غزہ میں امدادی مراکز موت کے جال بن گئے، انسانی حقوق کی آڑ میں صیہونی ظلم

انسانی حقوق

?️

غزہ میں امدادی مراکز موت کے جال بن گئے، انسانی حقوق کی آڑ میں صیہونی ظلم
غزہ میں خوراک کی تقسیم کے نام پر قائم کیے گئے امدادی مراکز، اب فلسطینیوں کے لیے زندگی کی امید کے بجائے "موت کے جال” بن چکے ہیں۔ الجزیرہ کی تحقیقاتی رپورٹ اور تازہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ کے زیرانتظام ان مراکز میں پہنچنے والے بھوکے فلسطینی اکثر گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں یا زخمی حالت میں واپس آتے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، غزہ کے باسی بھوک سے مجبور ہو کر خوراک کے حصول کے لیے خطرناک راستے اختیار کرتے ہیں۔ ان کے لیے صرف چند راستے بچے ہیں، جن کے ذریعے وہ امریکی-اسرائیلی امدادی مراکز تک پہنچتے ہیں، لیکن یہاں ان کا سامنا نہ روٹی سے ہوتا ہے اور نہ امن سے، بلکہ یہ مقامات عملی طور پر "کشت گاہیں” بن چکے ہیں۔
غزہ کے جنوب میں واقع الشاکوش نامی علاقے میں قائم ایک امدادی مرکز تک پہنچنے کے لیے عوام کو گاڑی یا گدھا گاڑی کے ذریعے محدود فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ لوگ امداد کی تاریخ سے ایک دن پہلے سے آ کر انتظار کرتے ہیں، اور گرمی، پیاس، اور صیہونی فائرنگ کے خوف میں الجورہ نامی ریت کے گڑھے میں پناہ لیتے ہیں۔
امداد کا آغاز یا نشانہ؟
امدادی عمل کا آغاز اسرائیلی ڈرون کی جانب سے اشارہ ملنے پر ہوتا ہے، جس کے بعد عوام مرکز کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ لیکن یہ دوڑ اکثر ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ 14 جولائی کو صیہونی افواج نے الجورہ میں امداد کے انتظار میں کھڑے عوام پر حملہ کیا، جس میں درجنوں افراد شہید و زخمی ہوئے۔ 12 جولائی کو 34 افراد کو خوراک کے حصول کی کوشش میں شہید کیا گیا۔
مرکزِ امداد یا مرکزِ ظلم؟
حتیٰ کہ امدادی مرکز میں پہنچنے والے افراد بھی محفوظ نہیں۔ رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوج نے ان مراکز کے قریب پہنچنے والے فلسطینیوں پر فلفل اسپرے اور براہِ راست فائرنگ کی، جبکہ اندر امداد کی تقسیم کا کوئی مربوط نظام نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے افراتفری، جھگڑے، اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں۔
امدادی عمل کی قیمت:فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق، صرف 24 گھنٹوں میں 31 فلسطینی خوراک کی تقسیم کے دوران شہید جبکہ 107 سے زائد زخمی ہوئے۔ اب تک اس امدادی عمل میں 922 افراد شہید اور 5,861 زخمی ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی تشویش:اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے 93 فیصد شہری خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں اور ہر پانچ میں سے ایک شخص قحط کے دہانے پر ہے۔
سیاسی مفادات کی بھوک ماری:اسرائیل نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت ایک جعلی غزہ ہیومینیٹیرین انسٹیٹیوٹ قائم کیا ہے، جس کے ذریعے وہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کو نظرانداز کر کے امداد کو صرف مخصوص علاقوں تک محدود کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے اہلکار "تام فلیچر” کے مطابق، یہ ادارہ ایک سیاسی پردہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنا اور علاقے میں اسرائیلی کنٹرول کو بڑھانا ہے۔
نتیجہ:

مشہور خبریں۔

ہم تل ابیب کی جارحیت کا اس طرح جواب دیں گے کہ اسے اس کی توقع نہیں ہوگی

?️ 29 اگست 2023تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے رکن نے مزاحمتی کمانڈروں کے خلاف

حزب اللہ کے خلاف سازش کے پہلو

?️ 29 اپریل 2025سچ خبریں: عبدالباری عطوان، معروف فلسطینی تجزیہ کار، نے اس الیکٹرانک اخبار

حماس نے قابض افواج کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کیا

?️ 3 ستمبر 2022سچ خبریں:    حماس تحریک نے ہیبرون کے مشرق میں کریات اربع

امریکہ غزہ میں انسانی امداد کے منصوبے سے دستبردار ہو گیا

?️ 4 جون 2025سچ خبریں: امریکہ نے نام نہاد غزہ ہیومینٹیرین ایڈ فاؤنڈیشن سے دستبرداری

سوتے ہوئے بھی آنکھیں کھلی رکھنا؛صیہونی اخبار کا صیہونیوں کو مشورہ

?️ 9 فروری 2025سچ خبریں:صیہونی اخبار نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر

خیبرپختونخوا: حکومت نے ٹک ٹاک پر پابندی کی مخالفت کردی

?️ 25 مارچ 2021پشاور(سچ خبریں) سنہ 2020 کے آخر میں ٹک ٹاک سال کی سب

صوبہ بلوچستان میں بم دھماکہ

?️ 26 جنوری 2025سچ خبریں:پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں ایک زور دار دھماکے

ی آئی اے پرواز منزل پر پہنچنے سے قبل ہی اتار لی گئی

?️ 27 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) عملے کی ڈیوٹی کا وقت ختم ہونے پر پی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے