوبر
صیہونیوں کی فلسطینیوں کے خلاف ایک اور مکروہ حقیقت منظر عام پر
?️ 24 مئی 2025سچ خبریں: غزہ کی جنگ کے آغاز سے ہی اسرائیلی فوج کے
مئی
مسئلہ کشمیر صرف کشمیریوں اور پاکستان کا نہیں بلکہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے، یوسف الدوبے
?️ 12 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلامی تعاون تنظیم( او آئی سی) کے سیکرٹری
اکتوبر
تحریک تحفظ آئین کی سربراہی مولانا فضل الرحمان کو ملنے کا امکان
?️ 21 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) تحریک تحفظ آئین کی سربراہی مولانا فضل الرحمان
نومبر
حزب اختلاف اراکین کی وزیراعلیٰ پنجاب ملاقات
?️ 22 دسمبر 2021لاہور (سچ خبریں) تین لیگی اراکین نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے
دسمبر
اسرائیل لبنان میں 5 نئے فوجی اڈے تعمیر کرنے کا اعلان
?️ 14 فروری 2025 سچ خبریں:صہیونی ذرائع نے اسرائیلی فوج کے لبنان کے جنوبی علاقوں
فروری
امریکی تھنک ٹینکس کے ساتھ ترک ریاستوں کی تنظیم کے تعلقات کی مضبوطی
?️ 21 دسمبر 2025سچ خبریں: گزشتہ ہفتے کے پیر اور منگل کے روز، ترک ریاستوں کی
دسمبر
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مالی سال 2025 میں 3 ارب 80 کروڑ ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئیں
?️ 19 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مالی سال 2025
جولائی